اتوار , 1 نومبر 2020
ensdur

شہدائے کارساز کی یاد میں | نذیر ڈھوکی

تحریر: نذیر ڈھوکی

18 اکتوبر 2007 کو محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی وطن واپسی کی خبر سنتے ہی ملک بھر سے جیالوں اور جانثاروں نے شھر قائد کراچی کا رخ کیا ، گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والوں کی تو عیدالفطر ہی سفر میں گذری، جیالوں اور جانثاروں کو خوشی اس بات کی تھی کہ ان کی ماں جیسی شفیق بہن وطن واپس آرہی ہیں، انہیں یہ بھی خدشہ لاحق تھا کہ ان کی بہن کی زندگی کو سخت خطرہ ہے ، مگر وہ ہر خطرے سے بے نیاز تھے کیونکہ محترمہ بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کی خوشی ان کیلئے انمول تھی۔

اپریل 1999 کو جب محترمہ بے نظیر بھٹو اپنی بیمار والدہ مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کی تیمارداری کیلیئے بیرون ملک روانہ ہوئیں اس وقت جمہوریت دشمن سوچ رکھنے والے ان کے عدالیہ کے ذریعے ان کی سیاست کو قتل کرنےکی منصوبہ بندی کر چکے تھے ، سابق وزیراعظم نواز شریف نے روزنامہ جنگ کے سہیل وڑائچ کو دیئے ہوئے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ انہیں محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف فوج اور آئی ایس آئی نے اکسایا تھا وہ چاہتے تھے کہ محترمہ بینظیر کی عوام میں ساکھ ختم ہو جائے۔

18 اکتوبر 2007 کو جب محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے وطن واپسی کا فیصلہ کیا اس وقت حالات مکمل طور تبدیل تھے، شدت پسند خونی بھیڑیئے بن کر ملک کے انچ انچ پر بارود کی آگ بھڑکا رہے تھے ، اسٹیبلشمنٹ کے لاڈلوں نے وانا کے بعد سوات سے بھی پاکستان کا پرچم اتار دیا تھا ، افواج پاکستان کے جوانوں کے سر قلم کرکے دہشت گرد فوٹ بال کھیل رہے تھے ، وطن دشمن شدت پسندوں کی جلائی ہوئی بارود کی آگ خیبر پختونخوا، بلوچستان، سندھ اور پنجاب کو جلانے لگی اس آگ کے شعلوں نے اسلام آباد کو بھی لپیٹ میں لے لیا وہ اس قدر طاقتور بن چکے تھے کہ راولپنڈی میں جی ایچ کیو پر بھی حملہ آور ہوچکے تھے، ایسے خوفناک اور خطرناک حالات میں وطن پرست محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی وطن واپسی کا فیصلہ ایک بہادر اور بے خوف قائد ہی کر سکتی ہیں۔

محترمہ بینظیر بھٹو شہید ایک ہی وقت مادر وطن کو خارجیوں سے پاک کرنے اور 1973 کے آئین کے تحت پارلیمنٹ کو بااختیار بنانے کیلیئے اپنے وطن واپس آئیں تھیں۔

انتہائی درد ناک حقیقت یہ ہے کہ ریاست نے ان کی حفاظت کرنے کی بجائے وطن دشمن شدت پسندوں کی سہولت کاری کی جنہوں نے کراچی کے کار ساز مقام کو انسانی خون سے سرخ کردیا۔

سلام سلام سلام سلام سلام کار ساز کے شہیدوں کو سلام جو اپنی ماں جیسی شفیق بہیں کی زندگی بچانے کیلئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے انہوں نے بارود کی آگ میں ڈھال بن کر اپنی عظیم اور ماں جیسی شفیق بہن کو آنچ نہیں آنے دی ، ان میں ایسے بھی جانثار ہیں جو گڑھی خدا بخش بھٹو میں، میں بھٹو ہوں کے نام پر اپنا ابدی آرام گاہ آباد کردیا ہے۔

قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید نے فرمایا تھا کہ بارش سے جس گھر کی چھت ٹپکتی ہے اس گھر میں میری روح موجود ہوتی ہے، 18 اکتوبر 2007 کو محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے کارواں میں ان کی حفاظت کرکے اپنی جان کا نذرانہ دینے والے بھی وہ ہی تھے ، یہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے ایسے بھائی تھے جو اپنی بہن کی زندگی بچانے کیلیئے آہنی ڈھال بن گئے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

Slip of Toungue or Slip of mind | لاریب مشتاق

تحریر: لاریب مشتاق ہٹلر کا قول ہے کہ کسی بھی ملک کو شکست دینے کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے