منگل , 22 ستمبر 2020
ensdur

عورت سب جانتی ہے | امر فیاض برڑو

تحریر: امر فیاض برڑو

شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنے رسالو کے سُر لِیلا چنیسر میں ایک شعر فرمایا ہے:

پُوچا ڏِٺَمِ پـيرَ، ڍَڪَڻَ مٿي ڍولَ جا؛

مون ڀانيو تَنهِن ويرَ، ڪوجِھي ڪَندو پَرِيئَڙِي.

سلیس اردو میں ایسے پڑھا جائے گا کہ:

پُوچا ڈِتھم پَیر، ڈھکن مَتھے ڈھول جَا

مُون بَھانیَو تنہِن وَیر، کوجِھی کَندو پِریتڑی!

(اردو ترجمہ: ڈھیلے پائوں ڈھکن پر، دیکھے میں نے ڈھولے کے، جان لیا اس دم کہ، کیا خاگ ہوگا سنجوگ اس سے!)

منظر کچھ یوں ہے کہ شادی والی رات مختلف رسومات ہوتی ہیں، وادی سندھ میں یہ رسم اب بھی دائم و قائم ہے کہ دولہا بارات لیکر جب دلہن کے کمرے میں آتا ہے تب دلہن کی بہن یا کوئی بھی رشتیدار دروازے کے پاس مٹکی کا ڈھکن (جو بھی مٹی کا ہی بنا ہوتا ہے اور آگ سے گذار کر اسے سخت کیا جاتا ہے مٹکی کی طرح) وہ الٹا رکھا جاتا ہے۔ دولہا اس ڈھکن کو اپنا پائوں اٹھا کر ایک چوٹ سے توڑتا ہے۔ اگر ڈھکن ٹوٹ جاتا ہے تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ دولہے میں جان ہے۔ اور اگر نہیں ٹوٹتا تو، سب یہی سمجھ جاتے ہیں کہ دولہا بس ایویں ہی ہے۔

تو یہ سارا منظر اب دلہن خود دیکھ رہی اور کہ رہی ہے کہ: “میں نے دیکھا ہے کہ میرے ساجنا کی چوٹ سے ڈھکن نہیں ٹوٹا! اس کے پائوں بہت ڈھیلے ہیں، اس میں کوئی طاقت نہیں ہے۔ میں تو اس ہی وقت جان گئی کہ مجھ سے کیا خاک ملن کرے گا!”

اب آپ مندرجہ بالا واقعے کو ایک نہیں لاکھ بار روحانی برقعے پہنائو، یہ سب آپ پر انحصار ہے، لیکن کیا اس حقیقت سے آپ انکار کرسکتے ہیں کہ یہ لطیف ترین احساس جس پر ہزاروں نہیں، لاکھوں نہیں، اربہا اربہا انسانوں کی امیدیں وابستہ ہیں! یہاں سب کے سب چاہتے ہیں کہ ان کی نسل اعلیٰ مرتبے کے ساتھ جیتی رہے، لیکن کیسے؟ کیا بے طاقت، بے ثمر، بے محبت کے ساتھ یہ ہمبستریاں ایسی نسل دینے کی کوئی گارنٹی ہوتی ہیں؟ کبھی نہیں! لیکن یہ سارہ ڈھانچا، یہ نسل انسانی کا قالب مرد نہیں بلکہ عورت ہے، وہ ہی جانتی ہے۔ وہ ہی سمجھتی ہے کہ مجھ میں کیا پنپ رہا ہے!

مجھ سے آپ پوچھیں تو میں کہونگا، یہ ہم ہی ہیں جو بہترین سے بہترین نسل اس پورے کرہ ارض پر بسنے والے غلامانہ ذہنیت کو دے سکتے ہیں، اگر ہم تہ دل سے اس عورت کو اہمیت دیں، اس کو عزت اور وقار دیں اور اگر نہیں تو اب تک کیا ہو رہا ہے؟ یہ جاہل، یہ کوڑھ نسل، کہاں سے آرہی ہے؟ کبھی سوچا؟

کیونکہ ہم نے تخلیق کی پہلی سیڑھی کو گالی بنادیا ہے، اور یاد رکھیں، فطرت کی لاٹھی بہت بے آواز ہوتی ہے! یہ جب اٹھتی ہے تو ہم سمجھ ہی نہ پائیں گے کہ چوٹ کہاں سے لگی، اور اس کا اثر کتنے برس، کتنی پیڑھیوں تک ہم پر چلتا رہے گا!

نفسیاتی طور پر دیکھیں تو معلوم پڑے گا کہ عورت فطرت کی وہ “نیگیٹو کاپی” ہے جس سے ہم سب ڈولپ ہوکر نکل رہے ہیں۔۔ ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں، اربوں وغیرہ وغیرہ۔ اب جیسے نیگیٹو کاپی ہوگی پرنٹ بھی ویسی ہی نکلے گی! لیکن ہم مردوں نے اس نقطے کو الٹا لے لیا۔۔ اسے نیگیٹو “کردار کی نفی” قرار دے دیا۔

اور فطرت نے بدلہ کیسے چکایا؟ خود ہی دیکھ لیں۔۔۔ ہم کونسا کردار کے معاملے میں مثبتی ہیں!

میں دعوے سے کہتا ہوں، کہ جب مردانہ سماج، عورت کو اس کا بنیادی حق یعنی آزادی دے دیگا تب ہی وہ “آزاد نسل” آپ کو دیگی۔

لیکن بڑی مصیبت ہے۔ یہاں تو اب عورت خود بھی نہیں چاہتی، کہ وہ آزاد ہوجائے۔ شاید وہ صدیوں نہیں بلکہ ہزاروں برسوں سے خود پر بیتے ہوئے ستموں کا بدلہ لے رہی ہے۔

وہ کہتی ہے ہمارا کیا! آگے پیچھے بھگتیں گے تو یہی مرد ہی نا!

تعارف Amar Fayaz

Amar Fayaz Buriro is a blogger, language engineer and computational linguist of Sindhi and Urdu languages.

یہ بھی چیک کریں

نواز شریف اتنے بھی “بھولے” نہیں | نصرت جاوید

بسااوقات واقعتا گھبرا جاتا ہوں۔ چند مہربان پڑھنے والے بہت اشتیاق سے اہم ترین سیاسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے