اتوار , 20 ستمبر 2020
ensdur

ضمیر اختر نقوی: مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے

تحریر: فرنود عالم

اپنے قبیلے کا آخری آدمی لفظ کو مجلس میں اکیلا چھوڑ کر دور بہت دور چلا گیا۔ دعوی ہمیں زیب نہیں دیتا لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں لکھنو کی تہذیب سے آراستہ پیراستہ آخری مجلس بھی تمام ہو گئی۔

منبر تو پہلے ہی علامہ طالب جوہری اپنے ساتھ لے گئے تھے، پیچھے شمع رہ گئی تھی وہ ضمیر اختر نقوی لے گئے۔ اس خرابے میں اب تقریریں تو بہت ہوں گی مگر جس کی خوبصورتی تلخی میں اور بھی بڑھ جاتی ہے، وہ زبان نہیں ہو گی۔

جنہوں نے ضمیر اختر نقوی کے لیے طنز و مزاح روا رکھا، ان پر تو خیر کیا اعتراض۔ جو مذاق اڑانے کو مزاح جانتے ہیں ان کا بھی کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے۔ اپنے طور پر یہ اطمینان ہوتا ہے کہ جیتے جی ان کی تحقیر اور تذلیل کا کبھی خیال نہیں آیا۔ مجھے بے دھڑک ان لوگوں میں شمار کیجیے، جنہوں نے چاند پہ سوت کاتنے والی بڑھیا کے اس عکس سے محبت کی ہے۔ کسی سے محبت کرنے اور نفرت کرنے کے لیے ہم کسی معاشرتی اجازت نامے کے پابند نہیں ہیں۔ محبت کی وجہ کیا ہے، یہ بتائی تو جا سکتی ہے مگر سمجھائی نہیں جا سکتی۔ سمجھانے کو تو اس سفاک معاشرے میں یہ تک بھی نہیں سمجھایا جا سکتا کہ ہندوستان کی تہذیب میں لڈن نام کے پیچھے، جو احساس کھڑا ہے، اس میں لاڈ کی مقدار کتنی زیادہ ہے۔

مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں نے اس کراچی میں جنم لیا جو ادبی، علمی اور فکری ماحول میں رنگا ہوا تھا۔ ساتھ ہی اس بات کا دکھ بھی ہے کہ جیسے جیسے شعور کی آنکھ کھلتی گئی کراچی کا یہ ماحول سمٹتا چلا گیا۔ دوائے دل لینے کسی کے مطب پر گئے تو پتہ چلا کہ وہ دکان بڑھا گئے ہیں۔ علم چرانے کسی کے مکتب پر گئے تو بتایا گیا کہ وہ اب نہیں رہے۔

ہمارے گھر سے صرف ایک کلومیٹر کے فاصلے پر جوش ملیح آبادی رہتے تھے۔ مگر کون سے جوش اور کاہے کے جوش؟ یادوں کی بارات میں ان سے تعارف ہوا تو اگلے ہی دن خبر ملی کہ وہ شہر چھوڑ گئے۔ ہم پیچھے پیچھے گئے تو وہ عدم کی چادر اوڑھ کے فنا کے راستے پر نکل گئے۔ صرف چار گلیوں کی دوری پر پروین شاکر رہتی تھیں۔ بے خبری کے دن تھے تو وہ آس پاس ہوا کرتی تھیں۔ مصرعے کی پہچان ہوئی تو وہ بھی شہر چھوڑ گئیں۔ ہماری ہی گلی میں الطاف بریلوی کے فرزند مصطفی بریلوی رہتے تھے۔ ہمارے لیے تو لے دے کے وہ گلی کے ایک چڑ چڑے بزرگ تھے، جو ہمیں اپنے گھر کے قریب کرکٹ کھیلنے نہیں دیتے تھے۔ گیند ان کے گھر چلی جاتی تو واپس نہیں کرتے تھے۔ جب خبر ہوئی کہ وہ ماہر تعلیم ہیں تو علالت کے سبب بستر کے ہو کر رہ گئے تھے۔ جرائد و رسائل میں ان کے متعلق پڑھا تو وہ شفا خانے میں داخل ہو گئے۔ ان کی جوتیاں سیدھی کرنے کا خیال آیا تو وہ ماضی کا صیغہ ہو گئے۔

ہمارے گھر کی بغل میں ہی مصطفی بریلوی کی قائم کی ہوئی قائداعظم لائبریری تھی۔ کہاں کہاں سے کیسے کیسے لوگ اس لائبریری میں نہیں آتے تھے۔ افسوس کہ ہم نہیں جانتے تھے۔ دل میں آتا ہے کہ اس زمانے کی فلم کسی طرح میرے سامنے چل جائے کہ میں دیکھوں تو سہی کہ میر جیسے یہ پراگندہ حال لوگ کون تھے، جن سے ہم کو صحبت نہیں رہی۔

وہ لوگ نہیں رہے تو لائبریری ہی رہ گئی ہوتی، مگر کہاں صاحب۔ ہمارے پڑھنے پڑھانے کے دن آئے تو دلی اجڑ گئی۔ غالب لائبریری کی چھت ہمارے گھر کی چھت سے نظر آتی تھی۔ اتنی قریب کہ ہاتھ بڑھا لیں تو دامن ہاتھ میں آ جائے۔ مگر اس کی حیثیت ہمارے (میرے ) لیے لینڈ مارک سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔ کوئی گھر آتا تو ہم اسے بتاتے کہ غالب لائبریری سے دائیں لینا ہے، بائیں لینا ہے یا سیدھا آنا ہے۔ آج جب سنتا ہوں کہ اس لائبریری کا سنگ بنیاد فیض احمد فیض نے رکھا تھا، تو دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے۔ جب پڑھتا ہوں کہ مرزا ظفر الحسن وہاں بیٹھ کر تاریخ کے پھٹے ہوئے اوراق کو جوڑا کرتے تھے تو خیال آتا ہے کہ کیا برا تھا اگر کم عمری میں ہی معرفت کے یہ درجے مل گئے ہوتے۔ ہمارے شوق پر جوانی آئی تو مرزا اوراق چھوڑ گئے اور فیض دنیا چھوڑ گئے۔ ایک غالب لائبریری ہے، وہاں بھی وقت کی مکڑیوں نے بے حسی کے جالے تن دیے ہیں۔

ہمارے علاقے سے کندھا ملا کر جو علاقہ کھڑا ہے اسے رضویہ سوسائٹی کہتے ہیں۔ ہندوستان سے آنے والے کچھ ایسے علماء یہاں آ کر آباد ہوئے جو شیعہ فرمانروان اودھ سے چلی آنے والی روایتوں کے امین تھے۔ امروہہ اور لکھنو کی تہذیب کے سب رنگ ان کی بود و باش، رہن سہن اور بول چال میں ملتے تھے۔ ہمیں ان بزرگوں کی تیسری نسل سے دوستیاں نصیب ہوئیں۔ ان کے گھروں میں آنے جانے کا ہمیں موقع ملا۔ کہہ لینے دیجیے کہ درس گاہوں سے، جو کچھ ہم نے سیکھا ہے، اس کو آخری تجزیے میں بھی نفرت ہی کہا جا سکتا ہے۔ ان بزرگوں کے ہاں آتے جاتے ہم نے جانے ان جانے میں جو سیکھا، اسے محبت اور شائستگی کہنا چاہیے۔ میری اپنی زندگی میں اس کی اگر کوئی رمق موجود نہیں ہے تو کیا ہوا۔ یہ گواہی تو ایمان داری سے دے ہی سکتا ہوں کہ انہوں نے عقیدوں اور یقینوں سے بہت باہر نکل کر ہمیں قبول کیا۔

اس علاقے میں پرچون کی دو دکانیں تھیں۔ ایک دکان پر اس زمانے میں ادھیڑ عمر خاتون بیٹھتی تھیں۔ خاتون سودا سلف پکڑاتیں تو سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتیں۔ جی میرا بچہ، جی میرا بیٹا کی گردان کرتی جاتیں اور سودا دیتی جاتیں۔ باقی کے پیسے پکڑاتیں تو دوبارہ سر پر ہاتھ پھیرتیں۔ جاتے جاتے امی ابو کا احوال بھی پوچھ لیتیں۔ امی کو سلام کہنا، ٹھیک ہے بیٹا؟ وہ ایسا کہتیں تو ہماری معصوم سی آنکھوں میں ننھے منے سے دل اتر آتے تھے۔

دوسری دکان پر طبعیت کا ایک نستعلیق جوان بیٹھتا تھا۔ گورا چٹا، قدرے فربہ۔ خوش پوش اور خوش جمال۔ گاہک سے مخاطب ہوتا تو دھیمے سے لہجے میں کہتا، کیا لیجیے گا جناب؟ جس انداز تکلم میں امیر شہر کو ہمارے دل خریدنے چاہئیں، اس سے کہیں زیادہ شائستگی سے یہ جوان دال چینی بیچتا تھا۔ میرے والد سنی عالم دین تھے۔ انہیں دیکھ کر یہ شیعہ جوان اس پھرتی سے کھڑا ہوتا، جیسے کسی قدیم مکتب میں بیٹھے طالب علم کے سر پر اچانک استاد آ گیا ہو۔ وہ سارا سودا سلف اٹھاتا اور باہر آ کر ان کی موٹر سائیکل کے ہینڈل پر ٹانگ دیتا۔ ساتھ خیریت کے جائیے حضور۔ وہ ایسے کہتا تو من کی دنیا میں پیار کی تتلیاں سرشاری سے اڑنے لگتی تھیں۔

میں آج بھی اگر خیالوں میں گھومتا ہوا کراچی کی طرف نکل جاؤں تو بچپن کے محلے سے ضرور گزرتا ہوں۔ کھیلتا ہوا یا کرائے کی سائیکل چلاتا ہوا رضویہ سوسائٹی کی گلیوں میں نکل جاؤں تو ایک مست مولائی شخص کی دھندلی سی تصویر سامنے آتی ہے اور آ کر گزر جاتی ہے۔ وہ کون ہے، کہاں سے آتا ہے، کیا کرتا ہے بچہ پارٹی کچھ بھی نہیں جانتی۔ صرف ایک بات جانتے ہیں کہ لوگ اس شخص کی عزت کرتے ہیں اور ضمیر بھائی انہیں ہاتھ کا چھالا بنا کے رکھتے ہیں۔ عقل داڑھ نکلی تو علم ہوا کہ وہ الہڑ سا پان دھان شخص، جو آتا تھا اس کو زمانہ جون ایلیا کہتا ہے اور ضمیر بھائی بھی محض ضمیر بھائی نہیں ہیں، علامہ ضمیر اختر نقوی ہیں۔

معاملہ یہ ہے کہ کسی بھی شخص کا پہلا تاثر آپ کے خیال سے چمٹ کے رہ جاتا ہے۔ اگر وہ تاثر مثبت ہو تو اس شخص کے لیے آپ کی آنکھ پر حیا کا ایک پردہ رہ جاتا ہے۔ میں ضمیر انکل کا تصور کرتا ہوں تو وہ مجھے سفید کرتے میں غدیر چوک کی طرف سے آتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ شانوں پر بال گرے ہوئے ہیں، بائیں ہاتھ میں کتاب پکڑی ہوئی ہے اور شہادت کی انگلی کتاب کے بیچ میں اٹکائی ہوئی ہے۔ پان چباتے ہوئے چپ چاپ آرہے ہیں تو لگ رہا ہے کہ کسی بات پر تاو کھائے ہوئے ہیں اور ابھی کہیں گے کہ ہٹاو وکٹیں نکلو یہاں سے۔ پاس آتے ہیں تو مسکراہٹ ایسی بکھیرتے ہیں، جیسے کہہ رہے ہوں، بھئی مجھے تو بچے کھیلتے ہوئے ہی اچھے لگتے ہیں۔ ایک بار بولے،

سنو بچے
جی انکل
تم وہ عثمانیہ والے مولوی کے لڑکے ہو؟
جی جی
وہ جو سفید داڑھی والے ہیں؟
جی بالکل
ہاں، دیکھا تھا میں نے تمہیں ان کے ساتھ پٹپٹی موٹرسائیکل پر۔ اچھے ابا ہیں تمہارے!

کل میں نے ان کی ایک ویڈیو دیکھی۔ ایک جگہ رک کر بولے ”میں نے اس قوم کے ایک ایک فرد کو اپنے بھائی اور بیٹے کی طرح چاہا ہے اور تم مجھ پر باتیں کرتے ہو؟“ ۔ یہ جملہ میں نے بار بار سنا۔ کیونکہ میں اس جملے کو سن ہی نہیں رہا تھا، محسوس بھی کر رہا تھا۔

بچپن کا بے فکر زمانہ ختم ہوا تو زندگی پڑھائی اور غم روزگار کے کئی موڑ مڑتے ہوئے اسلام آباد پہنچ گئی۔ زمانے بعد ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں ایک ذاکر مجلس پڑھ رہا ہے۔ پاٹ دار لہجہ، کڑک آواز، قیامت کا زیر و بم اور غضب کی روانی ہے۔ مسلسل خیال آئے کہ یہ تو بہت زیادہ دیکھے بھالے ہیں۔ اچانک چونکا، ارے یہ تو وہ اپنے ضمیر انکل ہیں؟ اپنے ایک پرانے دوست ذوالفقار کو ویڈیو بھیج کر پوچھا، یہ ضمیر بھائی ہی ہیں نا؟ تصدیق ہوئی تو میں یوٹیوب پر گیا، ایک تقریر سنی، دوسری سنی، تیسری سنی، سنتا گیا اور سنتا ہی چلا گیا۔ اس لیے نہیں کہ ضمیر صاحب اپنے محلے دار تھے۔ اس لیے بھی نہیں کہ وہ میرے مطلب کی کوئی بات کر رہے تھے۔ صرف اس لیے کہ لفظ میں نفاست کے اشارے، لہجے میں شفقت کے رنگ، برتاو میں معصومیت کا اظہار اور انداز میں گزری ہوئی تہذیب کے آثار مجھے کھینچے چلے جا رہے تھے۔ کسی بات پر کہیں حیرت کا جھٹکا لگتا کہ یہ شخص بات کر رہا ہے یا آزاد نظم کہہ رہا ہے۔ کہیں مسکراہٹ پھیل جاتی کہ یار یہ شخص اندر سے کتنا حسین ہے۔

کچھ سال پہلے میں بچپن کی انگلی تھام کر رضویہ کی گلیوں میں پیدل نکلا تو سوچا کہ شفقت سے سر پر جو ہاتھ پھیرتی تھی، چلو اس بڑھیا کی دکان پہ چلتا ہوں۔ کیا پتہ وہ اب بھی ویسے ہی ہو اور وہیں پر ہی ہو۔ پہنچا تو اندازہ ہوا کہ دکان گئے وقت کا نشان ہو گئی ہے۔ ساتھ ہی کھڑے ایک بزرگ سے پوچھا تو بولے، ارے بیٹا ان کا تو کب کا انتقال ہو گیا ہے۔ یہ بہت متوقع جواب تھا مگر دل ایسے اداس ہوا، جیسے یہ وقوعہ بالکل ابھی ہوا ہو۔ ہماری کیا لگتی تھی، بس یہ ہے کہ بچپن کے ساون میں ہونے والی بارش کا وہ پانی بہت گہرا ہوتا ہے، جس میں کاغذ کی کشتیاں چلتی ہیں۔

آج جب علامہ ضمیر اختر نقوی صاحب کی خبر آئی تو کچھ ایسی اداسی چھا گئی۔ ٹھیک ہے، کسی کے لیے یہ ایسے شخص کی جدائی ہو گی، جو اپنی عمر سے نیچے اتر کر بچوں کے ساتھ اٹکھیلیاں کرتا تھا۔ کسی کے لیے ایک خطیب و ذاکر کی موت ہو گی، جس نے ادب کے اداس گوشے میں اپنے حصے کی جان کھپائی تھی۔ میری تو چھوٹی سی آنکھ میں بڑا سا جو ایک لکھنو تھا، ویران ہو گیا۔ اس ویرانے میں سیاہ رنگ کی ایک سبیل ہے، جس کے نلکے پندرہ برس پہلے ہی خشک ہو گئے تھے۔ اب وہاں مٹے ہوئے لفظوں میں جیسے کسی نے لکھ دیا ہو، اب کوئی آئے تو کہنا کہ مسافر تو گیا!
بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

عاصم باجوہ نے بلوچستان میں سازش کی، نواز شریف

پیپلز پارٹی کی میزبانی میں منعقد آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے