ہفتہ , 23 جنوری 2021
ensdur

صفحہ ابھی تک عمران خان کیلئے محفوظ ہے | ماہم سندھی

تحریر: ماہم سندھی

عمران خان کی جانب سے اپنی اور عوام کی تسلی کے لیے یہ بیانات آتے رہیں ہیں کہ، تمام ادارے ایک صفحے پر ہیں۔ جس کا سادہ سا مطلب یہ نکلتا ہے، حکومت اور فوج کے درمیاں تعلقات اچھے ہیں، ماضی کے مقابلے میں کوئی بھی تناؤ اب باقی نہیں ہے۔ جب کے اپوزیشن کی گیارہ جماعتوں کی جانب سے تشکیل دیا گیا اتحاد، پاکستان ڈیموکریٹک مومینٹ، اس کے ارکان بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ، جس صفحے کی آپ بات کر رہے ہو، وہ اب پھٹ چکا ہے۔ عام طور پہ دیکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آتے ہی، عمران خان نے فوج کی طرف بڑا ہی جھکاؤ والا نرم لھجا اختیار کیا ہوئا ہے۔ جب آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع پہ سپریم کورٹ نے اعتراضات اٹھائے، تو عمران خان نے جھٹ سے بازی پلٹتے ہوئے، اس سارے مسئلے کو قانونی شکل دینے کے لیے، پارلیامینٹ کا اجلاس بلاوا کر، بل پیش کیا، اور اسے منظور کرکے قانون میں شامل کردیا۔ جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ، عمران خان اعتماد پہ پورا اتر رہا ہے۔ اس کے بدلے میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ ہو، پورا دفاعی ادارہ ہو یا ملکی اسٹیبلشمینٹ، انہوں نے عمران خان کا ہر موڑ پہ بھرپور ساتھ دیا ہے، جس کی وجہ سے عمران خان کئی غلطیوں گستاخیوں کرنے کے باجود بھی ابھی سیف زون میں ہے۔ دہشتگردوں کی مالی معاونت کے لیے بیرونی فنڈنگ کا کیس ہو، بنی گالا کی جائداد پہ اعتراضات ہوں، ان کی بہن علیمہ خان کی ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ لینے والا مسئلہ ہو، یا ناکام معاشی پالیسیاں ہوں، عمران خان کو سہارا دینے کے لیے ایک بہادر کندھا ہر وقت موجود رہا ہے، جو اس کو وقت بہ وقت ہدایات بھی جاری کرتا رہتا ہے۔ بلکہ ابھی تازہ ہی، اسلام آباد کی انسداد دہشتگری کی عدالت نے عمران خان کو پارلیامینٹ حملہ کیس میں بری کر دیا ہے۔ پر پاکستان ڈیموکریٹک مومینٹ کے جلسوں کی تقریروں میں اپوزیشن کی جانب سے یہ باتیں گردش کر رہی ہیں کہ ، عمران خان کی حکومت اب جانے والی ہے، اس کے پاس جنوری تک کا وقت ہے، پھر صفحہ پلٹ جائے گا، اور مائنس ون فارمولا اپنانے کے بجائے، نئے عام انتخابات ہوں گے، جس کے نتیجے میں نئی حکومت قائم ہوگی۔ ان باتوں کی تردید کرنے اور ان امکانات کو رد کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر ریلوی شیخ رشید کو منتخب کیا گیا ہے، جو اپوزیشن کے کیے گئے تمام لفظی حملوں کا جواب بڑی توانائی سے دیتا آیا ہے۔ جب آل پارٹیز کانفرنس ہوئی تھی، تب شیخ رشید کی دھماکہ خیز انکشافات سے بھری پریس کانفرنس کسی بارودی حملے سے کم نہیں تھی۔ جس میں انہوں نے آرمی چیف کے ساتھ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے سیاستدانوں کی خفیہ ملاقات کو میڈیا اور عوام کے سامنے رکھ دیا۔ شیخ رشید کا یہ وار اپوزیشن پہ کافی سخت تھا، کیونکہ ایک خفیہ ملاقات کرکے تمام معاملات طئے کرنا ، اور اس سے عوام کو بے خبر رکھنا ، واقعی بہت سارے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے منہ چھپانے کے لیے یہ جھوٹ گھڑا کہ، وہ گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے بارے میں گفتگو کرنے گئے تھے، پر اصل گفتگو کا متن ابھی تک ظاہر ہی نہیں ہو پایا۔ جس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ، صفحہ بس ایک ہی ہے، جس پہ آنے کی خواہش تمام سیاستدان رکھتے ہیں۔ جب کہ خوشقسمتی سے اس صفحہ پر ابھی موجودگی عمران خان کی ہے۔ بیشک وہ خود کو بہت بڑا خوشنصیب سمجھتا ہوگا، جو تمام تر ناکامیوں کی وجہ سے آج بھی ان قوتوں کا لاڈلا ہے، جن کے پاس تمام اختیارات اور ڈوریں ہیں۔ پر جیسا کے اپوزیشن جماعتوں والے عندیہ دے رہیں ہیں تو، ممکنہ طور پہ عمران خان اور مسلم لیگ ن کی لڑائی، درار پیدا کر سکتی ہے، جس سے عمران خان کو اس صفحے سے نکالا بھی جا سکتا ہے۔ اگر مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو نیب سے اور کورٹوں سے کوئی رلیف مل جاتا ہے، تو یہ عمران خان کے لیے خوش آئند بات ہوگی، کیونکہ مسلم لیگ ن کی صلح میں ہی عمران خان کی بھلائی ہے ۔ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ اور مسلم لیگ ن کی لڑائیاں تو بہت ہوتی رہی ہیں، جس کی وجہ سے نواز شریف نے اپنی کرسی بھی کھوئی ہے تو اقتدار بھی قربان کیا ہے، پر یہ لڑائی دیر تک نہیں چلتی، اور سانس بہو کے جھگڑے کی طرح، روٹھ کے پھر ایک دوسرے کو منا لیتے ہیں۔ پر عمران خان کا مسلم لیگ ن کی طرف مسلسل سخت رویہ اسے کسی بڑے خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ نواز شریف کو اگر برطانیا سے واپس لا کر پھر گرفتار کیا جاتا ہے، تو خود عمران خان کے خلاف پنجاب کے اندر ایک بڑی تحریک اٹھ سکتی ہے، جس سے وہ خود کو بچا نہیں پائے گا۔ پچھلے سال اکتوبر میں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام اباد میں دھرنا دے کر، عمران خان کے تخت کو الٹنا چاہا تھا، پر وہ مکمل ناکام رہا ۔ اگر عمران خان کو مکمل سپورٹ نہ ہوتی، اگر وہ اس صفحہ سے ہٹ چکا ہوتا یا صفحہ ہی پھٹ چکا ہوتا، تو اس کا اقتدار اس کے پاس باقی نہ ہوتا۔ عمران خان کی حکومت کو آئے دو سے اڈائی سال گذر چکے ہیں، پر تمام تر مشکلات کی وجہ سے، قومی اسمبلی میں چند ہی ووٹوں کی برتری ہونے کے باوجود ، وزارت اعظمیٰ کا عہدہ لینے والے کپتان، ابھی تک اس صفحہ میں محفوظ نظر آ رہے ہیں، جس سے ان کو ہٹانے کی بہت کوشش کی جا رہی ہے۔ پی ڈی ایم اتحاد والے اپنی سر ڈھر کی بازی تو لگا رہے ہیں، پر جب تک عمران خان کے سر پہ اوپر والوں کا آشیرواد ہے، تب تک صفحہ عمران خان کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے، اور اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

دن نثار کیے جا ، سب پے وار کیے جا | وسعت اللہ خان

تحریر: وسعت اللہ خان جھے واقعی سمجھ میں نہیں آتا کہ حکومتوں کو گڈگورننس کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے