جمعہ , 10 جولائی 2020
ensdur
CORONAVIRUS PAKISTAN
243599
  • Sindh 100900
  • Islamabad 13829
  • KP 29406
  • Punjab 85261
  • Balochistan 11052
  • GB 1619
  • AJK 1485
  • DEATH 5058

شہانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کیوں کی | حسنین جمیل

تحریر: حسنین جمیل

زرد صحافت کا پہلا اصول ہے کہ جھوٹ کو اس بڑے پیمانے پر پھیلا دیا جاے کہ وہ سچ لگنے لگ جائے بدقسمتی سے بھارت اور پاکستان میں برقی ذرائع ابلاغ کے آنے کے بعد یہ کام کچھ زیادہ ہی تواتر سے ہونے لگا ہے ادکار شہانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے بارے میں اس قدر جھوٹ بولا جا رہا ہے کہ وہ سچ لگنے لگ رہا کہ شہانت سنگھ راجپوت نے خود کشی اس لیے کی کہ ان کو کام نہیں مل رہا تھا انکو جاب لیس کرانے میں ادکار سلمان خان اور ٹاپ فلم میکر کرن جوہر کا ہاتھ ہے۔

چونکہ شہانت سنگھ سٹار کڈ نہیں تھے ان کا تعلق مہبمی سے بہت دور ایک پسماندہ ریاست بہار سے تھا اس لیے ان کو جاب لیس ایک سازش کے تحت کیا گیا۔۔افسوس کہ سب جھوٹ ہے شہسانت سنگھ بالکل جاب لیس نہیں تھے اس انکی پچھلی دو فلمیں کدارناتھ ہٹ اور چھچوے سپر ہٹ ہوی تھیں شہانت سنگھ سٹار ڈم کی طرف قدم بڑھا رہے تھے ان کو بے تحاشا فلموں کی آفر ہو رہی تھیں وہ فلموں کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرتے تھے اور سکرپٹ کے انتخاب کے معاملے میں بہت خوشی تھے شہانت سنگھ راجپوت نے تین فلموں کا انتخاب کیا جس میں بالی وڈ کے بہت بڑے فلم میکر ساجد نڈواٹاالا کی فلم تھی جس کے ڈاہکٹر رومی جعفری تھے۔

دوسری فلم آسکر ایوارڈ یافتہ ڈاہکٹر رسول بالو کی فلم جو ملیالم زبان میں بن چکی ہے اب اسکو اب ہندی بھاشا میں بنایا جا رہا تیسری فلم سنجے سورن سنگھ کی تھی لاک ڈون کے خاتمے کے بعد ان تینوں فلموں کی عکس بندی شروع ہونے والی تھی اگر شہانت سنگھ راجپوت کا موازنہ اپنے ہم عصر سٹار کڈز کے ساتھ کیا جاے جن میں ٹائیگر شروف ورن دھون شامل ہیں تو ان دونوں میں کوہی بھی اسیا نہیں جس نے تمام ٹاپ فلم میکرز جن میں ادیتیہ چوپڑہ۔کرن جوہر ۔راج کمار ہیرانی اور نتیش تیواری کے ساتھ کام کیا ہو صرف شہانت سنگھ راجپوت واحد نان فلمی بیک گراؤنڈ کا حامل ادکار ہے جس نے ان ٹاپ کے فلم میکرز کے ساتھ کام کیا ہے ۔سلمان جسیے سپر اسٹار ایکٹر کو اگر کسی سے چونکنا ہونے کی ضرورت ہے تو وہ اکشے کمار اجے دیوگن رن ویر سنگھ اور رنبیر کپور ہیں شہانت سنگھ راجپوت نہیں اور کرن جوہر تو خود انکو اپنی فلم میں چانس دے چکے ہیں۔ اب انکی خودکشی کی طرف آتے ہیں شہانت سنگھ راجپوت چھوٹی عمر سےہی ڈپریشن کے مریض تھے ان کو کو کلینیکل ڈپریشن تھا اس کا علاج بھی چل رہا جس کے لیے انکو بڑی مقدار میں روزانہ میڈسن کھانی پڑتی ہے شہانت سنگھ راجپوت کا افیر رہیا چکرورتی سے بھی چل رہا تھا جو ماڈل ہیں دونوں ایک دوسرے سے ٹوٹ کر پیار کرتے ہیں بالکل اسیے ہی چسے فلموں کی لو سٹوری ہوتی ہے رہیا بہت کوشش کر رہی تھی کہ شہانت سنگھ ٹھیک ہو جائے اس نے شہانت سنگھ کے فلیٹ میں رہہنا شروع کر دیا تھا بڑی مقدار میں میڈسن دن میں تین دفعہ کھلانے کی زمہ داری رہیا چکرورتی نے سنبھالی لی تھی۔

مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی والا معاملہ شروع ہو گیا شہانت سنگھ کا علاج کراتے کراتے رہیا خود نفسیاتی مسلے کا شکار ہو گئی جب اس کو پہلا دورہ پڑا تو شہانت سنگھ نے رہیا سے کہا تم مجھے اکیلے چھوڑ دو میرے فلیٹ سے چلی جاؤ تم خود ڈپریشن کے مرض میں مبتلا ہو جاؤ گی مگر رہیا نے انکار کر دیا درحقیقت دونوں رہیا اور شہانت سنگھ عشق کی انتہا پر تھے ۔شہانت نے خود رہیا کا سامان پیک کیا اور اس کے گھر چھوڑ آیا ۔ آپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے رییا کی تمام تصاغ ہٹا دی اور خودکشی کر لی ۔۔رہیا نے اپنے محبوب کا لاش کا آخری دیدار ہستپال میں کیا کیونکہ لاک ڈون کے باعث صرف 25 افراد کو شہانت سنگھ راجپوت کے کریا کرم کی اجازت تھی جس میں رہیا چکرورتی کا نام نہیں تھا۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

سنتھیا یقیناً کسی ایجنڈے پر آئی ہے: لطیف کھوسہ

سابق گورنر پنجاب، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے