ہفتہ , 31 اکتوبر 2020
ensdur

عورتوں کو آواز دینے والی بلوچستان کی بیٹی شاہینہ بلوچ | گہرام اسلم بلوچ

تحریر: گہرام اسلم بلوچ

بلوچستان کی بیٹی شاہینہ شاہین بلوچ کا تعلق صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے شاہی تمپ سے تھا۔  انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقی سے حاصل کی مزید تعلیم  کے لیے وہ صوبے کے دارلحکومت کوئٹہ کا رکھ کیا، جامعہ بلوچستان سے شعبہ مصوری( فائن آرٹس) سے بی ایس کیا۔ انہیں شاعری اور مصوری کی بہت شوق تھا ۔  پسماندہ اور غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والی اس نہتی عورت نے ایک قدامت اور تنگ نظر معاشرے میں بہت ہی کم وقت میں آرٹس اور صحافت کے میدان میں اعلی مقام پیدا کیا۔ وہ دوران تعلیم میں پاکستان ٹیلیویژن ( پی ٹی وی) سے منسلک تھیں، وہ ایک سُلجھی اور محنتی  اینکر تھیں وہ اپنا کام لگن اور محنت سے کیا کرتی تھیں۔ اُنکے بارے میں انکی سہیلیاں کہتی ہیں کہ وہ معاشرے میں خواتین کو ایک آواز دینا چاہتی تھیں۔ انہوں نے ہمیشہ خواتین کو خودمختار بنانے کے لیے انکی حقوق کے لیے آواز بلند کی، وہ بیشک خاموش تھیں مگر وہ خاموشی سے خواتین کو ہمیشہ حوصلہ دیتی تھیں، انکے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہوتی تھیں۔

انہوں نے کچھ خواب لیکر اس سماج میں قدم رکھی مگر وہ اپنے خوابوں کو تکمیل تک پہنچانے میں زندگی نے انکے ساتھ بیوفائی کی۔

شاہینہ کی قتل اب تک کی میڈیا اور سوشل میڈیا کی رپورٹس کے مطابق گھریلو ناچاکی بتائی جاتی ہے۔ انکے قتل کی ایف آئی آر ان کے شوہر کے خلاف تربت کے پولیس تھانے میں درج کی گئی ہے، مگر انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک کوئی گرفتاری یا کاورائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

شاہینہ شاہین کے قتل کے خلاف پوری سوسائیٹی ایک آواز ہوکر اسکے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور بلوچستان میں مسلسل اسطرح کے واقعے کو صنفی نابرابری قرار دے رہے ہیں۔ انکی قتل کے خلاف ملک بھر میں سول سوسائیٹی نے احتجاجی مظاہرے کئے۔

آج بھی کوئٹہ ، کراچی پریس کلب کے سامنے خواتین کی جانب سے احتجاجی ریلی ہوئے اور  مقتول کو انصاب دلانے کے لیے انتظامہ سے اپیل کی گئی۔ 12 ستمبر کو  تربت میں شہید فدا احمد چوک پہ انکی چھوٹی بہن اور خواتین کی جانب سے ٹوکن بھوک ہڑتال کی۔ اس دوران ( جسٹس فار شاہینہ ، ہیش ٹیگ) ٹوئیٹر پر ٹاپ ٹرینڈ رہا۔

شاہینہ کے بارے میں انکی قریبی سہیلی رُوبینہ کہتی ہیں کہ ( پی ٹی وی) میں میری جونیئر تھیں، جب انہوں نے ، پی ٹی وی ) جوائن کی تو آتے ہی وہ سب کیساتھ گھل مل گئی۔ وہ خدادار صلاحیتوں کی مالک تھیں وہ یکدم چیزوں کو سیکھ جاتی تھیں، انہیں کام اور چیزوں کو سیکھنے اور سمجھنے میں وقت نہیں لگا۔ عموما ایسا ہوتا ہے کہ انسان کوئی ادارہ، یا میڈیا ہاؤس جوائن کرتا یا کرتی ہے تو   وہ ابتدائی دنوں میں کسی سے بات نہیں کرتا خاموشی سے آتا جاتا ہے، مگر شاہینہ ایسی نہیں تھیں، وہ آتے ساتھ ہی سب کچھ سیکھ گئیں، اسکو چیزوں کو سیکھنے اور سمجھنے میں وقت نہیں لگا۔

پی ٹی وی میں صبح پہلے میرا پروگرام ہوتا تھا اور دوسرا شاہینہ کا ہوتا تھا، ڈرائیور صبح پہلے مجھے اور بعد میں شاہینہ کو پک کرتے تھے ہم اکھٹے  آفیس آتے تھے، وہ صبح ہمیشہ کانوں میں( ہینڈفری) لگا کر بلوچی گانے سُنتی رہتی تھیں اور ہمیشہ بلوچی ڈریس ملبوس کرکے رکھتے تھیں۔ وہ سب کےساتھ ہنسی مذاق کیا کرتی تھیں مگر کام کے دوران وہ بلکل سنجیدہ تھیں، کسی سے بات نہیں کرتی تھی۔ اسکا گھروں والوں کیساتھ کمیونیکیشن بہت مضبوط تھا وہ ہمیشہ فیملی کیساتھ رابطے میں رہتی تھیں۔

وقت کیساتھ ساتھ  مجھے انکے رویوں اور عادات میں کافی فرق اور ( میچورٹی) نظر آرہی تھی، وہ اب بلکل بدل چکی تھی ۔

اپنے کام سے کام رکھنے والی، میں اسے کبھی بھی کسی  کے بارے میں  بات کرتے ہوئے نہیں دیکھا وہ خاموش مزاج کی  ایک آواز تھی ہم انہیں ہمیشہ یاد کرتے رہیں گے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

گلگت بلتستان، نوید انقلاب | آفتاب احمد گورائیہ

تحریر: آفتاب احمد گورائیہ گلگت بلتستان اپنے دیو مالائی حُسن، برف پوش چوٹیوں، خوبصورت وادیوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے