ہفتہ , 17 اپریل 2021
ensdur

سوشل ویلفیئر آزادکشمیر کی غیرمنصفانہ تقسیم | پروفیسر عبدالشکور شاہ

تحریر: پروفیسر عبدالشکور شاہ

سوشل ویلفیئرکا قومی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ہے۔سوشل ویلفئیر کے ریاستی ادارے رضاکارانہ اور مختلف این جی اوز کے اشتراک سے عوامی فلاح و بہبود کے لیے منصوبے شروع کرتے ہیں۔غریب اور پس ماندہ علاقے اورا ضلاع ان منصوبوں کی اولین ترجیحات میں شامل ہو تے ہیں۔مگر بدقسمتی سے آزادکشمیر میں سوشل ویلفیئر کے گنتی کے چند ادارے اور مراکز ہیں۔ 50%سے زیادہ اضلاع میں یا تو یہ ادارے سرے سے موجود ہی نہیں یاغیر فحال ہیں۔سوشل ویلفیئرآزادکشمیر کی جانب سے ان اداروں اور مراکز کی غیر منصفانہ تقسیم اس بات کی دلیل ہے کہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں سنجیدہ نہیں ہے۔آزادکشمیر کی4.045ملین آبادی کے لیے عوامی فلاح و بہبود اور ترقی نسواں کے کل 31مراکز موجود ہیں۔1.64%اضافے کی شرح کے ساتھ آزادکشمیر کے اکثر اضلاع کو سوشل ویلفیئر پروگرامات سے محروم رکھا گیا ہے۔آزادکشمیر کے اضلاع کی کل تعداد10ہے۔دارالفلاح کے کل 5ادارے مظفرآباد، باغ، پونچھ،کوٹلی اور میرپور میں موجود ہیں۔ باقی5 اضلاع میں کوئی ادارہ موجود نہیں ہے۔ اداروں کی یہ غیر منصفانہ تقسیم جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے۔دیہی گھریلو مراکز تعلیم کے بھی پورے آزادکشمیر میں 5مراکز ہیں۔دیگر شعبہ جات کی طرح چند اضلاع کو نواز کر باقیوں کو محروم رکھا گیا ہے۔یہ 5مراکزمظفرآباد، باغ، پونچھ، کوٹلی اورمیر پور میں قائم ہیں۔ آزادکشمیر میں کل 8کاشانہ سنٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ ضلع نیلم، جہلم، سندھوتی، حویلی، اور بھمبر کو ان سے محروم رکھا گیا ہے۔ پورے آزادکشمیر میں 3شلٹر ہومز بنائے گئے ہیں جن میں سے 2مظفرآباد اور ایک کوٹلی میں قائم ہے۔ آزادکشمیر بھر میں کل 3سوشل ویلفیئر کمپلیکس موجود ہیں۔ مظفرآباد، باغ اور پونچھ کو نوازنے کے علاوہ باقی تما م اضلاع کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ کشمیر بھر کے لیے سپیشل ایجوکیشن کے کل 2 مراکز بنائے گئے ہیں اور ان کی قرعہ اندازی بھی باغ اور مظفرآباد کے نام نکالی گئی ہے۔ کیا آزادکشمیر کے باقی اضلاع کے سپیشل افراد مریخ پر بھیج دیے جاتے یا وہاں سپیشل افراد پیدا ہی نہیں ہوتے۔ آزادکشمیر میں منشیات کی لعنت تیزی سے پھیل رہی ہے۔جبکہ اس کے سدباب کے لیے پورے کشمیر میں صرف 3مراکزبحالی منشیات قائم کیے گئے اور یہ بھی مظفرآباد، پونچھ اور میر پور کے نام کر دیے گئے۔ آزادکشمیر بھر میں صرف 2سوشل ویلفیئر سنٹرز ضلع نیلم اور حویلی میں قائم ہیں باقی اضلاع کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ ترقی نسواں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک رو ا رکھا گیا ہے۔آزادکشمیر میں کل 21ترقی نسواں کے مراکز ہیں۔ ضلع نیلم اور حویلی کو ان مراکزسے محروم رکھا گیا ہے جبکہ ضلع نیلم کی 51%آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ روزگار اور ترقی نسواں کے آزادکشمیر میں 14 مراکز ہیں مگر یہ تعداد ناکافی ہے کیونکہ خواتین میں بے روزگاری کی شرح مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ پورے کشمیر کے لیے محض 6گرلز ووکیشنل ادارے قائم کیے گئے ہیں اور ضلع نیلم، جہلم اور حویلی کے ساتھ سوتیلا سلوک روا رکھتے ہوئے انہیں محروم رکھا گیا ہے۔ دنیا ووکیشنل تعلیم کی اہمیت و افادیت کو سمجھتے ہوئے مہارتوں پر زاور دے رہی ہے اور اس کے لیے ادارے اور پراگرامات شروع کر رہی ہے جبکہ ہم ہر میدان میں الٹی گنگا بہانے کے عادی ہو چکے ہیں۔ آزادکشمیر کی تقریبا نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے اور ہم نے نصف آبادی کے لیے صرف 6ووکیشنل ادارے قائم کیے ہیں۔ یہ سرکاری دستاویزات کے اعدادو شمار ہیں اور ہم جانتے ہیں جتنے ادارے فائلوں میں ہوتے ان کا نصف بھی زمین پرموجود نہیں ہوتا۔ بینظیرشہید ویمن ڈولپمنٹ سنٹرز بھی گنتی کے 2 ہیں اور یہ آزادکشمیر کے سب سے غریب اور پس ماندہ اضلاع مظفرآباد اور میرپور میں قائم کیے گئے ہیں۔ یہی حال ہم نے بینظیر انکم سکیم کے ساتھ کیا۔ گریڈ 17 سے لیکر 21 تک کے سرکاری افسران نے غریبوں کا مال ہڑپ کیا اور احساس پروگرام کے ساتھ بھی یہی ہوا ساری پیسہ سرکاری ملازمین کھا گئے کیونکہ ان سے بھوکہ تو آج تک نہ پیدا ہوا ہے اور نہ قیامت تک ہو گا۔ یہ پیسہ ریکور کیا گیا تو کہاں گیا اس کا بھی کچھ علم نہیں۔ ہمارے ایک سابقہ ڈی سی صاحب نے بھی اس گنگا میں جی بھر کر ہاتھ دھوئے۔وسیلہ روزگار پروگرام بھی کرپشن کی نظر ہو گیا اور غریب آہیں بھرتے رہ گئے۔ غریبوں کے نام پرکلرک مافیا نے اپنے رشتہ داروں کو یہ کورس کروائے اور اس ضمن میں بھی کرپشن کی انتہا کر دی۔ مفت ملنے والے فارم کے بھی پیسے لیے گئے۔کلرک مافیاکسی ناسور سے کم نہیں ہے۔اگر آزادکشمیر کے کلرکوں کا احتساب کیا جائے تو اکثر کروڑ پتی نکلیں گے۔ضلع نیلم آزادکشمیر کا سب سے پس ماندہ ضلع ہے جہاں غربت کا تناسب 56.08%ہے۔مردوں میں غربت کی شرح 55.3جبکہ خواتین میں یہ شرح 61.81% ہے۔ہم نے اس غربت کو کم کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے کیونکہ امیر ہو یا غریب اس سے سیاستدانوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا انہیں تو ووٹ چاہیے۔حکومت عوام کی اتنی خیرخواہ ہے کہ عوامی کاموں کے لیے مہینوں بحث ہوتی پھر بھی فنڈز کا فیصلہ نہیں ہو پاتا مگر جب سوال اپنی تنخواہ بڑھانے کا آئے تو پھر فی الفور بل پاس ہوتا اور فنڈز بھی ملے جاتے۔ عوامی کاموں کے لیے وفاقی حکومت کے منتر سنائے جاتے مگر اپنے لاونسسز، مراعات کے لیے وفاقی حکومت کی گردان بھول جاتے.

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

محکمہ داخلہ نے کالعدم ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کا شناختی کارڈ بلاک کردیا گیا

کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی)کے سربراہ سعد رضوی کا شناختی کارڈ بلاک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے