جمعرات , 29 اکتوبر 2020
ensdur

عربوں کے سندھ پر 17 حملے جو سندھیوں نے ناکام بنائے | یوسف خشک

تحریر: یوسف خشک

سند میں محمد بن قاسم کے حملے سے پہلے عربوں نے سندہ پر 17 حملے کئے تہے اور محمد بن قاسم کا 18 حملا تہا کہا جاتا ہے کے محمد بن قاسم نے اس لئے سندہ پر حملا کیا تہا کے سندھیوں نے دیبل بندر پر سراندیپ سریلنکا سے عربون کو بہیجے گئے تحفوں کے جہاز اور عورتیں لوٹی تہی لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کے اس حملے سے پہلے عربوں نے سندھ پر 17 بار حملے کیوں کے اور ان عربوں کو سندھیوں کے ھاتہوں 17 بار ہار نصیب ہوئی، آج ہم عربوں کے ان حملوں کا ذکر کریں گے جو عربون نے سندھیوں سے ہارے اور ناکام ہوئے۔

سندہ پر عربوں کا پہلا حملہ مغیرہ بن ابی العاص کی رہنمائی میں کیا گیا وہ جنگی بیڑے اور بڑی فوج لیکر دیبل بندر پر حملہ کیا اور سندہی فوج کے ساتھ خون خوار جنگ ہوی اور اس میں عربوں کا سپاہ سالار مارا گیا اور عرب فوجی سندھ میں قید ہو گئے۔
دوسرا حملہ مغیرہ کے بہائی حکم بن ابی العاص نے کیا وہ سندہ کے کسی علاقی میں قابض نہیں ہو پایا البتہ وہ سندہ سے کافی لوٹ مار کرکے واپس بھاگ گیا۔

تیسرا حملہ عبداللہ بن عامر نے کیا اور ناکام رہا اور خلیفہ کو خط لکہا کے سندھ کے لوگ غدار ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کے سندھ کے لوگ سندھ سے محبت کرتے ہیں اور عربوں سے نفرت کرتے تھے۔

چوتھا حملہ ربیع بن زیاد الحارثی کی رہنمائی میں کیا گیا اس کا سندھی فوج نے ایسا حشر کیا کے اس نے خلیفہ کو لکھا کے سندھ پر حملے کرنے سے صرف عرب فوجی مریں گے۔

سندھ پر پانچواں حملہ حکم بن عمرو التقلبی کی سربراہی میں کیا گیا اس نے مکران اور سینان مین بڑا قتل عام کیا اور جاتے وقت بے حساب مال غنیمت اور کافی لوگ غلام بنا کر لے گیا۔

چھٹا حملہ حارث بن مرہ العبدی نے کیا وہ 2 سال تک سندھ میں قتل عام کرتا رہا لیکن آخر سندھی فوج کے ہاتھوں مارا گیا۔

ساتواں حملہ مھلب بن ابی صغرہ قیقان نے کیا اس نے کچھ علاقو پر قبضہ کر لیا لیکن کچھ ٹائیم میں ہی سندھیون نے وہ علاقی واپس چھین لئے۔

آٹھوان حملہ عبداللہ بن سوار نے کیا لیکن وہ راستے میں ہی ترکوں سے لڑتا ہوا مارا گیا۔

نواں حملہ سنان بن سلامہ نے کیا یہ پہلا حملہ آور تھا جس نے مکران پر قبضہ کر لیا اور عرب سندھ کے دروازے پر پہچ گئے۔

دسواں حملہ راشد بن عمرو الجدیدی کی رہنمائی میں کیا گیا وہ سندھی فوج کے ساتھ لڑتے ہوئے مارا گیا۔

گیارہواں حملہ سنان الہذلی نے کیا وہ بہاگناژی والے علاقے میں جتوں اور میدون سے لڑتے ہوئے مارا گیا۔

بارہواں حملہ منذر بن جارود کی رہنمائی میں کیا گیا لیکن وہ لسبیلے میں بیماری کی وجھ سے مر گیا۔

تیروہاں حملہ منذر کے بیٹے حکم نے کیا وہ دیبل بندر پر پہچا اور اپنے باپ کی طرح بیماری میں مر گیا۔

چودواں حملہ سعد بن اسلم بن ذراع نے کیا اس کو عرب خلیفہ نے مکران کا گورنر مقرر کیا جب وہ مکران پہچا تو اسے علافی قبیلے کے لوگوں نے قتل کر دیا اور علافی عربوں کے ڈر سے 500 لوگوں کے ساتھ راجا ڈاہر کے پاس پناھ لی۔

پندرہواں حملہ مجاعمہ بن سمر کی رہنمائی میں کیا گیا وہ بہی مکران میں مارا گیا۔

سولواں حملہ محمد بن ھارون نے کی رہنمائی میں کیا گیا لیکن وہ بہی ناکام رہا لیکن اس نے علافی قبیلے کے کچھ لوگوں گرفتار کیا.

سترواں حملہ بدیل کی رہنمائی میں کیا گیا بدیل نے دیبل بندر پر قبضہ کر لیا بعد میں راجا ڈاھر کے جانباز بیٹے جئیسینا جسے جئیشہ بہی کہا جاتا ہے اس نے دیبل بندر کو عربوں سے آزاد کرا لیا اور بدیل کو مار ڈالا بدیل کی مدد کے لئے اک اور عرب سپاھ سالار دیبل بندر پہچا مگر وہ بہی جئسینا کے ہاتہوں مارا گیا.

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

وزیراعظم عمران خان کی آرمی چیف سے ملاقات

وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی ہے، جس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے