منگل , 4 اگست 2020
ensdur
اہم خبریں

صنف نازک | لاریب مشتاق

تحریر: لاریب مشتاق

عورت کو صنف نازک کہا جاتا ہے ایک ایسی معصوم کلی جو ذرا سی لاپرواہی سے مرجھا جاتی ہے. ایسی ہی ایک لڑکی کی کہانی آج بیان کر رہی ہوں وہ بہت زیادہ بولتی تھی. باتوں میں اس سے کوئی جیت نہیں سکتا تھا. گھر ہو یا کالج وہ سب کی آنکھ کا تارا تھی. لاڈوں میں پلی وہ ایک خوبصورت لڑکی تھی. ہر وقت چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ دوسروں کے بھی چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتی تھی. تعلیم مکمل ہو گئی تھی اور اب اس کی شادی ہو گئی تھی۔
شادی کے صرف چند ہی دن بعد سسرال نے اپنی دکھانا شروع کر دی. صرف دو ہی ہفتے کے اندر اندر اس کی مسکراہٹ ختم ہو گئی تھی. وہ جو والدین کے گھر میں لاڈوں میں پلی بڑھی تھی آج سسرال میں سختیاں سہہ رہی تھی بات بات پر شوہر کا تھپڑ مارنا، ساس کا سارا دن اس پر حکم چلانا جیسے کہ وہ گھر کی ملازمہ ہو اور اپنے بیٹے کی واپسی پر بہو کے خلاف محاذ کھڑا کرنا بعد میں شوہر کا اس پر تشدد کرنا. وہ پوری رات روتی رہتی اور اپنے زخموں کو سہلاتی رہتی تھی اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتی تھی۔
آج پھر اس کے شوہر نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا تھا آج اس کی برداشت کی حد ختم ہوگی وہ ناراض ہو کر والدین کے گھر آ گئی تھی اس کے چہرے کے نشانات سے صاف ظاہر تھا کہ اس پر تشدد ہوا ہے مگر والدین کی ایک ہی ضد تھی کہ
اب وہی تمہارا گھر ہے گھر واپس جاؤ۔
اگلی صبح اسکو اس کے والدین اس کی رضامندی کے بغیر سسرال چھوڑ آئے تھے صرف دو دن کے بعد اس کے والدین کو اطلاع ملے آپ کی بیٹی کرنٹ لگنے کی وجہ سے انتقال کر گئی ہے۔
یہ خبر اس کے والدین پر قیامت بن کر گزری مگر اب کیا کیا جا سکتا تھا. یہ صرف ایک کہانی نہیں ہے اس جیسی ہزاروں کہانیاں ہمیں روزانہ پڑھنے اور سننے کو ملتی ہیں مگر ہم خاموشی سے ان واقعات کو زہر کا کڑوا گھونٹ سمجھ کر بھی جاتے ہیں۔
کتنی حوا کی بیٹیاں آدم کے بیٹوں کے تشدد کا نشانہ بنیں کءی کرنٹ لگنے کی وجہ سے، آگ لگنے کی وجہ سے، بے جا تشدد کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔
ایک سروے کے مطابق پاکستان عورتوں کے لئے چھٹا خطرناک ترین ملک ہے. صنف نازک کو رخصتی کے وقت ایک ہی جملہ کہا جاتا ہے کہ “اس گھر سے تمہاری ڈولی اٹھی ہے اب اس گھر سے تمہارا جنازہ ہی اٹھے گا”۔
جو کہ سراسر غلط ہے یاد رہے کہ طلاق یافتہ بیٹی مردہ بیٹی سے بہتر ہے۔
لڑکی خود سارے ظلم برداشت کرتے کرتے پوری عمر گزار دیتی ہے اور کءی شادی کے کچھ عرصے بعد کرنٹ یا آگ لگنے کی وجہ سے موت کی آغوش میں چلی جاتی ہے اور کءی خود ہی اس تشدد سے تنگ آکر اپنی جان دے دیتی ہیں روز تشدد کا شکار ہوتی ہیں اور روز ہی اس زخم یا نشان کو چھپاتی ہیں اور “سب اچھا ہے” کی رٹ لگاتی ہیں۔
اگر ناراض ہو کر یا تشدد سے تنگ آ کر اپنے میکے آ جائے تو والدین کو بہلا پھسلا کر واپس آ بھیج دیتے ہیں کہ کسی طرح گزارا کرو مگر وہ اپنی بیٹی کے زخم دیکھتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کرتے ہیں۔
ہمارے معاشرے کا ایک اصول ہے لڑکا اگر بدتمیز ہے، تنگ کرتا ہے، نشے کا عادی ہے، یا اور غلط کام کرتا ہے تو اس کی شادی بہترین حل سمجھا جاتا ہے جو ساسر غلط ہے. انسان کو حیوان بننے میں ایک سیکنڈ نہیں لگتا اور کچھ لڑکیاں انہیں انسان نما حیوانوں کی بربریت کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔
میری والدین سے درخواست ہے کہ اپنی بیٹی کے سسرال جا کر انکی خیریت معلوم کیا کریں اور اگر ان کو ایسے کسی مسئلے کا سامنا ہے تو ان کا ساتھ دیں۔
اور پولیس کو اتنا فعال بنایا جائے کہ وہ ان انسان نما حیوانوں کو جو عورت کو اپنی جاگیر سمجھ کر تشدد کا نشانہ بناتے ہیں کڑی سے کڑی سزا دے تا کہ آیندہ کسی حیوان کی جرات نہ ہو. اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو. آمین

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم ہیڈ عمران غزالی وزارت اطلاعات کے ‘ڈیجیٹل میڈیا ونگ’ کے جنرل مینجر مقرر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے میرٹ پر تعیناتیوں کے دعوے اقربا پروری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے