ہفتہ , 31 اکتوبر 2020
ensdur

عمران خان کس کی پچ پر کھیل رہے ہیں؟ | خرم اعوان

تحریر: خرم اعوان

متحدہ اپوزیشن کے گوجرانوالہ میں پہلے پاور شو پر اپوزیشن خوش ہے اور حکومت تنقید کر رہی ہے۔ یہ شو خالصتاً مسلم لیگ (ن) کا تھا ہونا بھی چاہیے تھا  ایک تو پنجاب میں اور مسلم لیگ (ن) میزبان بھی تھی۔ بس اخلاقیات کا ایک تقاضا تھا کہ نواز شریف کی تقریر آخر میں ہونا چاہیے تھی۔ کیونکہ نواز شریف کی تقریر کے بعد مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کی اکثریت نے جلسہ گاہ کو چھوڑ کر چلے جاناتھا۔ یہ بات مسلم لیگ (ن) بخوبی جانتی تھی۔ مگر (ن) لیگ نے اپنی پاور باقی دس پارٹیوں کو دکھانا تھی اور گیم اپنے ہاتھ رکھنا تھی اس لیے پلان تبدیل کیا گیا اور پھر وہی ہوا جس کی توقع تھی۔ نواز شریف کی تقریر کا ایک اور ا ثر ہوا وہ تھا مریم نواز کا اپنی تقریر کے وقت کنفیوژ نظر آرہی تھیں۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ  مریم نواز شریف کو الفاظ کی ادائیگی پر اٹکتے ہوئے دیکھا۔ اس کی دو ہی وجوہات ہو سکتی تھیں یا تو جو باتیں انھوں نے کرنی تھیں وہ ان کے والد نے کر دیں یا پھر وہ اپنے قائد کی باتوں سے متفق نہیں تھیں، فیصلہ آپ کا۔ اس جلسے نے حکومت کے اس بیانیہ کی بھی نفی کر دی جس کے مطابق جلسوں میں افرادی قوت مولانا کے مدرسے کے بچے ہوں گے۔

اس جلسے کی دوسری بڑی تقریر بلاول بھٹو کی تھی، جس میں عوام کی بات کی گئی تھی۔ بلاول بھٹو کی ایک بات جو مجھے ذاتی طور پر پسند ہے انھوں نے اپنا ہدف پہلے دن ”وزیراعظم سلیکٹ“ کے لفظ  ادا کر کے آج تک عمران خان  حکومت اور طرز حکومت کو رکھا۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے ذہن میں کس قدر کلیئر ہیں کہ انھیں کیا کرنا ہے، کیسے کرنا ہے اور کیوں کرنا ہے۔ اس لیےگوجرانوالہ جلسے سے جب بلاول مریم کی تقریر کے دوران اٹھ کرگئے ، تو وہ اس لیے کہ نواز شریف کی تقریر کے بعد کی  صورتِ حال میں کیا کیا جائے تو قمر زمان کائرہ، فیصل کریم کنڈی اور مصطفی نواز کھوکھر سے مشاورت کے بعدبلاول نے فیصلہ کیاکہ وہ  اپنی بات کریں گے  اپنے نکات پر رہیں نواز شریف کی پچ پر آکر نہیں کھیلیں گے۔

بلاول کا لالہ موسیٍٰ سے گوجرانوالہ تک کا سفر پیپلز پارٹی کے پنجاب میں حیاتِ نو اور جیالوں کا بلاول پر اعتماد کا سفر تھا۔  بلاول کو پرچی کا طعنہ دینے والے اب تک ان کو متعین الزام لگا کر نشانہ نہ بنا سکے، بلکہ اکثر تو ان کی سیاست کو مدبرانہ سیاست ماننے پر اور  تعریف کرنے پربھی مجبور ہوئے۔ مگر رات کی بلاول کی تقریر اور اس میں پنجاب کی سیاست کے حوالے سے کی گئی بات پرزلفی بخاری کا ردعمل غیر حقیقی اور چور کی داڑھی میں تنکے کے مترادف تھا۔ جناب بلاول کے والداور والدہ سے آپ کو اختلاف ہے ٹھیک ہے رکھیں، مگر محترمہ بے نظیر کو آج تک کوئی بھی سیاست میں آنے سے پہلے بھوکا ننگا نہیں کہہ سکا۔ آپ بلاول کے پنجاب والے کمنٹ پر اسے خاتون اول سے کیوں جوڑ کر ان کی عزت و تکریم میں خود کمی کر رہے ہیں۔

میرے پڑھنے والے سوچ رہے ہوں گے کہ نواز شریف نے بھی تو اس مرتبہ شروع دن سے حکومت اور عمران خان کی بجائے کسی اور کو ہدف بنا رکھا ہے۔ جناب  شریف فیملی کا بہت پرانا وطیرہ ہے Good cop اور Bad cop ۔ بڑے میاں برُے بن جاتے ہیں اور پھر جب چھوٹے میاں سے رابطہ کیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں آپ رکیں میں بھائی جان سے بات کرتا ہوں انھیں مناتا ہوں مگر دیکھیں یہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ پھرایک نئی ڈیل کریک ہوتی ہے، جیسے لاہور میں سروسز ہسپتال میں ہوتے ہوئے نواز شریف صاحب مولانا سے نہ ملے اور نہ ہی مولانا کو مسلم لیگ ن کے کارکن ان کے احتجاج کے لیے ملے اور اس سب کے نتیجے میں  نواز شریف ملک سے باہر چلے گئے۔

بلاول کا لالہ موسیٍٰ سے گوجرانوالہ تک کا سفر پیپلز پارٹی کے پنجاب میں حیاتِ نو اور جیالوں کا بلاول پر اعتماد کا سفر تھا۔  بلاول کو پرچی کا طعنہ دینے والے اب تک ان کو متعین الزام لگا کر نشانہ نہ بنا سکے، بلکہ اکثر تو ان کی سیاست کو مدبرانہ سیاست ماننے پر اور  تعریف کرنے پربھی مجبور ہوئے۔

اب بھی نواز شریف کا زبان و بیان اور اس کی سختی دیکھیں تو وہ جن کو ہدفِ تنقید بنا رہے ہیں ان کے پاس دو طریقے ہیں یا تو وہ طاقت سے جواب دیں یا بات چیت کریں۔ سوشل میڈیا اور ”ففتھ جنریشن وار“ کے زمانے میں طاقت سے جواب آخری آپشن ہوتا ہے۔ بچا اب بات چیت تو وہ کس سے ہو نواز شریف تو ملک سےباہر ہیں ۔ تو یہ سلسلہ شہباز شریف سے شروع ہو چکا ہے اب شہباز شریف فرمائیں گے کہ میں تو قید ہوں میرے تمام خاندان کو آپ لپیٹ چکے میں بھائی جان کو کیسے کچھ کہوں۔ آپ کچھ آسانیاں پیدا کریں تو میں بھائی جان سے بات کرتا ہوں اور ان کو اس سخت بیانیے سے روکتا ہوں۔ اس کے نتیجے میں سلمان شہباز پر سے کیس ختم ہو سکتے ہیں اور حمزہ اور شہباز شریف کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں گی۔ اور وہ باہر بھی آ سکتے ہیں۔ یہاں ایک بات کہنا چاہوں گا کہ اگر سیاسی اداکاری کا آسکر ایوارڈ کسی کو ملنا چاہیے تو وہ شریف فیملی کو ملنا چاہیے۔ اس لیے خاطر جمع رکھیے یہ بیانیہ اس وجہ سے ہے۔

 

وزیراعظم کی جانب سے نواز شریف کی تقریر کا جواب دیا گیا، مگرکیا کریں کہ خواجہ آصف کی بدتمیزی کا جواب  عمران خان نہ دیں، کیسے ہو سکتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے  اپنی دانست میں خواجہ آصف کو رسوا کرنے کے لیےبات کی کہ  2018 کے الیکشن میں رات آٹھ بجے خواجہ آصف نے جنرل باجوہ کو فون کیا کہ میں ہار رہا ہوں عثمان ڈار سے، مجھے بچائیں، کچھ کریں اور نتائج بتاتے ہیں کہ خواجہ صاحب کم مارجن سے ہی سہی جیتے۔ تو کیا وزیراعظم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جنرل باجوہ صاحب نے انھیں جتوایا، پھر تو خان صاحب آپ نے خود نواز شریف کا بیانیہ مضبوط کر دیا،  تو میں اب تک یہی توکہتا آ رہا ہوں کہ جناب آپ خود اداروں کو گھسیٹ کر لے آتے ہیں درمیان میں۔

دوسری بات اگر کتابیں (باہر چھپنے والی) ٹھیک ہیں تو جناب ریحام خان کی کتاب بھی ٹھیک ہو گی۔ باقی باتیں چھوڑتے ہوئے اس کتاب میں آپ کے حوالے سے ایک بات ہے کہ ”آپ خود اپنے والد گرامی کو گولی مارنا چاہتے تھے“ یہ بات میں تو نہیں مان سکتا ، نہ مانتا ہوں، مگر آپ کا دیا ہوا اصول کہتا ہے کہ یہ بات درست ہے اور باقی تمام باتیں بھی  جو ریحام خان نے اپنی کتاب میں لکھی ہیں وہ بھی درست ہیں۔

عمران خان نے نواز شریف کی دوتصاویر دکھائیں، جو تصویر پاکستان میں لی گئی یہ بیگم کلثوم نواز کی وفات پر تھی۔ خان صاحب اگر تو آپ اپنوں کی وفات پر بھنگڑا ڈالتے ہیں تو پھر تو آپ کے لیے یہ تصویر اچنبے کی بات ہونی چاہیے۔

آپ نے فرمایا کہ باہر کے ملک میں جب کتابیں لکھی جاتی ہیں تو وہاں آپ کے پاس سب ثبوت ہوں تو آپ کتاب لکھ اور چھپوا سکتے ہیں۔ آپ نے تین کتابوں کے حوالے بات کی اور کہا کہ ایک کتاب کے  مطابق محترمہ بے نظیر بھٹو  نے بلاول بھٹو کو چندبینک اکاونٹ نمبربتاۓ، جناب آپ  کیاکہنا چاہتے ہیں کہ اتنا سچ پتہ ہونے کے باوجودبےنظیر سے  ڈیل کی گیٔ،ان کے شوہرآصف زردآری پاکستان کے  صدر بنے اور وہ پارٹی اب بھی اقتدار میں ہے ۔مگر آپ کے مطابق تو اداروں کو سب سے پہلے پتہ چلتا ہےکیا وہ خاموش رہے۔ دوسری بات اگر کتابیں (باہر چھپنے والی) ٹھیک ہیں تو جناب ریحام خان کی کتاب بھی ٹھیک ہو گی۔ باقی باتیں چھوڑتے ہوئے اس کتاب میں آپ کے حوالے سے ایک بات ہے کہ ”آپ خود اپنے والد گرامی کو گولی مارنا چاہتے تھے“ یہ بات میں تو نہیں مان سکتا ، نہ مانتا ہوں، مگر آپ کا دیا ہوا اصول کہتا ہے کہ یہ بات درست ہے اور باقی تمام باتیں بھی  جو ریحام خان نے اپنی کتاب میں لکھی ہیں وہ بھی درست ہیں۔

پھر آپ نے فرمایا کہ دھاندلی کا رونا غلط رویا جا رہا ہے آپ نے کہا کہ (ن) لیگ کی گیارہ پٹیشن ہیں تو جناب تیرہ پٹیشن تحریک انصاف کی بھی ہیں ان سے زیادہ تو آپ مان رہے ہیں کہ الیکشن فری اور فیئر نہیں ہوئے۔تو یہ بھی آپ کی جانب سے تضاد ہے۔ پھر آپ نے کہا کہ اب پروڈکشن آرڈر نہیں نکلے گا۔ نہ سہی آپ خود شہباز شریف کی خدمت کرنا چاہ رہے ہیں توکریں۔ برصغیر میں جو لیڈر جتنا زیادہ جیل جائے یا رہے وہ اتنا بڑا لیڈر ہوتا ہے جناب آپ یہ شوق بھی پورا کر لیں۔

آپ نے فرمایا کہ اب ایسا نہیں ہو گا نئے پاکستان کے ساتھ عمران خان بھی نیا ہو گا۔ مگر جناب جو آپ اپوزیشن کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے آپ کو طریقے پرانے ہی استعمال کرنے پڑیں گے۔ اتنا شور شرابہ کرنے کی کیا ضرورت ہے چار گنے چنے طریقے ہیں ان کو دیکھ لیتے ہیں۔

پہلا طریقہ ہے فارورڈ بلاک بنانا۔ چلیں آپ نے بنا لیا تو یہ فارورڈ بلاک والے جائیں گے کہاں۔ باقی ماندہ دو سےتین سالوں کے بعد ان لوگوں نے الیکشن میں عوام کے پاس تو جانا ہے ۔ اس وقت اس ریوڑ کو کسی گڈریے کی کسی چرواہے کی ضرورت تو ہو گی، تو اس وقت نگاہ پھر پرویز الٰہی پر ٹھہرے گی تو آپ اس پر  راضی ہونگے کیا؟ کیا اتنا پیسہ لگا کر آنے والے اپنی پارٹی چھوڑیں گے؟ نہیں، کیا پارٹی نکال پاۓ گی کسی باغی کو؟ تو جواب ہے نہیں، کیونکہ نکالنے کی چار شرائط ہیں جب تک ان میں سے کوئی ایک مکمل نہ ہو  پارٹی کارروائی نہیں کر سکتی۔

 عمران خان نے نواز شریف کی دوتصاویر دکھائیں، جو تصویر پاکستان میں لی گئی یہ بیگم کلثوم نواز کی وفات پر تھی۔ خان صاحب اگر تو آپ اپنوں کی وفات پر بھنگڑا ڈالتے ہیں تو پھر تو آپ کے لیے یہ تصویر اچنبے کی بات ہونی چاہیے۔

دوسرا طریقہ محب وطن لوگوں کا گروپ (ن) میں، اس کا طریقہ ایک ہی ہے کہ شہباز شریف بطور صدر مسلم لیگ (ن) نواز شریف سے لا تعلقی کا اعلان کریں۔ تب بھی کیا ووٹ شہباز شریف کا ہے ؟ نہیں وہ تو نواز شریف کا ہے۔ تو پھر یا تو تمام بڑے نام خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناءاللہ سب کو اس پارٹی میں رکھیں اور نواز شریف کو اکیلا باہر کریں تب کہیں جا کر مسلم لیگ (ش) بنے گی مگرپھر یہ پارٹی سیٹیں بھی ویسی ہی جیتے گی جیسی ایم کیو ایم پاکستان نے جیتی ہیں۔

تیسرا طریقہ ہے پابندی کا آپ مسلم لیگ ن پر پابندی لگائیں کیسے لگائیں گے؟ صدر ہے شہباز شریف اس نے تو ایک لفظ نہیں بولا، جلسہ تھا PDM کا، ن لیگ کا نہیں تھا۔ اور PDM گیارہ جماعتوں کا اتحاد ہے کیا کریں گے سب پر پابندی لگائیں گےنہیں لگا سکتے کیونکہ پی ڈی ایم الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ نہیں ۔ تو یہ بات بھی ممکن نہیں۔

چوتھا حکومت ریفرنس بھیجے سپریم کورٹ اور سپریم کورٹ کا بینچ اس جماعت پر پابندی لگائے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ کام ذوالفقار علی بھٹو ہی نے کیا تھا  (NAP)کے خلاف۔ ویسے یہ لمبا کام ہے اور اس میں بہت سے اگر ، مگر کیوں، کیسے چونکہ چنانچہ ہیں،غدار ثابت کرنا پڑے گا ۔ تو جناب یہ بھی ممکن نہیں۔

آپ کو چاہیے تھا کہ نواز شریف کی تقریر پر پابندی نہ لگواتے تاکہ آج اس  تقریر کو  پیمرا کے ذریعے کورٹ میں ثبوت کے طور پر پیش کرسکتے۔ آپ نے پابندی سے وہ موقع گنوا دیا۔ (ویسے ایک بات بتاتا چلوں  ہو سکتا ہے نواز شریف کراچی کے جلسے سے خطاب نہ کریں۔ مریم اس بات پر منا رہی ہیں ۔کیونکہ نواز شریف کی تقریر کے دوران گوجرانوالہ میں جو نعرے لگے تھے وہ خطرناک تھے اگر وہ نعرے چاروں صوبوں میں لگے تو وہ ہو گا (حد کراس )کرنا جو کہ ملک کے لیے اندرونی اور بیرونی دونوں طور پر خطرناک ہو گا۔)

ایک اور غلطی ،آپ نے خود میڈیا پر آ کر جو سوشل میڈیا پر نواز شریف کی باتیں تھیں خود بول دیں جناب آپ کس کی پچ پر کھیل رہے ہیں۔ آپ کو اپوزیشن اپنی پچ پر کھلا رہی ہے۔ وہ باتیں جسے نیشنل میڈیانہیں دکھا اور سنا رہا ہوتا، آپ خود نیشنل میڈیا پر اپنی زبان سے پہنچاتے ہیں ، ایک کام کریں خود پر بھی پابندی لگوا دیں اگر نہیں  تو خدا را دوسروں کی پچ پر کھیلنا چھوڑیں اور پرفارمنس دیں۔

مصنف کے فیس بک وال سے لی گئی تحریر

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

گلگت بلتستان، نوید انقلاب | آفتاب احمد گورائیہ

تحریر: آفتاب احمد گورائیہ گلگت بلتستان اپنے دیو مالائی حُسن، برف پوش چوٹیوں، خوبصورت وادیوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے