اتوار , 20 ستمبر 2020
ensdur

سی سی پی او لاہور نے گندی گالیاں دیں اور چھتر مارنے کا حکم دیا، انسپکٹر نے خودکشی کی دھمکی دےدی

سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے گجر پورہ میں ایک سال قبل نجی ٹارچر سیل بنانے پر معطل ہونے والے سابق ایس ایچ او اور 4 اہلکاروں کو حوالات میں بند کر کے مقدمہ درج کروا دیا۔ ایک اہلکار کی سی سی پی او آفس کے سامنے بچوں سمیت خودکشی کی دھمکی۔

حوالات جانے والوں میں انسپکٹر رضا جعفری سمیت چار اے ایس آئی عمران، ارشاد ، شہزاد اور عمران بھی شامل ہیں، اہلکاروں نے گزشتہ سال کرول جنگل میں نجی ٹارچر سیل میں شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا تھا جبکہ اہلکاروں کے تشدد سے امجد ذوالفقار نامی شہری کی ہلاکت ہوئی تھی۔

دوسری جانب انسپکٹر احمد رضا جعفری نے دعویٰ کیا کہ میں دو سال پہلے بطور ایس ایچ او گجرپورہ پرفارم کررہا تھا، اس دوران منشیات فروش پکڑے گئے تھے، جن کو پریس کے ذریعے ویڈیو بناکر وائرل کیا گیا، اس وجہ سے میری ٹرانسفر ہوگیا۔ ان میں ایک لڑکا جو منشیات فروش تھا رہائی کے بعد وفات پاگیا جسے ڈاکٹر نے لکھا کہ یہ ہارٹ اٹیک سے مرا ہے۔اس پر کسی قسم کا تشدد نہیں ہوا۔

سی سی پی او نے ڈیڑھ سال بعد ویڈیو منگواکر ہمیں بلایا، ہمارے ساتھ سخت زیادتی کی ہے، ہمیں گندی گالیاں دی گئی ہیں اور ہمیں چھتر مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر میرے ساتھ انصاف نہ کیا تو میں بچوں سمیت سی سی پی او آفس کے سامنے خودکشی کرلوں گا۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

میثاق جمہوریت ۔ 2 کی ضرورت

تحریر: سید مجاہد علی اتوار کو اسلام آباد میں ملک کی تمام اپوزیشن پارٹیوں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے