منگل , 4 اگست 2020
ensdur
اہم خبریں

سندھ کا لِٹل ماسکو پیاسا پیاسا | عاجز جمالی

تحریر: عاجز جمالی
آج میرا موضوع چونکہ تاریخ نہیں ورنہ میں پڑھنے والوں کو پانچ سو برس پیچھے لے چلتا اور مخدوم بلاول سے روشناس کراتا۔ میرا موضوع بر صغیر کی تاریخ بھی نہیں ورنہ میں آپ کو میرے شہر میں دو سو برس قدیمی اس مندر کے بارے میں بتاتا جو شیوا اور کرشنا کی تاریخ سے منسوب ہے۔ میں تو ہندوؤں کے اس دور کی بات بھی نہیں کر رہا جس میں ہمارے مصنف دوست اکبر جسکانی کی نانی شہر کے شاہی بازار میں رکھے ہوئے دیئے جلایا کرتی تھی اپنی نانی کے کردار سے متاثر ہوکر اکبر نے بتین واری نانی ( بتیوں والی نانی) نامی کتاب لکھی۔

میں تو 1980 کی دہائی کے اُن ایام کی بات کر رہا ہوں جب سندھ کے دو چھوٹے سے شہروں کو لٹل ماسکو کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ ایک انور پیرزادو کا گائوں بلہڑیجی اور دوسرا میرا شہر جوہی۔ جوہی جس نے مجھے زندگی کی شناخت دی۔ جو میرا جنم بھومی تو نہیں لیکن میرا شعور بھومی ہے جس نے میری روح میں شعور کی پیوند کاری کی اور مجھے ایسا تناور درخت بنایا کہ تیس برسوں کے دوران سمندر کے کنارے پر ہوتے ہوئے بھی بڑے بڑے طوفان میری جڑوں کا اکھاڑ نہ سکے اور میں اپنے ضمیر کے ساتھ آج بھی سالم کھڑا ہوں۔ تو میں کہہ رہا تھا کہ میرا شہر جوہی جسے کامریڈ لٹل ماسکو کہا کرتے تھے ماسکو تو گورباچوف کے بعد اپنی انقلابی حیثیت کو برقرار رکھ نہ سکا لیکن ہم جوہی میں اپنی روح میں پیوست انقلاب کے جذبے کے ساتھ لوگوں کے حقوق کے لیئے لڑتے رہے۔ ہر محاذ پر 1980 کی دہائی کے نوجوان اس چکور کی مانند ہوا کرتے تھے جو اپنی منزل آسمان کی طرف آنکھیں بند کرکے اُڑتے تھے اور پھر کھلی آنکھوں سے سپنے دیکھتے تھے۔ علم و ادب کی دنیا ہو۔ سماجی خدمت ہو۔ ثقافتی محافل ہوں یا پھر سیاسی جدوجہد۔ ایم آرڈی کی تحریک کو ہم نے صرف اپنی آنکھوں میں محفوظ نہیں کیا بلکہ جیلوں کے دریچوں سے بھی اپنے شہر کے ساتھ عشق کیا۔

انقلاب کا رنگ و روغن تو اپنی جگہ مگر پانچ برس قبل جب سیلاب نے جوہی کو تہس نہس کرنے کی ٹھان لی تب دریا کے دہشت کو روکنے کے لیئے اپنی شمع کو گُل ہونے سے بچانے کے لیئے ہزاروں پروانے جان پر کھیل گئے اور اپنے ہاتھوں سے شہر کے باہر دیوار نما بند باندھ کر جوہی کو ڈوبنے سے بچا لیا۔ سندھ کا لٹل ماسکو گذشتہ کئی برسوں سے نہری پانی کے لیئے ترس رہا ہے۔ تڑپ رہا ہے۔ چیخ رہا ہے اور کہہ رہا ہے۔ پانی دو پانی دو جوہی کو پانی دو۔ موسم گرما میں ہر سال ان دنوں میں یہ نعرہ گونجتا ہے جو جوہی کی سرحدوں کو توڑ کر حیدر آباد۔ کراچی اور اسلام آباد سے ٹکراتا ہے بلکہ اب تو اس نعرے کی گونج پاکستان کی سرحدوں سے نکل کر سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا کی کانوں تک بھی پہنچ چکی ہے لیکن ایک ہماری سرکار ہے جس کے کانوں پر ان نعروں کا اثر نہیں ہوتا۔ مجھے یاد ہے کہ تیس برس قبل جوہی بیراج میں اترنا ان لوگوں کے بس کی بات نہیں ہوتی تھی جو تیرنا نہیں جانتے تھے۔

جوہی کے ارد گرد کے تمام علاقے سرسوں۔ گندم اور چاول کی خوشبو سے مہکتے تھے لیکن اب جوہی بیراج کے پیٹ سے ریت اڑ رہی ہے۔ جوہی کے ریگستانی علاقے کاچھو کے لوگ قحط کے دنوں میں اپنے مویشیوں کو لے کر کہتے تھے کہ اب ہم سندھ جا رہے ہیں۔ سندھ کے معنی ہریالی اور خوشحالی ہوتی تھی۔ لیکن اب نہ ہریالی ہے نہ خوشحالی ہے نہ کھیت ہیں نا ہی پینے کے لیئے پانی میسر ہے۔ مقامی لوگ کہتے ہیں کہ بیراج کے اوپر کئی کالا باغ ڈیم بنائے گئے ہیں اس لیئے ٹیل میں پانی نہیں آتا۔ کیونکہ پانی زندگی ہے جب پانی نہیں آتا تو سمجھو کہ زندگی کا کوئی رنگ وہاں نہیں۔

آج اگر جوہی کے عوامی شاعر احمد خان مدہوش ہوتے تو وہ یہ ضرور لکھتے کہ جوہی اب مکھن موہی نہیں۔ شاعر طالب لغاری ضرور لکھتے کہ اب کاچھو مت آنا اب یہاں آنے سے بے قراری بڑھ جاتی لوک فنکار جلال چانڈیو ہوتے تو وہ چمکتی ٹوپی سر پر رکھ کر یہ کلام ضرور گاتا۔ لیکن اب جوہی کی نئی نسل نئے ہتھیاروں سے اک نئی جنگ کا آغاز کر چکی ہے۔ اب جوہی کے بیٹے اور بیٹیاں اپنے کامریڈ والدین کے پیروں کے نشانوں پر چلتے ہوئے جوہی کے لیئے زندگی تلاش کرنے نکلے ہیں اور وہ ہی نعرہ پھر سے گونج اٹھا ہے جو کھیرتھر کے پہاڑوں سے بہنے والی گاج ندی کے بہائو سے بھی تیز ہے اور سیلابی ندیوں کے شور سے بھی اک بڑا شور برپا ہے کہ پانی پانی پانی دو۔ مجھے لگتا ہے کہ اب کی بار اس سیلاب میں بہت کچھ بہہ جائے گا۔

گاج کی گجگوڑ میں درختوں کی جڑیں اکھڑ جاتی ہیں اور پہاڑوں کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔ حکمرانوں کے لئے اکھڑتے درخت اور ریزہ ریزہ پہاڑ سمجھنے کی مثالیں ہونی چاہئیں ورنہ کبھی کبھی بادشاہتیں عوامی سیلاب میں بہہ جاتی ہیں۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم ہیڈ عمران غزالی وزارت اطلاعات کے ‘ڈیجیٹل میڈیا ونگ’ کے جنرل مینجر مقرر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے میرٹ پر تعیناتیوں کے دعوے اقربا پروری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے