جمعہ , 10 جولائی 2020
ensdur
CORONAVIRUS PAKISTAN
243599
  • Sindh 100900
  • Islamabad 13829
  • KP 29406
  • Punjab 85261
  • Balochistan 11052
  • GB 1619
  • AJK 1485
  • DEATH 5058

عامر تہکالی کے کیس میں قانون اور جذبات کا ٹاکرا | فرنود عالم

تحریر: فرنود عالم

وبا کے دن ہیں، لوگ گھروں میں بیٹھ بیٹھ کر بیزار ہو گئے ہیں۔ ہر ایک کے سامنے ایک ہی سول ہے، نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے۔ کبھی بھی تو بیزاری اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ انسان زکوٹا جن کی طرح فرج، الماری اور شیلف میں بلا وجہ کی تاکا جھانکا شروع کردیتا ہے۔ جیسے زکوٹا جن پوچھ رہا ہو میں کہاں جاؤں میں کیا کروں میں کس کو کھاؤں۔ وزیر اعظم ہمارے ذہین ہیں، انہوں نے ان حالات میں اپنے لیے قوم سے خطاب والی مصروفیت ڈھونڈ نکالی ہے۔ موج میں ہوتے ہیں تو کمرہ بند کردیتے ہیں اور کیمرہ آن کردیتے ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی قوم نے بھی یہی وظیفہ اختیار کر لیا ہے۔ دائیں دیکھا بائیں دیکھا، کچھ نہ ملا تو موبائل میں جھانک لیا۔ موبائل میں بھی کچھ کام کا نہ ملا تو لائیو کا بٹن دبایا اور قوم سے براہ راست مخاطب ہو گئے۔

پشاور کے علاقے تہکال کے کچھ لڑکے شام کے بعد کوہاٹ کی جڑی بوٹیاں پھونک کر اپنا غم غلط کر رہے تھے۔ عامر نامی ایک لڑکے کو بیٹھے بیٹھے قوم سے خطاب کی سوجھی۔ غریب نے ویڈیو کیمرا آن کیا اور رندوں پر ٹکا دیا۔ کسی نے ہاتھ ہلایا، کسی نے جملہ پھینکا، کسی نے کالر کو تھوڑا اوپر اٹھایا اور کسی نے سگرٹ کے دھویں کا چھلا بنایا۔ آخر میں کیمرا اپنی جانب موڑا اور جی میں جو آیا وہ پولیس کے لیے ارزاں کر دیا۔ ہوا تو کچھ نہیں، بس بات مے خانے کی نکل گئی باہر مے خانے سے۔

عامر نے پولیس افسران کے لیے جو ننگ دھڑنگ الفاظ کہے، انہیں اگر جامے پاجامے پہنا کر خلاصہ نکالا جائے تو عمران خان صاحب کا وہ ولولہ انگیز جملہ بن جاتا ہے جو حکومت میں آنے سے پہلے اپنے ایک خطاب میں پولیس افسر کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا۔ سنو! میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے پھانسی دوں گا۔

عامر نے اپنی براہ راست نشریات میں پولیس افسران کو جو تڑیاں لگائیں وہ پولیس افسران نے دل پہ لے لیں۔ ان کا متھا کچھ ایسے گھوما کہ کچھ دیر کے لیے بھول ہی گئے کہ اس وقت وہ بچھو گینگ کے ہرکارے نہیں ہیں بلکہ سرکار کے ملازم ہیں۔ انہیں لگا کہ یہ بندوقیں شاید درہ آدم خیل سے خریدی گئی روسی ساختہ رائفلوں کی نقلیں ہیں جو باپ دادوں سے انہیں ورثے میں ملی ہیں۔ آؤ دیکھا نہ تاؤ دیکھا اور گلی کے لمڈوں کی طرح فراٹے بھرتے ہوئے نوجوان کے ڈیرے پر پہنچ گئے۔ عامر کو اس طرح اٹھا کر لائے جیسے جہانگیر خان کی کسی بھڑکیلی فلم کی شوٹنگ چل رہی ہو۔ لاتے ہی کسی برساتی وڈیرے کے کارندوں کی طرح موبائل کے کیمرے آن کیے اور حساب برابر کرنا شروع کر دیا۔

عامر کی ویڈیو دیکھنے کے بعد پولیس اہل کار کا عامر کی طرف بھاگنا غیر قانونی تھا۔ اس پولیس اہل کار کا سماجی ذرائع ابلاغ پر فخر سے کہنا کہ میں اسے گھر سے الف ننگا لے اٹھا کر لایا ہوں، غیر قانونی تھا۔ عامر کو کیمرے کے سامنے بٹھا کر توبہ تلا کروانا اور ناک کھنچوانا غیر قانونی تھا۔ یہ سب ہونے تک ہم پولیس کے ساتھ تھے اور آتے جاتے عامر سے کہہ رہے تھے، ہاں جی سنگہ چل دے؟ بھرم ٹھنڈے ہو گئے تیرے کہ نہیں؟ اچھا ہی ہوا تیرے ساتھ نالتی آدمی۔

اب تازہ صورت حال یہ ہے کہ ہم عامر کے حمایتی ہو گئے ہیں اور پولیس کے خلاف کارروائی کے لیے حکام سے مطالبے کر رہے ہیں۔ راتوں رات ہمارا اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ پولیس کا اقدام غیر قانونی تھا۔ اس کی وجہ وہ ویڈیو ہے جس میں عامر کو برہنہ حالت میں دکھایا جا رہا ہے اور اس کی دی ہوئی گالیاں سود سمیت اس پر لوٹائی جا رہی ہیں۔ خیر کی بات یہ ہے کہ ہم نے پولیس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ تشویش کی بات مگر یہ ہے کہ اس مطالبے کا تعلق قانون کے ساتھ نہیں بلکہ ہمارے جذبات کے ساتھ ہے۔ ہم جب عامر پر جملے کس رہے تھے تب بھی ہمارے جذبات ہماری رہنمائی کر رہے تھے۔ آج جب ہم عامر کے حمایتی ہیں تب بھی ہمارے جذبات ہمارے پیچھے کھڑے ہیں۔ ایسے میں پولیس افسران کی معطلی سے ہمارے جذبات کو تو تسکین مل سکتی ہے قانون کا بول بالا نہیں ہو سکتا۔

پولیس کا رویہ کہنے کو تو اختیارات سے تجاوز کی ایک سنگین مثال ہے مگر حقیقت میں یہ ہماری کچہریوں کی روایت ہے جس پر ہمارا اجتماعی ضمیر ہمیشہ سے مطمئن چلا آ رہا ہے۔ آپ تھوڑی دیر کے لیے کوتوال کے ہاتھ سے ڈنڈا لے کر قلم پکڑا دیں اور پوچھ لیں کہ عامر کے ساتھ جو ہوا وہ ٹھیک تھا کہ غلط۔ لمحہ خطا کیے بغیر وہ لکھ دے گا کہ سراسر زیادتی ہوئی ہے۔ مغرب کی دوچار مثالیں دے کر یہ بھی کہہ دے گا کہ دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوتا۔ ساتھ ہی وہ مجرموں کے لیے عبرت ناک سزا بھی تجویز کردے گا۔ زیادہ سے زیادہ سزا چوک میں کھڑا کر کے گولی مارنے کی ہوگی اور کم سے کم سزا چوک ہی پر الٹا لٹا کر چھتر مارنے کی ہوگی۔

اب آپ اسی لفظ گزار سے قلم لے لیجیے اور ڈنڈا تھما کر تہکال والی صورت حال میں ڈال دیجیے۔ اسے اچانک احساس ہو جائے گا کہ انگلستان اور پاکستان کے بیچ کتنے پانیوں کا فاصلہ ہے۔ اب وہ آپ کو وہی کچھ کرتا ہوا نظر آئے گا جس کے خلاف وہ ہمیشہ انصاف کا استعارہ بن کر کھڑا رہا۔ اب اگر آپ بات کریں گے تو وہ کندھے اچکا کہے گا، کیا کروں مجھے لوگ ہی اچھے نہیں ملے۔

ہم سرکاری محافظوں کے ہر جائز ناجائز پر تنقید تو خوب کرتے ہیں مگر دیکھنے کی بات یہ ہے کہ پاؤں کے نیچے جب ہماری اپنی دم آجاتی ہے تو ہم کیا کرتے ہیں؟ ہم نصاب اور کتاب کو ایک طرف رکھ کر تھانے دار سے اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے حق میں اپنے اختیارات سے تجاوز کرے گا۔ تجاوز نہیں کرے گا تو اگلے دن وہ معطل ہوچکا ہوگا یا پھر ٹرانسفر لیٹر ہاتھ میں پکڑے کسی ایسے علاقے کی طرف جا رہا ہوگا جہاں سر کھجانے اور دھول جھاڑنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی مصروفیت نہیں ہوگی۔

تعلیم و تربیت کی باتیں اپنی جگہ اچھی ہیں، مگر سوچنا چاہیے کہ روزانہ کے مشاہدے کا بھی ہماری غیر شعوری تربیت سے کوئی تعلق واسطہ ہے کہ نہیں۔ آئے دن انصاف کے جو خاکے ہمارے سامنے آرہے ہیں اس سے ہمارا لاشعور کیا اخذ کر رہا ہے۔ ہم نے ایک وزیر کو اشاروں میں یہ کہتے سنا تھا کہ ہم لوہے کے چنے چبوا دیں گے۔ اس وزیر کو ایک دن عدالت طلب کر لیا گیا کہ آپ کے محکمے کا کچھ حساب سیدھا کرنا ہے۔ صبح کو وہ حاضر ہوئے تو قاضی نے ملزم وزیر کو نام لے کر نہیں پکارا۔ آواز دی گئی، چنے چبوانے والے آگے آجائیں۔

اس کہانی میں آپ وزیر کو تہکال کا عامر سمجھ لیجیے۔ قاضی کو تہکال کا ایس ایچ او سمجھ لیجیے۔ تماشائی تو ہم پہلے بھی تھے اس کہانی میں بھی خود کو تماشائی کے طور پر ہی رکھ لیتے ہیں۔ قاضی کی اس پکار سے ہم نے کیا محسوس کیا؟ مجھ جیسے متوسط ذہن کے شہری نے تو یہی محسوس کیا کہ زیر سماعت مسئلے کے علاوہ کوئی بات ایسی ہے جو قاضی نے دل پر لی ہوئی ہے۔ اس پکار سے ہم نے اخذ کیا کیا؟ میں یہی اخذ کر پایا کہ قانونی فیصلوں میں ذاتی جذبات سے بھی رہنمائی لینی چاہیے۔ اور یہ کہ کٹہرے میں کھڑا ہوا انسان تذلیل اور تحقیر کا حق دار ہوتا ہے۔

ہم عدالتی کارروائیوں اور تفتیشی نتائج سے اتفاق یا اختلاف ثبوت اور شواہد کی بنیاد پر نہیں کرتے، وابستگی کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ یعنی سماعت اور تفتیش سے بہت پہلے بھی ہماری نظر میں ملزم کی دو ہی حیثیتیں ہیں۔ میرا حریف ہے یا پھر میرا حلیف ہے۔ مدعا دیکھنے سے پہلے ہم ملزم کی شکل دیکھتے ہیں۔ ہم قانون کی کنپٹی پر بندوق رکھ کر کہتے ہیں کہ وہ اپنی آنکھ سے دلیل نہ پڑھے، ہماری آنکھ سے ملزم کو دیکھے۔ جس دن ہم نے عامر تہکال پہ جملے کسے تھے، میم بنائے تھے اور تعاقب کیا تھا، اس دن ہم نے در اصل قانون کو یرغمال بنایا ہوا تھا۔ اب جب قانون نے مجرم کو مجرم کہا ہے تو اپنے زور پر نہیں کہا، ہمارے دیرینہ جذبات سے اجازت لے کر کہا ہے۔ جونہی یہ جذبات ٹھنڈے ہوں گے قانون اپنی ساری دستاویزات سمیٹ کر واپس ہمارے جذبات کے آگے سر جھکا کر کھڑا ہو جائے گا۔ حکم میرے آقا!

ابھی پچھلے سال ہی قتل کے مقدمے میں ایک ایسی مذہبی شخصیت گرفتار ہوئی جن کی شہرت بہت اچھی نہیں تھی۔ تفتیش کے دوران ان کے موبائل سے کچھ ایسا مواد برامد ہوا جو تفتیشی افسران کی نظر میں غیر مناسب تھا۔ شام ٹی وی پر خبر آ گئی کہ جناب شیخ کے موبائل سے چھبیس فحش وڈیوز ملی ہیں۔ ایک گھنٹے بعد ہر ٹی وی کی سکرین پر یہی خبر ہتھوڑے برسا رہی تھی۔ پورے سماجی ذرائع ابلاغ پر صرف شخصیت اور اس کا کردار زیر بحث رہا۔ حالانکہ یہ دیکھ کر ہمیں کانپ جانا چاہیے تھا کہ ہم محافظوں کے ہاتھوں ہماری ”پرائیویسی“ کس قدر غیر محفوظ ہے۔

ہم نے کسی بھی موقع یہ سوال نہیں اٹھایا کہ تفتیشی اہل کاروں نے کسی کے موبائل کا مواد میڈیا کو کس بنیاد پر فراہم کیا؟ یہ سوال اسی لیے نہیں اٹھا کہ قانون ہماری طرف دیکھ رہا تھا اور ہم اپنی اس جذباتی تسکین پر مطمئن تھے جو ہمیں ایک خبر سے حاصل ہوئی تھی۔ ہم تو قانون کو حرکت میں آنے کی اجازت تب ہی دیں گے جب کسی ایسے شخص کے راز افشاں کیے جائیں گے جو ہماری نظر میں معتبر ہوگا۔ جو ہمارے لیے ہی معتبر نہیں ہم اس کی چادر اور چار دیواری کا خیال کیوں رکھیں؟ اول ہم عامر کے ساتھ اسی لیے کھڑے نہیں ہوئے کہ ہم نے اسے خرابوں میں دیکھا تھا۔ ایسے شخص کے بنیادی انسانی حق کو ہم کیسے تسلیم کر سکتے ہیں جس کا رہن سہن ہمارے جیسا نہیں ہے۔ ہم نے ہی تسلیم نہیں کیا تو قانون بھی کیوں تسلیم کرے؟

ہم بود و باش، چال چلن، عقیدہ و نظریہ اور فکر و خیال دیکھ کر جب کسی کے انسانی حق سے آنکھ چراتے ہیں تو درحقیقت ہم اپنے ماورائے عدالت قتل یا گرفتاری کا پروانہ جاری کر رہے ہوتے ہیں۔ اس کا احساس ہمیں تب ہوتا ہے جب ہمارا اپنا ہاتھ قانون کے دروازے میں آ جاتا ہے۔ پھر ہم چیخ کر گز بھر کی چھلانگ مارتے ہیں اور گرج برس کے قانون سے کہتے ہیں ابے اندھا ہو گیا ہے کیا؟ تب ہمیں یاد نہیں ہوتا کہ قانون کی بینائی تو اسی دن چلی گئی تھی جب اس کی آنکھ میں میں نے جذبات کی سلائی پھیری تھی۔ نصیبوں والے ہوتے ہیں جنہیں سنگ اٹھاتے ہی سر یاد آ جاتا ہے۔

بشکریہ ہم سب

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

سنتھیا یقیناً کسی ایجنڈے پر آئی ہے: لطیف کھوسہ

سابق گورنر پنجاب، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے