منگل , 22 ستمبر 2020
ensdur

سیاست کو قرنطینہ میں نہیں ڈال سکتے | ماہم سندھی

کورونا وائرس کی وطن عزیز کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں تباہ کاریاں جاری ہیں۔ ہمارے ملک میں وائرس زدہ لوگوں کی تعدادنو ہزار ، اور اموات کہ اعداد و شمار دو سئو کی حد عبور کر چکے ہیں۔ یہ وائرس کب ختم ہوگا، اس کی خاطر خواہ ویکسین کب ایجاد ہوگی یہ ابھی تک کوئی یقین کہ ساتھ نہیں کہہ سکتا۔ کورونا وائرس ایک عالمی آفت ہے، جس کہ زیر اثر دنیا کہ زیادہ تر ممالک آ چکے ہیں، اور ایسے میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ تمام تر نجی و بیرونی معاملات کو پس پشت رکھ کر، صرف اس وائرس کہ خاتمے پہ دھیان مرکوز کیا جائے ، اور یہ کوشش کرنی چاہئیے، کہ اس کو  زیادہ پھیلنے سے کیسے روکا جائے۔ ہماری ملک کی بڑی ہی بدقسمتی رہی ہے کہ جہاں ہمارے سیاستدان پارلیامینٹ جیسے مقدس ادارے کو مچھلی بازار بنا کر اس میں گالم گلوچ کرتے ہیں، وہیں یہ کم ظرفی بھی موجود ہے کہ، سنگین معاملات پہ بھی اپنی سیاست کو چمکانے کے طور طریقے ڈھونڈے جاتے ہیں، جیسے آنے والے الیکشن میں ہماری جیت پکی ہو۔  دھشتگردی کہ خلاف قومی یکجہتی کا اعلان ہم نے تب تک نہ کیا، جب تک پشاور آرمی پبلک اسکول کہ ڈیڈ سئو بچوں نے خود کو قربان کر کہ ہمیں سبق نہ سکھایا۔ ہمارے نام نہاد سیاسی ہیرو کوئی ایکشن تب ہی لیتے ہیں، جب پانی سر سے اوپر تک گذر جائے، جب ملکی سلامتی اور عوام کی جان آخری سانس کو آں پہنچی ہوں۔
حالت حاضرہ میں جہاں ملک میں قاتل کورونا وائرس تیزی سے پھیلاتا جا رہا ہے، وہیں ساتھ ہی دو جماعتوں کی آپس میں الزام بازی کے شغل جاری ہیں۔ کورونا جیسی وبا سے کیسے نمٹنا ہے، عوام کو کیسے محفوظ رکھنا ہے، اس پہ بھی پہلے دن سے ہی سندھ حکومت اور مرکز میں اقتدار کہ مزے لیتی پی ٹی آء کے بیچھ میں شدید اختلافات پائے گئے ہیں۔ ملک بھر میں ایک پالیسی بنا کر اس پہ کیسے عمل درآمد کروانا ہے، اور صوبوں کو ان کے آئینی حدود میں رہہ کر کام کرنے کی اجازت کب دینی ہے، یہ دیباچہ ہمارے بَرسرِ اقتدار رہنے والی کوئی بھی سیاسی جماعت پڑھنے کی زحمت نہیں کرتی۔
صوبہ پنجاب ، خیبرپختونخواہ میں تو پی ٹی آء صاحب اقتدار ہے ، بلوچستان میں بھی اس کی اتحادی حکومت بنی ہے، باقی رہتا ہے سندھ تو وہاں حکمراں پیپلزپارٹی ہے، اور پی ٹی آء کو لگتا ہے اصل حزب اختلاف بس یہی جماعت ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد اب تو یہ بات سب تسلیم کر چکے ہیں کہ ہر صوبہ اپنی خودمختاری کو استعمال کرتے ہوئے، اپنی مرضی کہ فیصلے کر سکتا ہے، پر اس پہ عمل کرنے سے پتا نہیں کیوں کانٹے چھبے جا رہے ہیں۔۔۔ ؟ چھبیس فروری کو جوں ہی کراچی میں کورونا کا پہلا کیس ظاہر ہوئا تو راتو رات وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاھ نے سارے تدریسی مراکز بند کرنے کا اعلان کردیا اور بعد میں مارچ کہ آخری ہفتے کو صوبہ بھر میں لاک ڈائون کا فیصلا کرنے میں بھی پہل سندھ حکومت نے کی تھی ۔ بس اتنی سی بات ہوئی کہ وزیراعظم عمران خان بھڑک گئے، اور لفظوں کی گولا باری شروع ہوگئی۔ تب وہ یہ بات بھول گئے کہ صوبائی حکومت نے اپنا آئینی حق استعمال کرتے ہوئے کورونا کے پھیلاؤ کہ خلاف بر وقت اقدام لیے ہیں ، جیسے اس کو زیادہ پھیلنے سے روک پائیں۔ انہوں نے یہ فیصلے اپنی طرز سے نہیں، بلکہ دنیا بھر کی احتیاطی تدابیر کو دیکھتے ہوئے کیے۔ پر اس سنجیدہ فیصلے کو صرف اپنی انا اور مخالفت دکھاتے ہوئے بہت تنقید کی گئی، اور ایسا جتایا گیا، جیسے لاک ڈائون کرنا وقت کی ضرورت نہیں بلکہ اپنا شوق ہو۔ جس بروقت لاک ڈائون پر عالمی ادارہ صحت نے مراد علی شاہ کو سراہا، وہیں بات ٹور مروڑ کہ عوام کہ سامنے ایسے رکھی گئی جیسے کہ کورونا ایک خطرناک وائرس ہو ہی نہ، اور دنیا بھر میں ہونے والی ہلاکتیں کسی ہالی ووڈ کی فلم کا ایکشن سے بھرپور منظر ہو۔
جوں جوں وقت گزر رہا ہے دونوں اطراف سے سیاسی بیان بازی شروع ہوگئی ہے ، یہاں تک کہ امدادی راشن کی تقسیم ہو یا ماسک کی، اس میں اپنی جماعت اور اپنے حلقے کا اسمبلی نمبر لکھ کر بانٹا اور سوشل میڈیا پہ پوسٹ کیا جا رہا ہے۔ آٹے کی پانج کلو کی تھیلی ہو یا ایک عدد صابن ہو، اس  پہ بھی باقاعدہ سے اپنی جماعت کا پورا سیاسی شجرہ تصویروں کہ ساتھ چھپوایا گیا ہے، جیسے کوئی کمی پیشی نہ رہہ جائے۔ زیادہ تر قومی اور صوبائی اسمبلی ممبران جو کہ الیکشن کہ وقت عوام کی خدمت کا وعدہ کرتے ہیں، وہ سارے ازخود قرنطینہ میں چلے گئے ہیں، اور سیاست جس کو قرنطینہ میں اس وقت رکھنا چاہئے تھا ، وہ تو اپنی پوری آب و تاب سے ہر نیوز بلیٹن میں سرخیوں کا حصہ ، اور سیاسی ٹالک شو کا موضوع بن گئی ہے۔ جہاں سیاسی ٹالک شو میں کورونا سے تحفظ کے لیے حکمت عملی کہ بارے میں مختلف سیاسی رہنما گفتگو کرتے ، وہاں ہمارے اینکر اور صحافی پی ٹی آء اور پی پی پی کہ رہنمائوں کو بُلا کر، ان کو ایک دوسرے کہ خلاف بھڑکا کہ ، ان کی لفظی لڑائی کا مزا لوٹ رہے ہیں۔ اینکر بھی کیا کریں، ان کی روزی روٹی کا سوال ہے، جو موضوع حاظرین اور ناظرین میں زیادہ دلچسپی کا سبب بنے گا، وہی تو بحث مباحثہ کا نقطہ ہوگا۔ آخر جس ٹی وی چئنل پہ وہ کام کرتے ہیں اس کی ریٹنگ بھی تو بڑھانی ہوتی ہے۔  سو دونوں جماعتیں لفظی طور پر آپس میں گتھم گتھا ہوگئی ہیں۔ پی ٹی آء کہ بہت دنوں تک نظر نہ آنے والے رہنما بھی نمودار ہوگئے ہیں ، اور ایک دو کو تو وزیراعظم نے سیاسی بیان بازی پہ شاباسی بھی دے ڈالی۔ اور دیتے بھی کیوں نہ ، وہ ہیں تو آخر سیاستدان ہی ، سیاست کرنا ان کا پیشہ ہے، اگر سیاست کو قرنطینہ میں ڈال دیتے تو کیسے سیاست کا پہیہ چلتا، بھئی سدا تو اقتدار میں نہیں رہنا، سو جو جو موقعہ ملے سیاست تو بھرپور کریں گے۔ کہنے کو تو وزیراعلیٰ سندھ ہاتھ جوڑ کر اور وزیراعظم بنتی کر کہ کہتے ہیں کہ خدارا اس وقت سیاست کو چھوڑ کر، عوام کا سوچو، پر دل سے کوئی بھی سیاست کو قرنطینہ میں رکھنے پہ راضی نہیں ، کھلے ماحول میں اس کو چھوڑنے کی حمایتی ہیں ۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

نواز شریف اتنے بھی “بھولے” نہیں | نصرت جاوید

بسااوقات واقعتا گھبرا جاتا ہوں۔ چند مہربان پڑھنے والے بہت اشتیاق سے اہم ترین سیاسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے