منگل , 22 ستمبر 2020
ensdur

سندھ میں ڈومیسائل کا معاملا: قانون و آئین کیا کہتا ہے؟ | بیریسٹر ضمیر گھمرو

تحریر: ضمیر گھمرو

ہندوستانی فیڈریشن کی تقسیم سے لے کر سندھ میں آج تک غیر مقامی آبادکاری ایک بہت بڑا مسئلہ رہی ہے۔ اسی ہی معاملے پر وزیر اعلیٰ سندھ محمد ایوب کھوڑو اور اس وقت کے وزیراعظم کے مابین شدید اختلافات پیدا ہوئے، جس کی وجہ سے اپرل 1948ء میں کھوڑو کی حکومت کو برطرف کیا گیا اور 14 آگسٹ 1947ء سے 1951ء (سندھ اسیمبلی کی میعاد 1946ء سے 1951ء تک تھی) چھے وزراء اعلیٰ تبدیل ہوئے اور 1951ء سے 1953ء تک گورنر راج لاگو کیا گیا، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت بھی وزیر اعلیٰ سندھ اور وزیر اعظم عمران خان کے درمیان اختلافات ہیں۔ سندھ میں نہ صرف تقسیم ہند کے نتیجے میں مکمل آبادکاری کی گئی بلکہ اس کے 1951ء میں سٹیزن شپ ایکٹ لاگو کیا گیا اور 1952ء کے تحت بنائے  گئے قواعد (Rules)  کئے تحت کسی بھی انسان کی کسی بھی صوبے میں ایک سال رہائش اختیار کرنے پر ڈومیسائل جاری کیا گیا۔ تقسیم اور ون یونٹ کے دوران جیساکہ بڑی آبادکاری ہو چکی تھی اور سندھ کے شہر غیر سندھیوں کے حوالے ہو چکے تھے، اس لیے شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1973ء کے آئین میں بہت اہم شق شامل کی، وہ آرٹیکل 27 ہے۔ جو یہ کہتی ہے:

Article 27: Safeguard against Discrimination in services (1) No citizen otherwise qualified for appointment in the service of  Pakistan shall be discriminated against in the respect of any such appointment on the ground only of race, religion, cast, sex, residence or place of birth.  (2) Noting in the clause (1) shall prevent any provincial government or any local or other authority, in a province from prescribing, in relation to any post or class of service under that Provinces or authority, condition as to residence in the province, for a period not acceding three years, prior to appointment under that Government or authority.

اٹھارویں ترمیم میں ان آرٹیکلز میں  درج ذیل اضافہ بھی کیا گیا۔

Provided also that under representation of any class or area in the service of Pakistan may be redressed in such manner as may be determined by on act of parliament.

یعنی”پاکستان کی سروسز میں کسی  بھی شہری کوتعینات کرتے وقت اس سے نسل، تعصب، ذات، جنس، رہائش یا جائے پیدائش  کی بنیاد پر کوئی متبھید نہیں کیا جائیگا، مگر شق نمبر ایک کے باوجود کسی بھی صوبے یا اس کی کسی مقامی یا دیگر اداروں کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ کوئی بھی جاب دینے سے پہلے اس صوبے میں رہائش کی شرط عائد کرے، جو کہ تین سال سے زیادہ نہیں ہوگا۔ سروس آف پاکستان میں کسی بھی علاقہ یا کلاس کی عدم نمائندگی کا ادراک پارلیمینٹ کے ایکٹ کے ذرئعے کیا جائیگا۔” اس آرٹیکل میں یہ پوائنٹ بھی شامل ہے کہ آنے والے چالیس برس کے دوران کسی بھی علاقہ کو مناسب نمائندگی دینے کیلیے اس علاقہ کا کوٹہ مقرر کیا جا سکے گا اور کسی بھی جنس کیلیے کسی بھی نوکری کو مخصوص بھی کیا جا سکتا ہے۔ آرٹیکل 260 میں سروس آف پاکستان کی تشریح دی گئی ہے، جس میں صوبوں کی سروسز بھی آ جاتی ہیں۔ اب اس آرٹیکل کے دو پہلو ہیں۔

(1)     مرکز یا وفاقی حکومت میں نوکریان:

اس آرٹیکل کے تحت وفاقی سرکار کی نوکریوں میں کسی بھی شہری سے مذہب، قوم، ذات، جنس یا جائے پیدائش کی بنیاد پر کوئی بھی متبھید نہیں کیا جائیگا، مگر کسی بھی علاقہ یا کلاس کی مرکزی یا وفاقی حکومت کی نوکریوں میں عدم نمائندگی کو پارلیمینٹ کے ایکٹ کے تحت درست کیا جائیگا۔ کس علاقے/ صوبے کو کس بنیاد پر نوکری دی جائیگی، یہ صوبوں کے معاملات میں تو واضح ہے، مگر وفاقی حکومت میں نوکریوں کے لئے واضح نہیں ہے۔ اس لیے وفاقی حکومت 1951ء کی سٹیزن شپ ایکٹ اور 1952ء کے اسی ایکٹ کے تحت بنائے گئے رولز کے تحت ڈومیسائل کی بنیاد پر نوکریاں دیتی رہی ہے۔ جبکہ اسے یہ نوکریا صوبوں کی پرمیننٹ ریزیڈینس سرٹیفکیٹ (پی آر سی) کے تحت اس صوبے کے مستقل رہائشیوں کو ہی دینی چاہیئیں۔ اس لیئے مرکز میں صحیح یا غلط ڈومیسائل پر نوکیر مل سکتی ہی۔ ویسے بھی 1951ء کے قانون کے تحت ہندوستان سے آئے ہوئوں کی آبادکاری کو یقینی بنانے کیلیے ڈومیسائل کے حصول کی میعاد ایک سال رکھا گیا، مطلب کہ کوئی بھی شہری کسی بھی صوبے کے کسی بھی علاقہ میں ایک سال رہے تو اسکو ڈومیسائل مل سکتا ہے، اس لئے اس قانون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیشتر دیگر صوبوں کے لوگوں نے سندھ کا ڈومیسائل بنوا کر وفاقی حکومت میں سندھ کے کوٹہ پر نوکریاں لیں۔ سپریم کورٹ اس عمل کو غلط قرار دے چکی ہے اور یہ قرار دیا ہے کہ نوکریاں پی آر سی کی بنیاد پر دی جائیں اور ڈومیسائل کا نوکری سے کوئی تعلق نہیں۔

(2)     سندھ میں نوکریان:

جیسے کہ آرٹیکل 27 کے تحت صوبائی نوکریوں میں تقرریوں کیلیے صوبوں کو یہ اخیتار حاصل ہے کہ وہ تقرریوں کے لیئے اس صوبے کر رہائشی ہونے کا شرط رکھے۔ جو تیں برس کی رہائش سے زیادہ نہ ہونگے۔ اس لیئے صوبے میں نوکری کے لیئے صوبے کا مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ (پی آر سی) ڈومیسائل کے ساتھھ لازمی ہے، جبکھ تعلیمی اداروں میں داخلے وغیرہ کیلیے بھی پی آر سی ضروری ہے۔ ڈومیسائل کا ہونا نوکری کیلیے ضروری نہیں۔ قانونی طور پر یہ واضح ہے کہ سندھ سمیت ہر صوبہ کسی بھی شھری کو نوکری دینے کے لیے مستقل رہائش کی شرط لگا سکتا ہے۔ 1973ء سے لیکر آج تک سندھ اسمیمبلی نے اس اہم مسئلے پر قانون سازی کر کہ یہ شرائط طئہ نہیں کیے ہیں، اور 1971ء کے پی آر سی رولز پر کام چلایا جا رہا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ نازک معاملہ تھا اور 1972ء میں قومی زبان والے معاملے پر ھنگامے فساد کی روشنی میں اس مععاملہ کو پیچھے رکھا گیا ہے۔ جبکہ سندھ حکومت یہ شرط بہت سخت کرے بھی تو تین سال سے زائد عرصے کیلئے نہیں کر سکتی۔ مگر پھر بھی اگر اس پر قانون سازی کی جاےے اور رہائش کے مستقل شرائط ایسے رکھے جائیں، جو کہ عارضی رہائش والے لوگوں یا غیر ملکی صوبے کا ڈومیسائل حاصل نہ کر سکیں تو بہت بہتری آ سکتی ہے، جیسے کہ ڈومیسائل معاملا غلط تشریح کی وجہ سے صرف مرکزی حکومت کی نوکریوں سے منسلک ہے، اس لیئے اٹھارویں ترمیم کے تحت پاکستان پیپلزپارٹی سندھ اور دیگر صوبوں سے ہوئی نا انصافیوں کی وجہ سے آرٹیکل 38 میں ترمیم کر کہ آئین میں درج ذیل بہت ہی تاریخی نقطا ڈالا:

Article 38 (g) The state shall ensure that the share of the provinces in all federal services including autonomous bodies and corporations established by or under the control of, the Federal Government, shall be secured and any omission in the allocation of the share of the provinces in the past shall be rectified.

 

 

مطلب: “وفاقی حکومت سروس، کارپوریشنز، خودمختار اداروں یا ان کے ماتحت تمام اداروں میں ہر صوبے کے حصے کو یقینی بنائے گی، اور ماضی کے حصے کی کمی کو بھی پورا کریگی”۔  یہ آئین میں ایک تاریخی نقطا یہ، جس پر میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔ اب جب تک وفاقی حکومت اس پر عمل نہیں کرتی تو پھر ڈومیسائل بھی کس کام کا؟ جیسے کہ ڈومیسائل وفاقی نوکریوں سے زبردستی منسلک ہے اور صوبے میں نوکریوں پر صوبائی حکومت اپنے قانون سازی کر سکتی ہے، اس لیئے نہ صرف وفاقی حکومت کو اس کا پابند بنایا جائے کہ وہ نہ  صرف آئین کے مطابق سندھ کو اپنی نوکریوں میں حصہ دے، بلکہ وہ ڈومیسائل نہیں، پی آر سی کی بنیاد پرر صوبے کے مستقل رہائشیوں کو نوکریاں دے، جس سے معاملہ حل ہو سکتا ہے۔ مطلب کہ سندھ کے عوام کے وفاقی حکومت سے دو مطالبات ہوں (1) صوبے کو آئین کے آرٹیکل (جِی) 38 تحت اپنا مکمل حصا دے اور ماضی میں اس حصے میں ہوئی کمی کو بھی پورا کیا جائے اور آرٹیکل (27) کے تحت وفاق میں نوکریاں پی آر سی  کی بنیاد پر دی جائیں۔ کیونکہ صوبوں کو حصہ ان کے مستقل رہائشی ہونے کی بنیاد پر ہی دیا جائیگا اور وفاق میں نوکریوں کیلئے ڈومیسائل کی شرط ہرکز نہیں ہے، بلکہ آرٹیکل 27 اور 38 جِی کو ملا کر پڑھا جائیگا تو اس کا مقود پی آر سی ہی بنتا ہے، مگر وفاقی حکومت صوبے کے حصے کو ایک سال کے ڈومیسائل پر نوکریاں دے کر آئین کی نہ صرف خلاف ورزی کر رہی ہے بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی بھی خلاف ورزی کر رہی ہے، جس نے واضح کیا ہے کہ نوکریاں پی آر سی پر دی جائیں گی۔

(3)     سندھ حکومت کی ذمہ داریاں

یہ ایک اچھا عمل کہلائے گا کہ سندھ حکومت نے جعلی ڈومیسائل اور پی آر سی پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے، جوکہ نہایت مناسب بات ہے،کیوں کہ یہ معاملہ کورٹس کا نہیں بلکہ سندھ حکومت کا نجی ہے،میں نے 2011 کو سندھ ہائی کورٹ سے تاریخی فیصلہ لیا کہ مرکز کی ملازمتوں میں سندھ کے امیدواروں کو سی ایس ایس امتحان سمیت تمام امتحانوں میں 50 پرسینٹ کے بجائے 33 پرسینٹ پر پاس کیا جائے اور سندھ کی کوٹا پر بچنے والی ملازمتوں کو دوسرے صوبوں کے حوالے نہ کیا جائے۔ سندھ ھائی کورٹ کے معزز جج صاحبان جن میں ہر ایک جسٹس سرمد جلال عثمانی اور عبدالہادی کھوسو نے میرے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے نہ صرف ہمارے حق میں فیصلہ سنایا بلکہ اُس اصول کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی سرکار کو ہدایات بھی کیں۔وفاقی سرکار نے سپریم کورٹ کا دروازا کھٹکھٹایا، جس نے اس فیصلے کو قاالعدم قرار دیا!اُس وقت میں سپریم کورٹ میں رجسٹرڈ نہیں تھا، اس لئے دوسرے وکیل کی خدمات حاصل کی گئیں، سوال یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے صوبے کے مفاد میں اٹھارویں ترمیم میں تاریخی فیصلے تو کیے ہیں، لیکن ان کو وفاق کی ملازمتوں کیلئے لاگو کرنے کیلئے سندھ سے سندھ کے مستقل رہائشی لوگوں کے علاوہ دیگر لوگوں کو سندھ کے حصے کی ملازمتیں حاصل کرنے سے روکنے کیلئے (1) ایک تو اسمبلی اور کابینا کے ذریعے قرارداد پاس کرواکر وفاقی سرکار پر آئین کے آرٹیکل 27 اور (g) 38 پر عمل کیلئے زور دے۔ اس کیلئے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے فورمز کو بھی استعمال کرے۔ دوسرا (2) اس بات پر زور ڈالے کہ سندھ کے حصے کی ملازمتیں ڈومیسائل پر نہیں بلکہ پی آر سی کے بنیاد پردی جائیں، جو فیصلہ سپریم کورٹ بھی کر چکی ہے۔

سندھ حکومت کو پی آر سی رولز میں یا شرائط سخت کرنے چاہیئں۔ یا اس پر قانونسازی کرنی چاہیئے۔ یہ فیصلہ اس پر منحصر ہے کہ پی آرسی پر کونسا لائحہ عمل تیار کرتی ہے۔ ڈومیسائل پر پنجاب میں ملازمت دی جاتی ہے۔ کیوں کہ وہاں پی آر سی رولزنہیں ہیں اور مرکزبھی اس کو فالو کرتا ہےجوکہ ایک غلط عمل ہے۔ اِس وقت کراچی میں سندھ کے عوام نے رہائش اختیار کرکے ڈومیسائل، پی آر سی اور شناختی کارڈ قانونی طریقے سے بنوائے ہیں، جس پر کسی کو ناراض نہیں ہونا چاہیے۔کیوں کہ اس صوبے کا باشندہ قانون کے مطابق کہیں بھی تین سال یا اس  سے زیادہ عرصہ تک رہائش اختیار کرکے ڈومیسائل اور پی آر سی حاصل کرسکتا ہے، جبکہ دیگر صوبوں کے افراد کیلئے ان شرائط کو سخت ہونا چاہیئے اور غیر ملکیوں  جیساکہ افغانیوں، برمیوں اور بنگالیوں کو تو ڈومیسائل اور پی آر سی ملنا ہی نہیں چاہئے، اس لیے سندھ سرکار ایک تو جعلی ڈومیسائلس کو ختم کردے اور پی آر سی کے شرائط سخت کردے۔ آئین کے نظریے سے وہ یہیں کرسکتے ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ پس پردہ تو بہت سے معاملات اور اختلافات کراچی میں سندھیوں کی جانب سے قانونی اور جائز طور پر ڈومیسائل اور پی آر سی حاصل کرنے پر ہے، نہ کہ برمیوں، بنگالیوں، افغانیوں، ایرانیوں،افریقیوں کے ڈومیسائل دینے پر! اس تمام تر مسئلے میں سرکار اور سندھ کے عوام کو ایک دوسرے کے ساتھ چلنا چاہیئے اور سندھ کے منتخب حکومت جس طریقے سے سندھ اور وفاق میں نمائندگی کے حق کو آئینی طور پر منوایا ہے، وہ عملی طور پر بھی منوائے، باقی صوبوں میں تو جعلی ڈومیسائل رد کرنے یا ان کو انتظامی عمل کے ذریعے روکنا ان کیلئے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ سندھ میں غیر سندھیوں کی آبادکاری صرف ڈومیسائل سے منسلک نہیں ہے، لیکن مرکز نے سندھ میں دوسرے صوبوں کے لوگوں کی آبادکاری کو ہمیشہ سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے اس کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ سندھ انسانی حقوق کا علمبردار ہے اور کسی بھی شہری کے جائز حقوق سے نسلی بھید باؤ ایک جرم ہے، لیکن اس معاملے کو ایک تو مرکز سیاسی ہتھیار کےطور پر استعمال نہ کرے، جیساکہ نام نہاد ایم پی اے منتخب کرواکران سے روزانہ کی بنیاد پرگورنر راج کا مطالبہ کروایا جارہا ہے۔ دوسرا یہ کہ مرکز میں سندھ کے مستل رہائشیوں کو پی آر سی کے بنیاد پر نمائندگی دی جائے اور آئین کے تحت ماضی کی کمی کو پورا کیا جائے۔ سندھ سرکار اس معاملے پر مزید توجہ مرکوز کرکے اسے عوام کیلئے فائدے مند بناسکتی ہے، کسی بھی جذباتی عمل کے ذریعے سندھ کے نسلی نظام کو نقصان پہنچانا ہمارے مفاد میں ہرگز نہیں ہے، کیوں کہ مرکز کو تو یہ بہانا چاہیئے، جس کو اس معاملے میں وفاق میں ملازمتیں پی آر سی پر دینا چاہئیں اور پی آر سیز کی صوبائی حکومتوں سے ویری فکیشن کروائی جائے۔باقی سندھ میں تو ویسے ہیں ملازمتیں پی آر سی پر ملتیں ہیں۔ پی آر سی کے شرائط سخت کرنا، جعلی ڈومیسائل کے دروازے بند کرکے آبادکاری کے غیر قانونی پھیلاؤکو روکا جاسکتا ہے۔ غیر قانونی آبادکاری کے پھلاؤ کے اور بھی بہت سارے اسباب ہیں، یہ صرف اس کا ایک پہلو ہے، اس کے علاوہ ووٹ کا حق، املاک کا حق اور دیگر بہت سے معاملات آجاتے ہیں۔ اس لئے اس امر کو غیر قانونی آبادکاری کے پہلو کےساتھ ملاکر دیکھا جائے، جس کی وجہ سے صرف سندھ کے روزگار کے حقوق ہی نہیں پر سیاسی حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں، دیگر حقوق سیاسی حقوق کے تابع ہیں۔

zamirghumro@hotmail.co.uk

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

نواز شریف اتنے بھی “بھولے” نہیں | نصرت جاوید

بسااوقات واقعتا گھبرا جاتا ہوں۔ چند مہربان پڑھنے والے بہت اشتیاق سے اہم ترین سیاسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے