جمعرات , 29 اکتوبر 2020
ensdur

سینما پاکستان کا چہرہ | حسنین جمیل

تحریر: حسنین جمیل

وزراعظم عمران خان کی زہر صدارت وزارت ثقافت کا ایک اعلی سطح کا اجلاس ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے پاکستانی فلموں کی بحالی اور انکو پروموٹ کرنے کے حوالے سے مثبت پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے اور پاکستانی سلور اسکرین کو بھرپور تعاون کرنے کی یقین دہائی کرائی گئی ہے، اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد ادکار شان نے ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

متحدہ ہندوستان میں 5 بڑے فلمی مراکز تھے ،ممبئی، چنائے، کولکتہ، حیدراباددکن اور لاھور آج سوائے لاھور کے تمام فلمی مراکز آباد ہیں، بلکہ بھارت میں تو اب بنگلور اور چندی گڑھ میں بھی فلمساز متحرک ہیں، ہم نے لاھور کے علاؤہ کراچی اور ڈھاکہ کے فلمی مرکز آباد کیئے، مگر اب ڈھاکہ ہمارے ساتھ نہیں لاھور کا روایتی فلمی مرکز حکومتی عدم توجہی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے باعث بند ہو گیا، کراچی کے کچھ پڑھے لکھے نوجوانوں نے اپنی ہمت اور لگن کے باعث فلمی مرکز آباد کر دیا ہے، کراچی فلمسازی اور سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک آئیڈیل شہر ہے، ہمارا المیہ ہے ہم نے 73 سالوں میں فنون لطیفہ کی کسی اصناف کے حوالے سے سنجیدہ بات کی ہی نہیں، شتر بے مہار نوکر شاہی نے ثقافتی پالیسی بنائی ہی نہیں اور فلم ٹی وی، تھیٹر کو کبھی پروموٹ کرنے کا سوچا ہی نہیں۔

کراچی شہر میں ایک وقت میں 100 سینما گھر تھے لاھور میں 60 کے قریب تھے مگر سب ٹوٹتے گئے، سیاست دانوں نے مذہبی طبقہ کو تو خوب پروموٹ کیا، مگر کبھی فنون لطیفہ کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی، جب عسکری حکومتیں بنی تب بھی ثفافت انکی ترجیح نہیں رہی، یوں ہماری فلم انڈسٹری لاھور میں خودرو پودے کی طرح بڑھتی گئی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان پڑھ غیر نصابی سرگرمیوں کے حامل افراد نگار خانوں میں داخل ہو گئے جن کے اہداف فلم سے زیادہ فلمی اداکارہ سے تعلقات استوار کرنا ہوتے تھے۔ آج لاھور کے فلمی صنعت کی تباہی سب کے سامنے ہے ،بھارت میں اس وقت 10 سے زائد زبانوں میں فلمیں بن رہی ہیں، ہمارے ہاں بھی تین زبانوں اردو ،پنجابی، پشتو زبانوں میں مسلسل فلمیں بنتی رہی ہیں۔

اس وقت حکومت پاکستان کو تین چار بڑے اقدامات کرنے ہوں گے سب سے پہلے ایک فلم انسٹیٹیوٹ کا قیام عمل میں لایا جائے، کراچی فلمسازی کے حوالے سے سب سے آئیڈیل شہر ہے وہاں سنٹکروں کی تعداد میں فلمیں اور ڈرامے عکس بندی کے مراحل میں ہیں، وہاں ایک جدید فلم سٹی کا قیام عمل میں لایا جائے، سب سے پہلے اردو فلموں کی حوصلہ افزائی کی جائے ،جب اردو سنیما مستحکم ہو جائے پھر پنجابی اور پشتو زبان کی فلموں کو پرموٹ کیا جائے لاھور کے روایتی فلمی صنعت کی بحالی کی جائے اردو اور پنجابی فلموں کے حالات سازگار بنائیں جائیں ،پشاور میں فلم میکرز کے لیے جدید سٹوڈیو بنایا جائے ،ان تنیوں شہروں میں فلمسازی کرنے والوں کو مراعات دی جائیں، سنمیا انڈسٹری کو مراعات دیں جدید سنیما گھر بنائے جائیں اور بچ جانے والے سنیما گھروں کو ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے ،آنے والے تین سالوں میں یہ سب کام پر عمل درآمد ہقنیی بنائیں ہماری فلم انڈسٹری بحران سے نکل ائے گی۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

وزیراعظم عمران خان کی آرمی چیف سے ملاقات

وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی ہے، جس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے