منگل , 4 اگست 2020
ensdur
اہم خبریں

شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر ایکشن کیلئے ایف آئی اے کی 11 رکنی ٹیم تشکیل

شوگر کمیشن کی رپورٹ پر ایکشن کے لئے ایف آئی اے کی 11 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی۔ انکوائری ٹیم کے سربراہ ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد ڈاکٹر معین مسعود ہونگے۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کی 11 رکنی ٹیم جعلی طور پر چینی کی افغانستان برآمد کرنے کے معاملے کی تحقیقات کرے گی۔

تحقیقاتی ٹیم میں کسٹمز، ایف آئی اے اور ایف بی آر سمیت سٹیٹ بنک کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم منی لانڈرنگ کی بھی تحقیقات کریگی۔

وفاقی کابینہ نے 23 جون کو شوگر کمیشن کی رپورٹ پر کارروائی کی منظوری دی تھی۔ وزیراعظم کی ہدایت پر مشیر احتساب و داخلہ شہزاد اکبر نے گورنر سٹیٹ بینک، مسابقتی کمیشن اور تین صوبوں کو بھی خط لکھے تھے جس کیساتھ شوگر کمیشن رپورٹ بھی بھجوائی گئی تھی۔

خط میں کہا گیا ایف بی آر شوگر ملز کی بے نامی ٹرانزیکشنز کی تحقیقات کرے، نیب شوگر کمیشن کے نتائج کی روشنی میں ذمہ داروں کا تعین کرے۔

معاملے پر عدالتی فیصلہ آنے تک غیر ضروری اقدامات اٹھانے اور شوگر کمیشن رپورٹ پر حکومتی عہدیداروں کو بیان بازی سے روک دیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے شوگر ملز مالکان کو سندھ ہائیکورٹ سے ملنے والا ریلیف ختم کرتے ہوئے چینی سکینڈل کے معاملے پر شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں حکومت کو کارروائی کی اجازت دی تھی۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ کابینہ نے شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کمیشن رپورٹ کی سفارشات کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل کی منظوری دی ہے۔

شبلی فراز کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے تحقیقات کے لیے کمیشن کا قیام عوامی مفاد میں کیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا تھا کہ انکوائری کمیشن کی سفارشارت کے ضمن میں متعلقہ اداروں کو سونپی جانے والی ذمہ داریوں کے حوالے سے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت میں اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم ہیڈ عمران غزالی وزارت اطلاعات کے ‘ڈیجیٹل میڈیا ونگ’ کے جنرل مینجر مقرر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے میرٹ پر تعیناتیوں کے دعوے اقربا پروری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے