منگل , 13 اپریل 2021
ensdur

عورت آزادی مارچ کو متنازع نہ بنائیں | ماہم سندھی

تحریر: ماہم سندھی

جوں ہی مارچ میں عورت مارچ ہونے کی تیاریاں شروع ہوتی ہیں، ہر طرف سے اس کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہو جاتی ہیں، اور خاص کر مذہبی رہنما اس مارچ کو فحش قرار دیتے ہیں اور اس کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔ عورت مارچ کا انعقاد کرنے والی تمام تنظیموں کو، پہلے یہ بات سب کے سامنے واضح کر دینی چاہیے کہ عورت مارچ کا مطلب فحاشی یا بے حیائی پھیلانا قطعی طور پر نہیں ہے۔ عورت مارچ کا مقصد تمام خواتین اور مرد حضرات میں یہ بات عام کرنا ہے کہ، خواتین کو وہ تمام جائز حقوق دیے جائیں، جو بحیثیت انسان اور بحیثیت مسلمان ان کے حصے میں آتے ہیں۔

میں نے جب عورت مارچ کو سپورٹ کرنے کا ٹویٹ کیا تو کافی لوگوں نے تو اس مارچ کو سراہا، لیکن ان میں سے کافی لوگوں نے ایسے کمنٹس کیے، جو کسی کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ وہ ناداں لوگ ہیں جو عورت مارچ میں شامل خواتین کو بد کردار سمجھ بیٹھے ہیں اور ان کے حساب سے ایک عورت تب ہی باعزت مانی جائے گی، جب وہ تمام ظلم و ستم خاموشی سے برداشت کرے، اور اف تک نہ کرے۔ لیکن کسی بزرگ کا یہ بھی قول ہے کہ، ظلم کرنے سے ظلم سہنے والا زیادہ قصور وار ہوتا ہے۔

کچھ دن پہلے بی بی سی اردو میں دنیا کی انتہائی معزز و محترم خاتون، زوجۂ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بارے میں ایک تحقیقی اسٹوری شائع ہوئی، جس کو پڑھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ اس وقت قریش قبیلے کی خواتین کس قدر آزادانہ طور پر نہ صرف کاروبار کر سکتی تھیں بلکہ ان کو یہ بھی حق حاصل تھا کہ وہ اپنی پسند کے مرد سے شادی کریں، اور اگر ان کا شوہر بلاوجہ ان پر ستم ڈھائے تو اس سے وہ علیحدگی اختیار کر لیں۔

ایک عورت جب، اپنی بنیادی حقوق کو طلب کرنے کے لیے نکلتی ہے تو غلطی اس کی نہیں، بلکہ ہمارے سماج کی ہے، جو اسے اپنے جائز حقوق سے محروم رکھتا ہے اور اسے راستوں پہ آ کر احتجاج کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ تعلیم کی فراہمی، پسند کی شادی، ملازمت کرنا، یہ سب ایک عورت کے بنیادی حقوق ہیں۔ اس کی حق تلفی تب ہوتی ہے جب اس کی شادی چھوٹی عمر میں کر دی جائے، اس کی پسند جانے بغیر زبردستی اس کا نکاح کر دیا جائے، اسے ملازمت کرنے سے روکا جائے، اس پہ تشدد کیا جائے۔

اس سمیت ہزاروں ایسے مسائل ہیں، جو خواتین چپ چاپ بھگت رہی ہیں لیکن اس پر کوئی مذہبی رہنما آواز نہیں اٹھاتا، ان کے حقوق کی جنگ لڑنے پر کوئی آمادہ نہیں ہوتا۔ جب یہ خواتین اپنا حق مانگنے راستوں پر آتی ہیں تو اس عورت مارچ کو مختلف بیہودہ نعروں سے متنازع بنا دیا جاتا ہے، ان میں سے بعض نعرے تو فوٹو شاپ کر کے سوشل میڈیا پہ وائرل بھی کر دیے جاتے ہیں تاکہ خواتین کی آواز دب جائے اور وہ اپنے جائز حقوق کی مانگ نہ کر سکیں۔

اب تو ہمارا معاشرہ اتنا غلیظ ہو گیا ہے کہ چھوٹی معصوم بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے دل خراش واقعات ہو رہے ہیں، معصوم بچیوں کو تڑپتے ہوئے کہیں پھینک دیا جاتا ہے۔ ایسے غیر انسانی مظالم کے خلاف کوئی آواز اٹھتے ہوئی سنائی نہیں دیتی، تو پھر کس زبان سے وہ لوگ عورت مارچ کو فحاشی پھیلانے کا سبب قرار دیتے ہیں جو ایک معصوم بچی کو تک نہیں بخشتے۔

عورت مارچ کا انعقاد ان تمام حقوق کا مطالبہ کرنا ہے، جو ایک عورت کو نہیں دے جا رہے ۔ عورت مارچ تو ان بلوچ خواتین کے لیے بھی ہے، جو برسوں سے گمشدہ عزیزوں کے لیے کوئٹہ سے کر اسلام آباد تک احتجاج کر کے دھرنے دے رہی ہیں، عورت مارچ تو اس مطالبے کو بھی اٹھاتا ہے کہ چھوٹی عمر میں لڑکے اور لڑکی کی شادی نہ کی جائے، جس کا نقصان دونوں بچوں کو ہوتا ہے۔ عورت مارچ کے نعرے میں یہ بھی الفاظ شامل ہیں کہ بیٹی کی پیدائش کا ذمہ دار صرف عورت کو نہ ٹھہرایا جائے، کیونکہ یہ سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ ماں کے پیٹ میں پلتے بچے کی جنس مرد کی طرف سے ہوتی ہے۔ اور ویسے بھی بچی کا پیدا ہونا باعث رحمت ہے۔ لیکن بیٹوں کے خواہش مند خاندان میں جب بیٹی کا جنم ہو تو سارے سسرال میں ایک اکیلی بہو کو ہی قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے۔

عورت مارچ تو اس بات کی بھی تائید کرتا ہے کہ جہیز جیسی لعنت کو معاشرے سے بے دخل کر دینا چاہیے، جس سے والدین پر ایک بیٹی کی شادی بوجھ نہ بنے۔ عورت مارچ کو اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو یہ مارچ معاشرے کو سدھارنے کے لیے ہے، وہ معاشرہ جس میں مرد اور عورت دونوں حصہ دار ہیں۔

عورتوں کو ان کے جائز حقوق ملنے سے کافی حد تک مرد حضرات کی زندگیوں میں آسانیاں آ سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ مرد حضرات عورت سے جنس کی بنیاد پر حسد نہ رکھتے ہوں۔  وسیع فکر کا حامل مرد ہر طرح سے عورت مارچ کو سپورٹ کرتا ہے اور ایسے لوگ سینکڑوں ہزاروں میں ہیں، کیونکہ وہ بخوبی جانتے ہیں، کہ عورتوں کو حقوق دینے سے وہ خود ایک آرام دہ زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ عورتوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے اور ان کو ملازمت کی اجازت دینے سے، خود مرد حضرات کے کندھوں سے بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے اور عورت اس کی ذمہ داریاں بانٹ لیتی ہے۔

ایک پڑھی لکھی خاتون، ایک ان پڑھ خاتون کی نسبت اپنے گھر، بچوں اور شوہر کو سو گنا زیادہ اچھے طریقے سے سنبھال سکتی ہے اور اپنے شوہر کی بہت سے کاموں میں مددگار بن سکتی ہے۔ عورت مارچ کے حوالے سے ایک غلط فہمی یہ بھی ذہنوں میں بٹھا دی گئی ہے کہ عورت مارچ کا مقصد مرد حضرات کو عورت کا غلام بنانا ہے، یہ بات بالکل ہی غلط اور بے معنیٰ ہے۔ جو عورت اپنی محکومی کے خلاف لڑ رہی ہے، وہ مخالف جنس کی غلامی و محکومی کے حق میں کبھی کوئی اقدام نہیں اٹھائے گی۔

عورت مارچ کا سیدھا سا مقصد ہے برابری، اور اسی برابری کے حصول کے لیے اور خود پر ڈھائے جانے والے جبر کے خلاف عورت مارچ کیا جاتا ہے۔ عورت مارچ کا کسی بھی طرح سے یہ مقصد نہیں کہ مردوں کو نیچا دکھایا جائے بلکہ اس کا مقصد باہمی تعاون اور تمام نا انصافیوں سے نجات پانا ہے۔

ابھی مارچ کا مہینہ بھی نہیں آیا لیکن عورت مارچ کی تیاریاں دیکھ کر وہ لوگ بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں، جو عورت کو کمتر سمجھتے ہیں، وہ طرح طرح کی من گھڑت باتیں اور غلیظ نعرے پھیلا کر عورت مارچ کو متنازع بنانے کے لیے دن رات کوششوں میں مصروف ہیں۔ جو روشن خیال پڑھے لکھے لوگ ہیں، وہ اس مارچ کو ہمیشہ سے سپورٹ کرتے آئے ہیں، اس سال بھی کر رہے ہیں۔ جو اس مارچ کو روکنا چاہتے ہیں، وہ مذہب کو ڈھال بنا کر غلط تشریح کر کے عورت مارچ کو رکوانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے مذہبی علماء کو چاہیے کے پہلے صحیح غلط کا فرق دیکھیں، پھر ہی فیصلہ کریں۔

عورت مارچ میں کوئی ایسا غلط مطالبہ نہیں کیا جا رہا جو اسلام اور انسانیت کے خلاف ہو۔ خواتین تو بس ان جائز حقوق کی مانگ کی خاطر راستوں پر آنے پہ مجبور ہوئی ہیں، جو ان کو دہائیوں سے نہیں مل رہے۔ یہ معاشرہ مردوں کی برتری کی وجہ سے مردوں کا معاشرہ کہا جاتا ہے، اس معاشرے کو برابری کا معاشرہ بنا دیا جائے تو نہ صرف ہر گھر میں نمایاں بہتری آئی گی بلکہ ملک و قوم کے حالات بھی کافی حد تک سدھر جائیں گے۔

تعارف Maham Sindhi

یہ بھی چیک کریں

پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم عہدوں سے استعفے مولانا فضل الرحمن کو بھجوا دیئے

پیپلز پارٹی نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم سے علیحدگی کے فیصلے پر مرحلہ وار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے