اتوار , 28 فروری 2021
ensdur

صدراتی ریفرنس سماعت: جمہوریت کا تسلسل رہتا تو شاید سیاست میں یوں پیسہ نہ چلتا

سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے سے متلعق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے  دوران اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ لوگ لیڈرز کی طلسماتی شخصیت کو ووٹ دیتے ہیں۔

سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کے صدارتی ریفرنس پر سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں ہوئی۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات ہو رہی ہے کہ سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے ہوں گے تو چیئرمین سینیٹ کے بھی ایسے ہی ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے، اگر چیئرمین سینیٹ کا انتخاب اوپن بیلٹ سے کرانا ہو تو آئینی ترمیم درکار ہو گی، بھارت میں چیئرمین سینیٹ اور نائب صدر کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہوتا ہے۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ سینیٹ میں ووٹر کو مکمل آزادی نہیں ہوتی جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ بھارتی فیصلوں کا حوالہ دے رہے ہیں، بھارتی آئین میں خفیہ ووٹنگ کا آرٹیکل 226 نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ بھارتی آئین میں ہر الیکشن کے لیے خفیہ ہونے یا نہ ہونے کا الگ سے ذکر ہے، آرٹیکل 226 میں تمام انتحابات خفیہ ووٹنگ سے ہونے کا ذکر نہیں ہے، آرٹیکل 226 کے مطابق آئین کے تحت ہونے والے الیکشن خفیہ ہوں گے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آئین بنانے والوں کو سینیٹ الیکشن کا معلوم نہیں تھا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اوپن ووٹنگ کی فروخت آج ہے پہلے نہیں تھی، 1973میں تو معلوم بھی نہیں ہو گا کہ لوگ نوٹوں کے بیگ بھر کر لائیں گے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ صورتحال اتنی بھی سادہ نہیں ہے جتنی آپ کہہ رہے ہیں جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جمہوریت برقرار رہتی تو شاید سیاست میں یوں پیسہ نہ چلتا۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید کا کہنا تھا کہ کل تک دلائل مکمل کر لوں گا جس پر عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

کیا اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہو گئی ہے؟ | ملک سراج احمد

تحریر: ملک سراج احمد فروری میں ہونے والے ضمنی انتخابات نے ملک کی سیاسی فضاء …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے