جمعہ , 10 جولائی 2020
ensdur
CORONAVIRUS PAKISTAN
243599
  • Sindh 100900
  • Islamabad 13829
  • KP 29406
  • Punjab 85261
  • Balochistan 11052
  • GB 1619
  • AJK 1485
  • DEATH 5058

شاہ زیب قتل کیس، تفتیشی افسر کے زبانی (آخری حصہ) | نیاز احمد کھوسو

تحریر: نیاز احمد کھوسو (سابق ایس ایس پی، تفتیشی افسر شاہ زیب قتل کیس)

اہم اور ضروری پارٹ 1.

ملزمان کی پوچھ گچھ کے دوران جو واقعات سامنے آئے وہ آپ کے ساتھ شیئر کرنا لازمی ہے۔ تاکہ عوام کو بھی پتہ چلے کہ پولیس کی ڈیل کی وجہ سے اصل ملزمان کو کلین چٹ مل جاتی ہے ۔ سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس لینے اور میڈیا کے دباؤ کی وجہ سے بے گُناہ لوگ کس طرح پس جاتے ہیں۔

اصل واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ شاہ زیب اپنی بہن دلہن کو بیوٹی پالر سے لیکر پارکنگ میں گاڑی کھڑی کی اور دلہن کار سے اتری کار کے سامنے ٹالپورں کا نوکر لاشاری کار کے سامنے کھڑا تھا اور ایک ٹک دلہن کو گھور رہا تھا یہ بات شاہ زیب کو بری لگی اور کار لاک کرتے ہی لاشاری کے پاس چلا گیا اور اُس کو کہا کہ میری بہن کو کیوں گھور رہے ہو ؟ اور لاشاری پر تھپڑوں کی بارش کردی ساتھ میں ہی شادی تھی شاہ زیب کے اور دوست اور رشتیدار بھی جمع ہوگئے اور انھوں نے لاشاری کی خبر لینا شروع کردی،

ساتھ میں عام راستہ تھا، مجمع جمع ہو گیا اور ٹریفک رُک گیا اور لاشاری مار کھاتے ہوئے وہاں سے گذرنے والے شاہ رخ جتوئی کی نئی کار کے بانٹ پر گر گیا۔ شاہ رخ جتوئی اپنی کار کے نقصان کی وجہ سے کار سے اُترا اور شاہ زیب والوں کو برا بھلا کہنا شروع کردیا۔ شاہ زیب والوں نے لاشاری کو چھوڑ کر شارخ کو مارنا شروع کردیا قریب شادی میں شاہ زیب کے والد ڈی، ایس، پی صاحب یہ سارا تماشہ دیکھ رہے تھے وہ درمیان میں آگئے اور شارخ کو مجمع سے چھڑا کر کار میں سوار کرا دیا اور شاہ رخ سے پوچھا کہ کس کے بیٹے ہو شاہ رخ نے بتایا کہ میں سکندر جتوئی کا بیٹا ہوں۔

جیساکہ ٹالپور اور شاہ زیب والے ایک ہی بلڈنگ میں قریب ہی فلیٹس میں رہتے تھے اور وہ اپنی فیملی کے ساتھ شادی میں مدعو تھے جب لاشاری اور شاہ رخ کی پٹائی کی جارہی تھی اُس وقت ٹالپور بھائی ساری جھگڑے سے بے خبر اپنی فیملی کے ساتھ شاہ زیب کے والدہ کے ساتھ شادی میں بیٹھے تھے۔ ( شادی کی تقریب کے دوران بننے والی وڈیو میں یہ واضع ہے )

شاہ رخ کی پٹائی کی وجہ ہونٹ پھٹ گئے تھے وہ جیسے گھر پہنچا اس کے کزن سنی جتوئی اور رشتداروں نے پوچھا کہ کس نے مارا ہے، شاہ رخ نے بتایا کہ راستے میں شادی تھی ان لوگوں نے مارا ہے۔ سنی جتوئی نے شاہ رخ کو کہا کہ ہمارے ساتھ چلو دکھاؤ کس نے مارا ہے۔ یہ لوگ اسلحہ لیکر شادی والی جگہ پہنچے، شاہ زیب نے جب دیکھا کہ لڑکے اُس سے لڑنے آئے ہیں وہ کار میں خود کو بچانے کیلئے بھاگا۔ شاہ رخ والوں نے کار کا پیچھا کیا آگے جاکر شاہ زیب کی کار الٹ گئی۔ شاہ رخ کے کزن سنی جتوئی نے شاہ زیب پر سیدھے فائر کیئے اور موقعہ سے فرار ہوگئے۔ ( یہ ساری تفصیل مجھے شاہ رخ جتوئی نے جہاز پر بتائی جو میں نوٹ کرتا گیا اور بعد میں سارے ملزمان سے پوچھ گچھ اور اصل حالات اور واقعات کو قریب سے دیکھنے کے بعد غیر جانبداری سے یہ نتیجہ اخذ کیا )

مطلب یہ کہ شاہ زیب کا قتل Pre planed نہیں تھا واقعات کے تسلسل وجہ تھی، میڈیا کوئی اور کہانی بتا رہا تھا مگر شاہ زیب کا قتل شاہ رخُ کا راستے جاتے ہوئے مار کھانے کی وجہ سے ہوا۔

پرچہ ہوگیا پرچے میں شاہ زیب کے والد نے شارخ کے ساتھ لاشاری اور دو ٹالپور بھائی بھی نامزد کر دیئے۔

جب میڈیا پر شور مچا تو شاہ رخ اور سنی جتوئی دبئی بھاگ گئے۔ سنی جتوئی کا لندن کا ویزا لگا ہوا تھا وہ لندن فرار ہو گیا ۔

دوران تفتیش SIU میں ٹالپورں کا کہنا تھا کہ وہ شاہ رخ کو نہیں جانتے اور شاہ رخ کا کہنا تھا کہ قتل میں اُس کا کزن سنی جتوئی اور دوسرے رشتیدار ساتھ تھے وہ ٹالپورں اور لاشاری کو نہیں جانتا۔

جیساکہ میڈیا میں دوسری کہانی چل رہی تھی ہم نے اپنا شک دور کرنے کیلئے شارخ اور ٹالپورں کے موبائل فون کا کال ریکارڈ نکلوایا ہم نے پورے کال رکارڈ کو چیک کیا شاہ رخ اور ٹالپورں کی آپس میں رابطے کی ایک کال بھی نہیں تھی اور نہ ہی کبھی یہ لوگ ایک لوکیشن پر ایک ساتھ تھے !!!!

جیساکہ مجھے اس تفتیشی ٹیم میں دبئی جاتے وقت ایک آرڈر کے تحت شامل کیا گیا تھا، کیس فائل کو ساؤتھ ضلع کے افسران دیکھ رہے تھے۔

اہم اور ضروری پارٹ 2

ایک دن آئی جی صاحب کے آپریٹر نے فون کیا کہ صاحب یاد کررہے ہیں جلدی آئیں۔

کچھ ہی دیر میں میں آئی جی صاحب کے سامنے کھڑا تھا اور اُن کو سیلوٹ کیا اُس وقت کمرے میں ایڈیشنل آئی جی کراچی اقبال محمود صاحب اور شاہد حیات صاحب تشریف فرما تھے، آئی جی صاحب نے مجھے کہا کہ نیاز شارخ کے والد سکندر جتوئی کے سپریم کورٹ نے ضمانت منسوخ کی تھی، آج سکندر جتوئی کا ریمانڈ ختم ہو رہا ہے، ایک انسپیکٹر مبین ہم سے دو گھنٹے ہوئے ہیں قابو نہیں آرہا۔ وہ کہتا ہے کہ سکندر جتوئی کو بھی اس کیس میں چالان کرے گا۔ کل ہم میڈیا اور لوگوں کو کیا منہ دکھائیں گے۔ سپریم کورٹ نے تو سکندر جتوئی کو صرف اس لیئے ہماری تحویل میں دیا تھا کہ سکندر جتوئی پر دباو ڈال کر شارخ کو گرفتار کیا جا سکے۔ شارخ تو گرفتار ہوگیا ہے۔ اور یہ کہتے ہوئے وہ کانفرنس ہال کی طرف چل پڑے جہاں انسپیکٹر مبین موجود تھا۔ میں نے آئی جی صاحب اور ایڈیشنل آئی جی صاحب دونوں کو کہا آپ کانفرنس روم میں نہ چلیں۔ میں اور شاہد حیات صاحب مبین سے بات کرتے ہیں۔

شاہد حیات صاحب ایسے موقعوں پر بہت ہنستے تھے اور پولیس کے حالات پر مزہ لیتے تھے۔ آئی جی صاحب کے کمرے سے نکلتے ہی باہر راہداری میں مجھے ہاتھ سے پکڑ کر کھڑے ہوگئے اور کہا ارے نیاز یہ دن بھی ہم نے پولیس میں دیکھنے تھے۔ ایک انسپیکٹر ہمارے اور آئی جی صاحب کے قابو میں نہیں آرہا۔

کانفرنس روم میں ہم جیسے داخل ہوئے انسپیکٹر مبین کھڑا ہو گیا اور ہم دونوں کو سیلوٹ کیا، شاہد حیات صاحب اور میں ساتھ ساتھ انسپیکٹر مبین کے سامنے بیٹھ گئے، میں نے مبین سے پوچھا کہ سکندر جتوئی کے خلاف آپ کی کیس فائل میں کیا ثبوت ہیں ؟ اور سکندر جتوئی کو کیسے چلان کرو گے ؟ انسپیکٹر مبین نے مجھے دو ٹوک انداز میں جواب دیا سر میں سکندر جتوئی کو 215/216/216A تعزیرات پاکستان میں چالان کروں گا۔ ( کسی مجرم کو پناہ دینا)

میں نے مبین کو کہا کہ بھائی اس قانون میں والد تو چالان نہیں ہوسکتا۔ وہ اس لیئے چالان نہیں ہوسکتا کہ مُلزم تو سکندر جتوئی کی پناہ سے گرفتار ہی نہیں ہوا، اور نہ ہی سکندر جتوئی نے یہ چھپایا ہے کہ شاہ رخ کہاں ہے ؟ مُلزم تو دبئی سے گرفتار ہوا ہےمبین نے دو ٹوک انداز میں کہا سر مجھے جیل میں نہیں جانا آگے بھی جناب افتخار چوہدری صاحب ہیں۔ میں چالان کر دیتا ہوں بھلے سکندر جتوئی کو عدالت چھوڑدے۔

میں نے شاہد حیات صاحب کو کہا سر آپ آئی جی صاحب کے پاس تشریف رکھیں میں مبین سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔

شاہد حیات صاحب کے جاتے ہی میں نے انسپیکٹر مبین کو کہا کہ “ مبین تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو آگر تم صحیح ہوتے تو میں پہلا آدمی ہوتا جو تمہارے ساتھ کھڑا ہوتا۔ ایک بیٹے کے جرم کی وجہ سے اُس کے باپ کو خوامخواہ قتل کیس بند کردیا جائے یہ اچھا نہیں لگتا۔ اور یہ ناانصافی ہے۔ کل آپ کا بیٹا ایکسیڈنٹ میں کسی کو مار دے اور آپ اپنے دفتر میں کام کر رہے ہوتے اور آپ کو کیس میں بُک کردیا جائے کیا یہ انصاف ہوگا ؟؟؟؟ آپ کو کیسا لگے گا ؟؟؟؟؟

میں نے مبین کو مزید کہا کہ جیساکہ میں اس کیس کی مزید تفتیش میں اپنے پاس رکھتا ہوں اور سکندر جتوئی کو آزاد کر دیتا ہوں۔ سپریم کورٹ میں میں خود ہی فیس کر لوں گا۔ ( یہ قانونن میں کر سکتا تھا) انسپیکٹر مبین ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا اور مجھے کہا کہ سر آپ بیچ میں مت آئیں !!!! میں آئی جی صاحب اور دوسرے افسران کو دکھانا چاہتا ہوں کہ ایک تفتیشی افسر کیا ہوتا ہے ؟؟؟؟؟ اصل میں مبین سپریم کورٹ سے خوفزدہ تھا

انسپیکٹر مبین آخر میں اس شرط پر آمادہ ہوگیا کہ میں سکندر جتوئی کی آزادی کی رپورٹ 169 Crpc تیار کرتا ہوں اُس پر آزادی کا آرڈر آپ کریں گے کہ اگر کل سپریم کورٹ نے اس پر اعتراض کیا تو میں کہوں گا کہ آپ کے تحریری حکم پر سکندر جتوئی کو آزاد کیا گیا ہے۔

انسپیکٹر مبین رپورٹ بنانے لگا میں نے آئی، جی صاحب کو سارا ماجرا سنایا شاہد حیات صاحب حسب عادت دل کھول کر ہنستے رہے ۔ اگر اُس دن میں سکندر کیس کی تفتیش میں مزید کیا ہو رہا تھا مجھے اس کا کچھ بھی پتا نہیں تھا آخر میں پتہ چلا کہ شارخ جتوئی کے کزن سنی جتوئی اور دوسرے رشتیداروں کے نام نکال دیئے گئے ہیں اور بیگناہ دو ٹالپور بھائی اور لاشاری نوکر کو منڈھ دیا گیا ہے۔

ٹرائل کورٹ کے جج صاحبان بھی ہائی پروفائیل کیسز میں لکیر کے فقیر والا کام کرتے ہیں، میں نے ایسے بھی ٹرائل کورٹ کے جج دیکھے ہیں جو کسی دن تفتیشی افسر کو اپنے چیمبر میں بُلا لیتے تھے اور ٹیبل پر قرآن پاک رکھ لیتے تھے اور پوچھتے تھے کہ اصل واقعہ کیا ہے ؟ اور کون اصل مُلزم ہیں ؟ اور کون کون بے گناہ ہیں ؟؟ یا ٹرائل کورٹ کے جج صاحبان اپنے طور پر علائقے کے لوگوں سے معلومات کی بنیاد پر اپنا جوڈیشل مائینڈ اپلا Judicial Mind Apply کرکے فیصلہ کرتے تھے۔

میں نے سندھ ہائیکورٹ کے دو جج صاحبان جسٹس صلاح الدین پنہور صاحب، جسٹس اقبال کلہوڑو صاحب، اور بلوچستان ہائیکورٹ کے جسٹس نعیم افغان اور جسٹس محمد ہاشم کاکڑ صاحب عدالت چلاتے دیکھا ہے، کیا کمال کے لوگ ہیں۔ یہ اپنی پوری کوشش کرتے ہیں ہیں کہ کیس کے تہہ تک پہنچیں۔ اگر بات سمجھ میں نہ آئے تو سائل سے خود پوچھتے ہیں۔ بات کو سمجھنے کے بعد اپنا جوڈیشل مائینڈ اپلا کرکے کوئی فیصلہ کرتے ہیں

شاہ رخ والوں کو عدالت نے سزائے موت سنادی ہے، شاہ زیب کے والد نے 53 کروڑ اور پوری فیمل کی آسٹریلیا کی سٹیزن شپ، گھر ، دبئی میں ایک villa وغیرہ لے کر دعیت کے قانون کے مطابق قتل معاف کردیا ہے۔

اس کیس کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دو ٹالپور بھائی اور ان کا نوکر لاشاری مفت میں رگڑا کھا رہے ہیں شاہ رخ والے تو سال میں اربوں روپے کما لیتے ہیں مگر ٹالپور والے سفید پوش لوگ ہیں ان کا گذر بسر مشکل سے ہوتا ہوگا۔ اللہ پاک سب کی اولاد کو ایسی عافت ناگہانی سے پناہ میں رکھے۔
کہاں سے بات کہاں تک جا پہنچی۔
کیا لاشاری کا دلہن کو دیکھنا۔
اور شارخ کا اُسی وقت وہاں سے گذرنا۔
اور لاشاری کا شارخ کی گاڑی پر گرنا۔
اللہ پاک سے ہر پل میں خیر و برکت طلب کرنی چاہیئے۔

جب ہم طاقت کے نشے میں مست ہوتے ہیں تو اللہ پاک ایک مقررہ وقت پر ہمیں بتاتا ہے کہ ہماری تعلقات اور اربوں روپیہ کسی کام کا نہیں۔ سکندر جتوئی کرب پتی آدمی ہے۔ اُن کے پاس اپنے ہیلی کاپٹر اور جہاز ہیں، بڑے بڑے حکومتی کرتہ دہرتہ، سول،فوجی اور عدالتی جج صاحبان سے ذاتی مراسم ہیں مگر یہ سب اللہ کی مشیت اور حکم کے آگے بے بس اور لاچار ہیں۔

پہلا حصہ کا لنک 

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

سنتھیا یقیناً کسی ایجنڈے پر آئی ہے: لطیف کھوسہ

سابق گورنر پنجاب، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے