ہفتہ , 8 اگست 2020
ensdur

شرمسار کون ہو گا ؟ | نذیر ڈھوکی

تحریر: نذیر ڈھوکی

کورونا وبا کا روپ دھارے گھر کے آنگن میں وحشیانہ رکس کر رہی ہے، میڈیا خبردار کر رہا ہے، نہ صرف ملک کے ڈاکٹر اور طبی ماہرین بلکہ صحت کا عالمی اداره چیخ چیخ کر تاکید کرتے ہیں کہ ہوش کے ناخن لیں کورونا وبا کو روکنے کیلیٸے سخت لاک ڈاٶن کرو یا کرفیو لگا کر انسانی جانیں بچاٶ مگر ریاست کا لاڈلا میں نہ مانوں کی رٹ لگاٸے بیٹھے ہیں ان کی اس ضد اور میڈیا کی رپورٹس نے پاکستان کے عوام کو پریشان کردیا ہے ایسا لگ رہا ہے جیسے کوٸی نفسیاتی مریض حاکم نے پوری رعیت کو ڈپریشن کا مریض بنانے کی ٹھان رکھی ہے۔

ریاست کے ایک اور گوھر نایاب اسد عمر کہہ رہے ہیں کہ اگلے ماہ تک کورونا کے متاثرین کی تعداد 13 لاکھ ہو جاٸے گی ان کی فلاسفی بھی یہی ہے کہ لوگ اپنی صحت کا خود خیال رکھیں یہ معاملہ حکومت کے سر کا درد نہیں ہے ، ایسی صورتحال اور
حکومتی رویہ دیکھ کر یہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ سلیکٹڈ کے سلیکٹرز بھی یا تو شعوری طور نابین ہیں یا لالچی ذہن رکھنے والے ہیں وہ تاحال ان دو سو ارب ڈالروں کے آنے کے منتظر ہیں . انہیں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہے شاہی ڈراٸیور کو ٹپ کے طور چند ریال تو مل سکتے ہیںدو سو ارب ڈالر نہیں ملتے۔
سوال یہ ہے کہ سلیکٹرز کیوں اس تھیوری پر یقین کر رہے ہیں کہ انسانی لاشوں پر معیشت کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے ؟ ابھی جب سلیکٹڈ حکومت کو دو سال ہونے کو ہیں ان کے لاڈلے نے سیاسی استحکام اور خارجہ امور کے بخیٸے ادھیڑ کر رکھ دیٸے ہیں کامیاب ریاست کی ساکھ بہتریں خارجہ امور اور ملک میں سیاسی استحکام سے ممکن ہے تلخ حقیقت یہ ہے ہم پڑوسی ممالک سے اعتماد کا رشتہ برقرار نہیں رکھ سکے۔
صدر آصف علی زرداری کی قائدانہ صلاحیتوں کی وجہہ سے سرحدیں پر امن رہیں انہوں نے نہ صرف پاک چین راہداری کی بنیاد رکھی بلکہ پاک ایران گیس پاٸپ منصوبے کے ذریعے ملک کی تواناٸی سیکٹر کو مضبوط بنانے کے لیٸے عملی طور اقدامات اٹھائے ، یہ بھی صدر آصف علی زرداری کی تھیوری تھی کہ ایڈ نہیں ٹریڈ وہ عالمی منڈی تک پاکستان کی رساٸی کیلٸے کام کرتے
رہے اور قوم کو خود دار اور ملک کو ترقی کے راستے ، پارلیمان کو بااختیار ، صوبوں کو خود مختاری ، اور وفاق کی تمام اکایوں کو این ایف سی ایوار سے نوزانے کے بعد جب ایوان صدر سے رخصت ہوئے تو تہمت گروں کے جوڑے ہوٸے احتساب کے شرمناک رویوں کا سامنا کرتے زندان پہنچے۔
اب ریاست رٕیاست پر مالکانہ حق کے دعویدار اس لالچ میں ہیں کہ کورونا وبا سے مرنے والوں کی لاشوں پر معیشت کھڑی ہو گی اور دنیا سے ڈالروں کی بارش ہوگی انسانی لاشوں پر ملک کی معیشت کھڑی ہوگی انہیں کون سمجھائےگا کہ انسانی لاشوں کے المیہ پر صرف ہمدردی کے دو بول تو سننے کو ملیں گے مگر اس سے ریاست کی معیشت نہیں سنبھلے گی ، خیرات اور صدقے
کے رحم کی رقم سے کچھ دنوں کیلیٸے پیٹ تو بھر سکتا ہے مگر گھر تعمیر نہیں ہوتے۔
در حقیقت عمران خان کو یہ آج تک اس بات کا احساس ہی نہیں کہ کورونا وبا سے جان دینے والے انسان کس اذیت سے گذرتے ہیں کورونا کے شکار کینسر کے مرض سے کٸی گنا زیادہ اذیت کا سامنا کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگلے ماہ تک کورونا کے شکار مریضوں کی زندگیاں بچانے والے ڈاکٹر اور طبی عملہ خود کورونا کا شکار ہوکر زندگی کی بازی ہارتے رہے تو پھر کیا ہوگا؟
سچ بات یہ ہے انسانی دل رکھنے والے حساس لوگ ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے عظیم کردار کے سامنے اپنا سر خم کرتے ہیں جو انسانی جانیں بچانے کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اپنی اور اپنے پیاروں کی خواہشات اور جذباتی رشتوں کو عظیم مقصد پر ہاوی ہونے نہیں دیتے۔

سوال یہ ہے کہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کے صبر کا امتحان کب تک لیا جائے جائے گا ؟
ملک کب تک ایک نفسیاتی بیمار کا بوجھ اٹھاتا رہے گا جب ملک میں ہر سمت تباہی ہی تباہی ہوگی تو شرمسار کون ہوگا ؟

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

مغل اعظم اور پانچ اگست | وسعت اللہ خان

تحریر: وسعت اللہ خان اس پانچ اگست کو بابری مسجد کے ملبے پر رام مندر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے