پیر , 30 نومبر 2020
ensdur

عید میلاد النبی اور سنت نبوی ﷺ | لاریب مشتاق

تحریر: لاریب مشتاق

12 ربیع الاول عید میلاد النبی صلی الله علیه وسلم__ہر سال مسلمان مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ مناتے ہیں. مگر بہت سے سوالات میرے ذہن میں ہیں.. یہ ایک الگ بحث ہے کہ یہ دن منانا چاہیے یا نہیں مگر کیا ہم جس ولولے اور جوش و جنون سے اس دن کو مناتے ہیں بلکل اسی طرح سے کیا ہم سنت پر عمل پیرا ہیں بھی یا نہیں؟
یہ وہ سوال ہے جو آج کے دن کی مناسبت سے میرے ذہن میں بار بار گردش کر رہا ہے.. کل میں مولانا طارق جمیل صاحب کا بیان سن رہی تھی. بڑی پیاری بات انہوں نے کی وہ بات میرے دل. کو لگی. بقول ان کے کہ ہم مسلمان صرف ربیع الاول کے بارہ دن ہی عاشق رسول صلی الله علیه وسلم ہیں اس کے بعد ہم بھول جاتے ہیں
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی.
آج بہت چھوٹی چھوٹی باتوں سے آغاز کرتی ہوں. پانی بیٹھ کر پینا سنت ہے مگر میرے سمیت اس سنت پر کوئی عمل پیرا نہیں ہوتا. کھانے سے پہلے بسم اللہ اور کھانے کے بعد الحمدللہ کہنا سنت ہے مگر ہم کھانے کی خوشبو اور ذائقہ میں اس قدر مگن ہو جاتے ہیں کہ سنت ہی فراموش کر دیتے ہیں
حضرت محمد صلی الله علیه وسلم کا ارشاد ہے
الراشی والمرتشی کلاھما فی النار
کہ رشوت لینے اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں
مگر آج پاکستان رشوت خوروں کی جنت بن چکا ہے…. لا حولہ ولا قوۃ الا باللہ
آج کسی تعلیمی ادارے میں داخلہ سے لیکر نوکری تک اور پھر ترقی تک کا سفر سب رشوت پر ہے. کیونکہ ہم عاشقان رسول صلی الله علیه وسلم ہیں
حضرت محمد صلی الله علیه وسلم کا ارشاد ہے
صفائی نصف ایمان ہے
مگر یہاں ناں دل صاف ہیں نہ ہی ہمارا ماحول. جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر اور ان میں سے اٹھتی بدبو واقعی ہمارے منہ پر طمانچہ مار رہے ہوتے ہیں کہ ہم عاشقان رسول صلی الله علیه وسلم ہیں
علم اور تعلیم کے بارے میں لاتعداد احادیث ہمیں ملتی ہیں مگر آج پاکستان میں شرح خواندگی دیکھ لیں 40 فیصد ہے. یعنی کہ ہم اس معاملے پر بھی سنت رسول صلی الله علیه وسلم کو فراموش کر بیٹھے ہیں
والدین کے حقوق و فرائض، اولاد کے حقوق و فرائض، زوجین کے حقوق و فرائض سے ہم سب نالاں ہیں مگر بارہ ربیع الاول کو ہم نے عاشقان رسول صلی الله علیه وسلم بن کر دکھانا ہوتا ہے
اسلام ایک ایسا دین ہے جو کسی کو دکھ، تکلیف اور نقصان نہ پہنچانے کا حکم دیتا ہے اور اس سلسلہ میں اگر ہم حضرت محمد صلی الله علیه وسلم کی حیات طیبہ کا مطالعہ کریں تو بہت سے واقعات ایسے ملیں گے جس میں دکھ، تکلیف اور نقصان دینے کی نفی کی گئی ہو مگر ہم یہاں دوسروں کی زندگیاں برباد کرنے میں مصروف عمل ہیں اب جلوسوں کی ہی مثال لے لیں. جلوسوں کی زد میں گھنٹوں ٹریفک بلاک ہونا اور گاڑیوں کی لمبی قطاروں کے درمیان ایمبولینس کا پھنسنا… کیا ہم سنت پر عمل پیرا ہیں؟
آج میرے ملک میں برائیاں عام ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ سنت رسول صلی الله علیه وسلم سے انحراف کرنا ہے مگر ہم یہ بات سمجھتے ہی نہیں. نماز سنت ہے ہم وہ نہیں پڑھتے رمضان کے روزے سنت اور فرض ہیں مگر ہماری قوم روضے نہیں رکھتی اور ان سے بچنے کیلئے مختلف بہانے تلاش کرتی ہے. انصاف کرنا سنت ہے مگر آج کیوں مقدمات عدالتوں میں التواء کا شکار ہیں کیوں مقدمات کے فیصلے نہیں سناءے جاتے کیونکہ ہم نے سنت سے رخ موڑ لیا ہے اور ہمیں علم ہی نہیں کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں
سود کو اللہ اور سنت رسول صلی الله علیه وسلم نے حرام قرار دیا ہے مگر آج ہمارا معاشی نظام دیکھ لیں وہ چلتا ہی سود پر ہے افسوس اس بات پر بھی ہم عمل پیرا نہیں ہیں. حکومتی نظام کی بات کی جائے تو اگر ہم یا ہمارے حکمران آج سنت نبوی صلی الله علیه وسلم پر عملدرآمد کرتے تو آج پاکستان کا یہ حال نہ ہوتا

ہمیں علم ہی نہیں کہ اس دن کو منانے کا اصل مقصد کیا ہے اور اسے ہم کیسے منائیں؟
سنت نبوی صلی الله علیه وسلم ہمارے لیے زندگی گزارنے کے اصول ہے لیکن ہم اس پر عمل ہی نہیں کرتے ہر طبقہ کا ہر ادارے کا الگ نظام ہے سنت نبوی صلی الله علیه وسلم کی روشنی میں مگر ہم. سب فراموش کر کے بارہ ربیع الاول کے آنے کا انتظار کرتے ہیں
سب سے پہلے تو بارہ ربیع الاول کو والدین کا فرض بنتا ہے کہ بچوں کو صبح سویرے اٹھا کر سنت کے مطابق دن کا آغاز کروائیں. اس کے بعد حضرت محمد صلی الله علیه وسلم کی حیات مبارکہ میں سے واقعات سنائیں جاءیں تاکہ بچوں کے دلوں میں میں اسلام کے بارے میں پڑھنے کی جستجو پیدا ہو. والدین کا یہ فرض بنتا ہے کہ بچوں کو سجتی سے سنت نبوی صلی الله علیه وسلم پر عمل کرایا جائے
پھر دعا کی جائے کہ اللہ ہمیں حضرت محمد صلی الله علیه وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے آمین
عشق کی پہلی شرط وفا ہوتی پے اور اگر ہم آج رسول اکرم صلی الله علیه وسلم کے عاشق ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو کیا ہم وفادار ہیں نہیں بلکل. نہیں کیونکہ ہم ان کے احکامات کو بالائے طاق رکھ کر اپنی ہی دنیا میں مصروف ہو چکے ہیں
اس تحریر کو لکھنے کا یہ مقصد نہیں کہ ہم یہ عید میلاد النبی
صلی الله علیه وسلم نہ منائیں بلکہ یہ ہے کہ اگر ہم سنت پر عمل پیرا ہوں تو ہمارے لیے ہر دن عید میلاد النبی صلی الله علیه وسلم ہے اور ہر مہینہ بارہ ربیع الاول ہے اور اس طرح کرنے سے ہمارے ملک اور قوم کے مسائل حل ہو جائیں گے.

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

اللہ ہمیں سنت نبوی صلی الله علیه وسلم پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

سابق وزیراعظم میر ظفراللہ خان جمالی راولپنڈی میں انتقال کرگئے

سابق وزیراعظم پاکستان میر ظفراللہ خان جمالی انتقال کرگئے۔ میر ظفراللہ خان جمالی دل کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے