جمعرات , 4 مارچ 2021
ensdur

سینٹ کا انتخاب اور حکومتی بدحواسی | آفتاب احمد گورائیہ

تحریر: آفتاب احمد گورائیہ

آج کل سینٹ کا انتخاب سیاسی ماحول پر چھایا ہوا ہے۰ انتخابی شیڈول جاری ہو چکا ہے، کاغذات نامزدگی جمع ہو کر سکروٹنی کے مرحلے میں ہیں۰ سیاسی جماعتیں ٹکٹوں کا اعلان کر چکی ہیں۰

اس دفعہ سینٹ کے دلچسپ ترین انتخابات ہونے جا رہے ہیں سب سے بڑا میلہ قومی اسمبلی میں لگے گا جہاں وزیراعظم اور حکومت کو اپنی بقا کا مرحلہ درپیش ہے۰ پی ڈی ایم نے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد سے سینٹ کا امیدوار بنا کر تُرپ کا جو پتہ پھینکا ہے اس نے حکومت کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں۰ پاکستان کی جمہوری قوتوں نے سخت ترین لڑائی لڑنے کے لئے سید یوسف رضا گیلانی پر اعتماد کیا ہے ، یہ ایک ایسا انتخاب ہے جس کے لئے قومی اسمبلی کے اکثریتی ووٹ کی ضرورت ہے یعنی وزیر اعظم کو گھر بھیجنے کے لئیے عدم اعتماد کی راہ ہموار ہو گی۰ سید یوسف رضا گیلانی کی جیت ایسے ہی ہو گی جیسے حکومت کا بجٹ پاس نہ ہو سکے یا وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد ہو جائے۰

حکومت کو قومی اسمبلی میں بہت ہی چھوٹی سی چھ سات سیٹوں کی اکثریت حاصل ہے جبکہ مبینہ طور پر ناراض اراکین کی تعداد بیس سے پچیس بتائی جا رہی ہے جو سیکرٹ بیلٹ میں حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کے خلاف ووٹ دے کر یا اپنا ووٹ ضائع کرکے حکومت کے لئے تباہی کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۰ اس کے علاوہ سید یوسف رضا گیلانی کے ذاتی تعلقات بھی ان کے لئے کچھ ووٹوں کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۰ یہ سب عوامل مل کر وزیراعظم اور حکومت کے لئے ایک بڑی پریشانی کا باعث بن چکے ہیں۰ ایک دو ماہ پہلے تک جب پی ڈی ایم کی طرف سے سینٹ کے انتخاب اور ضمنی انتخاب لڑنے کے بارے کوئی واضح پالیسی نہیں آئی تھی تو حکومت کے لئے راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۰ ضمنی انتخاب کا اچانک اعلان کرکے حکومت نے اپنی طرف سے بڑا داو کھیلا تھا۰ پی ڈی ایم کی کچھ جماعتوں اور کچھ نام نہاد صحافیوں کا فوری ردعمل یہ تھا کہ پی ڈی ایم کو ضمنی انتخابات اور سینٹ انتخابات کا بائیکاٹ کرتے ہوئے فوری طور پر اسمبلیوں سے استعفے دے دینے چائیں۰ جب پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے پہلے پہل ضمنی انتخاب اور سینٹ انتخاب لڑنے کا عندیہ دیا گیا تو کچھ نام نہاد دانشوروں نے پیپلزپارٹی کو پی ڈی ایم سے نکالنے تک کا مشورہ دے ڈالا۰ پیپلزپارٹی نے سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف حکومتی چال کو فوری طور پر بھانپ لیا بلکہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر تمام جماعتوں کو دلائل سے قائل کر لیا کہ اس موقع پر استعفے دینا یا ضمنی انتخاب اور سینٹ انتخاب کا بائیکاٹ کرنا اپنے پاوں پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے اور اس سے حکومت کو اپنی من مانی کرنے، اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو رول بیک کرنے کا نادر موقع میسر آ جائے گا۰ اس طرح پیپلزپارٹی نے ایک بار پھر قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے پی ڈی ایم کی جماعتوں کو نہ صرف ضمنی انتخاب بلکہ سینٹ کا انتخاب لڑنے پر آمادہ کرکے حکومت کی یہ چال ان پر ہی الٹ دی۰ اب تک ہونے والے ضمنی انتخاب حکومت نہ صرف بری طرح ہاری ہے بلکہ تحریک انصاف کا ووٹ بھی خطرناک حد تک کم ہو گیا ہے۰ سندھ اور بلوچستان میں تو تحریک انصاف کے امیدوار اپنی ضمانتیں بھی نہیں بچا سکے۰ اس سے تحریک انصاف کے انتخابی مستقبل کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۰

ضمنی انتخابات کے بعد حکومت کو اگلا سخت ترین مرحلہ اب سینٹ انتخابات کا درپیش ہے۰ حکومت کو اپنے اراکین پارلیمنٹ سے خطرہ ہے کہ اس کے بہت سارے ناراض اراکین سینٹ انتخاب کے دوران اس کا ساتھ نہیں دیں گے۰ اسی کے توڑ کے لئے کبھی وہ آرٹیکل 226 کی تشریح کے لئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور کبھی آرڈیننس لے کر آتے ہیں۰ سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان بھی ایک سیدھے سادھے معاملے کو جس کی تشریح تمام بڑے بڑے قانونی اور آئینی ماہرین کے مطابق آدھے گھنٹے کا کام تھا اور سپریم کورٹ اس سارے معاملے کو ایک دن میں نمٹا سکتی تھی لیکن اس معاملے کو غیر ضروری طور پر طول دے دیا گیا ہے۰ آرٹیکل 226 کی آئینی تشریح تو ایک دن کا کام تھا لیکن اس کو غیر ضروری طور پر طول دے کر متناسب نمائیندگی پر بات کی جا رہی ہے جبکہ متناسب نمائندگی سپریم کورٹ کا اختیار ہی نہیں پارلیمان کاہے۔ آئین میں کہیں متناسب نمائندگی کی بات نہیں کی گئی۰ اگر متناسب نمائیندگی پر ہی سینٹ کی نشستیں دینی ہیں تو پھر الیکشن کی کیا ضرورت ہے؟ غیر آئینی کام ہی کرنا ہے تو پھر صوبائی اسمبلیوں میں جماعتوں کی نمائیندگی کے مطابق ان کو سینٹ میں نشستیں الاٹ کر دی جائیں۰ اسی طرح قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی متناسب نمائیندگی کی بنیاد پر نشستیں الاٹ کی جانی چائیں۰

تحریک انصاف کی جانب سے بنائی جانے والی ایک ویڈیو جس میں اس کے اپنے ہی چھ سات ارکان کو ان کے اپنے ہی رہنماوں نے پیسے دئیے اور ویڈیو بنا لی۰ اب اس ویڈیو کو لے کر سپریم کورٹ باقی آٹھ نو سو اراکین پارلیمنٹ کے انتخاب کو بھی کرپٹ پریکٹس کے آئینے میں دیکھنے کی کوشش کر رہی ہے۰

حکومت کی اپنی بنائی ہوئی ویڈیو جو ان کے پاس دو ہزار اٹھارہ سے موجود تھی اور اب سپریم کورٹ کو متاثر کرنے کے لئے وہ اسے منظر عام پر لے کر آئے ہیں اور جس کی بنیاد پر سپریم کورٹ کئی دنوں سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر رہی ہے اس کا فرانزک ٹیسٹ کروانا بھی ضروری نہیں سمجھا گیا لیکن اس کی بنیاد پر آئینی ترمیم کو بائی پاس کرکے سیکرٹ بیلٹ کا کوئی توڑ نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۰ ‏ کوشش کی جا رہی ہے کہ آئین کی تشریح کے نام پر یا آرڈیننس کے ذریعے آئین میں ترمیم جیسا کام کیا جائے لیکن یہ ہو نہیں سکتا۰ آئین میں ترمیم کا کام پارلیمنٹ کا ہے۰ آئین پاکستان میں ایک نکتے کی تبدیلی بھی پارلیمنٹ ہی کرسکتی ہے، یہ اختیار سپریم کورٹ یا الیکشن کمیشن سمیت کسی کے پاس نہیں۰

اگر کرپٹ پریکٹس ہو رہی ہے تو اس کرپٹ پریکٹس کو روکنے کی ضرورت ہے یہ تو نہیں کہ من چاہی تشریح کرکے آئین کو ہی بدل دیا جائے۰ آئین کو بدلنے کا ایک طریقہ ہے جس سے صرف انداز نہیں کیا جا سکتا۰ الیکشن کمیشن کا موقف بالکل درست ہے کہ اوپن بیلٹ کے لئے آئین کے آرٹیکل 226 میں ترمیم درکار ہے لیکن جس طرح کے سوالات الیکشن کمیشن سے پوچھے جا رہے ہیں وہ قانونی اور آئینی طور پر غیر متعلقہ ہیں اور الیکشن کمیشن پر موافق موقف اختیار کرنے کے لئے دباو ڈالنے کے زمرے میں آتے ہیں اس سے ایسا لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن کٹہرے میں کھڑا ہے۰ الیکشن کمیشن کو اس پر دو ٹوک موقف اپنانا چاہیے کہ الیکشن کمیشن ایک آزاد ادارہ ہے جو آئین کے مطابق الیکشن کروانے کا ذمہ دار ہے اس لئے اس کی آئینی ذمہ داری میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۰ چیف جسٹس کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کو یہ کہنا کہ آپ بات کی گہرائی کو نہیں سمجھ رہے اپنے اندر بہت سے معنی رکھتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن آئین کو تو سمجھ رہا ہے لیکن “بات کی گہرائی” ان کو واقعی سمجھ نہیں آ رہی۰

‏تمام متعلقہ اداروں اور حکومت کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نظریہ ضرورت کے تحت آئینی تشریح یا کسی آرڈیننس کے تحت آئین میں ترمیم انتہائی خطرناک کام ہو گا۰ ایسا کرنے سے پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو جائے گی۰ حکومت کو کوئی خوف ہے تو مسئلہ پارلیمنٹ میں لے آئے، پارلیمنٹ میں بحث ہو اور راستہ نکالاجائے، ریاست کی مضبوطی کا دارو مدار آئین پر ہوتا ہے اور آئین کے ساتھ غیر ضروری چھیڑ چھاڑ تباہ کن ہو سکتی ہے۰

موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے چارٹر آف ڈیموکریسی کے مطابق آئینی معاملات کو دیکھنے کے لئے علیحدہ سے ایک وفاقی آئینی عدالت بنانے کی ضرورت بھی اشد سے محسوس کی جا رہی ہے جس میں صرف آئینی امور طے کیے جائیں جبکہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ صرف دیوانی اور فوجداری معاملات پر سماعت کریں۰ پاکستان پیپلزپارٹی نے اٹھارویں ترمیم کے وقت بھی وفاقی آئینی عدالت کی تشکیل پر زور دیا تھا لیکن اُس وقت اس تجویز کو عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا لیکن حالیہ تجربے کے بعد تمام جمہوری قوتوں کو اس تجویز کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر لینا چاہیے تاکہ وقت آنے پر وفاقی آئینی عدالت کی تشکیل عمل میں لائی جا سکے۰

بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت کو سینٹ میں جتوانے کیلئے پورا ریاستی نظام زمین آسمان ایک کئے ہوئے ہے۰ عدالت کا فیصلہ جو بھی آئے سر آنکھوں پر، بیشک سارے ادارے عمران خان کے ساتھ ایک پیج پر ہوں لیکن عوام کا موڈ اور ضمنی انتخابات کا رزلٹ بتا رہا ہے کہ عوام عمران خان کے ساتھ ایک پیج پر ہرگز نہیں ہیں اور عوام کے لئے یہ صورتحال زیادہ دیر تک قابل برداشت نہیں رہے گی۔

Twitter: @GorayaAftab

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ منتخب کرائیں گے: بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے