اتوار , 20 ستمبر 2020
ensdur

سندھ میں فوج کو لانے کا راز | عاجز جمالی

تحریر: عاجز جمالی
بارشیں تو جولائی کے پہلے ہفتے میں ہوئیں لیکن ان بارشوں سے پہلے بلکہ پچھلے سال کی بارشوں سے بھی پہلے آئے دن اس طرح کے مطالبات ہوتے رہے۔ سندھ میں گورنر راج نافذ کیا جائے۔ کراچی کو وفاق کے حوالے کیا جائے۔ کراچی کو فوج کے حوالے کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔ عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے دو تین ماہ بعد یعنی عمران اسماعیل کے گورنر بنتے ہی پی ٹی آئی سندھ نے اپنے خان سے یہ فرمائش کردی تھی کہ سندھ میں گورنر راج لگایا جائے۔ یہ مطالبہ آئین کی رو سے درست نہیں بھا تھا لیکن یہ فرمائشی پروگرام جاری رہا۔ آج تک بھی جاری ہے۔ کبھی کراچی میں کچرے کے نام پر تو کبھی اختیارات کے نام پر۔ کبھی دانستہ طور پر سندھ کی تقسیم کی بات ہوتی رہی تو کبھی کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی بات کی جا رہی تھی۔ یہ سلسلہ لگ بھگ دو سال سے جاری ہے اور اس سلسلے کی کڑیوں سے پی ٹی آئی کے ساتھ ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کی کڑیاں بھی جڑی ہوئی ہیں۔ کبھی نئے صوبے کا مطالبہ تو کبھی سندھیوں کے ڈومیسائل پر اعتراض کبھی سندھی پولیس افسران کے تبادلوں پر رسہ کشی۔ حتی کہ ایک صوبے میں تین آئی جیز تبدیل ہوگئے سندھ میں آئی جی کے تبادلے پر بھی سندھ حکومت کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

دو برسوں میں ایک بھی ایسا دن نہیں گذرا جس میں یہ نہ کہا گیا کہ سندھ حکومت کو ختم کیا جائے۔ کل تک تو کرونا وائرس تھا جس پر وفاق سے سندھ کا کنٹرول سنبھالنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا اب بارش اور نالوں کے مسئلے پر۔ نالوں کے نام پر پچھلے سال ایک وزیر موصوف نے کروڑوں روپے جمع کیئے تھے پھر اچانک منظر سے غائب ہوگئے تھی۔ نہ سوال نہ جواب نا کوئی حساب نہ کتاب ؟ نہ کوئی نیب کی تحقیقات نہ کسی ایف آئی اے کی جانچ جونچ۔ اب کے بارے اسی بارش اور نالوں کا نام لے کر فوج کے ادارے کو بلا جواز میونسپل سطح کے معاملات میں لایا گیا۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ فوج سول انتظامیہ کی مدد کے لئے کراچی آگئی ہے حالانکہ کراچی کی سول انتظامیہ نے فوج کو طلب نہیں کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے کمال مہارت کے ساتھ ایک کھیل کھیلا۔ فوج کو بتایا گیا کہ عالمی بینک نے سندھ حکومت کو نالوں کی صفائی کے لئے ایک ارب ڈالر سے زائد رقم فراہم کردی ہے اس لئے کیوں نہ سندھ حکومت سے یہ ٹھیکہ فرنٹیئر ورکس آرگنائیزیشن کو دلوایا جائے؟ یہ بات این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل افضل کے ذریعے جی ایچ کیو تک پہنچ گئی۔ منظوری بھی مل گئی وفاقی کابینہ نے بھی منظوری دیدی۔ کراچی کے کور کمانڈر کو بھی اطلاع کردی گئی۔  فائیو کور. این ڈی ایم اے۔ ایف ڈبلیو او سب ایک پیج پر آگئے۔ دوسرے دن این ڈی ایم اے کے چیئرمین کراچی پہنچ گئے وزیر اعلی سندھ سے موصوف کی تفصیلی ملاقات کے بعد دوسرے دن با ضابطہ میٹنگ بلائی گئی۔ اس میٹنگ میں کور کمانڈر کراچی سمیت اعلی فوجی اور سول حکام شریک ہوئے۔ وزیر اعلی سندھ نے اپنی بریفنگ میں کہا کہ ہم آپ سب کو ویلکم کرتے ہیں مسئلہ صرف ایک ہے جو آپ حل کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ کراچی کے بڑے نالوں پر جو تجاوزات ہیں جو قبضے ہیں وہ ختم کرادیں نالوں کی صفائی کا کام تو ویسے ہی کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کر رہی ہیں جن کو ہم نے پیسے بھی جاری کر دیئے ہیں۔ کسی نے وہ بات بھی چھیڑ دی جس کے گرد یہ پورا افسانہ گھوم رہا ہے۔ وہ یہ تھی کہ بھلا ورلڈ بینک نے جو دو سو ارب روپے دیئے وہ کہاں خرچ ہو رہے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ وہ ابھی معاہدہ ہوا ہے پیسے تو ہمیں نہیں ملے اور نہ ہمارے پاس اتنے پیسے ہیں کہ ہم ایف ڈبلیو او کو ادا کر سکتے ہیں ہم تو سمجھے کہ پیسے وفاقی حکومت ادا کرے گی۔ اور پھر سناٹا چھا گیا۔ دانتوں میں انگلیاں آگئیں۔

وزیر اعلی کو کہا گیا کہ اب تو بات عزت پر آگئی۔ قومی ادارے کی لاج کا سوال ہے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ ٹھیک ہے تین بڑے نالوں سے آپریشن شروع کرتے ہیں کچھ پیسے ہم دیتے ہیں کچھ وفاق سے عرض کرتے ہیں۔ اور پھر اس طرح ایف ڈبلیو او نے پیر سے کام شروع کیا۔ راز کیا تھا ؟ یا تھیوری آف کنسپائرسیز کیا تھی ؟ وہ یہ تھی کہ فوج سندھ حکومت سے ورلڈ بینک کے فنڈز کا مطالبہ کرے گی اور سندھ حکومت انکار کرے گی اس طرح سندھ حکومت اور قومی ادارہ آمنے سامنے ہوجائیں گے اودھر سے سراج قاسم تیلی جیسے پانی چور اور ٹیکس چور کو پہلے ہی لگا دیا گیا تھا کہ کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کی ڈھولکی بجاتا رہے۔ اور پھر ماحول بن جائے گا اور سندھ پر کنٹرول ہو جائے گا۔ یہ راز اتنا کمزور تھا کہ راز پھر راز ہی نہیں رہ سکا اور سندھ حکومت کو بات سمجھ میں آگئی کہ قومی ادارے کو سندھ سے لڑوانے کے لئے پتا پھینکا گیا تھا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ چُھپایا ہوا پتا جب ننگا ہوگیا تو دوسرے دن آٹا مہنگا ہونے کا الزام بھی سندھ حکومت پر لگا کر گورنر راج کی دھمکی دی گئی۔ وفاقی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی حرکتوں سے سندھ میں پیپلز پارٹی ختم نہیں ہو رہی بلکہ مضبوط ہو رہی ہے اور سندھ کی تقسیم یا کراچی کو فوج کے حوالے کرنے جیسے نعروں کی وجہ سے سندھ میں وفاق سے نفرت بڑھ رہی سندھ میں قوم پرستی بڑھ رہی ہے جس کا نقصان بہر حال پاکستان کو ہے۔ پی ٹی آئی کراچی کے رہنمائوں کے سیاسی پستی کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی اور سندھ میں تفریق نہیں کر پا رہے۔ وہ پیپلز پارٹی کی مخالفت میں دو سالوں سے سندھ کی مخالفت کر رہے ان کو اتنی سیاسی تمیذ نہیں کہ سندھ کی تقسیم۔ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنا۔

کراچی کو فوج کے حوالے کرنا یا گورنر راج لگانے سے مطالبات سے پیپلز پارٹی کو کوئی سیاسی نقصان نہیں ہونا لیکن ایسے مطالبات کے خلاف پورے سندھ کو ایک ہونا ہے آپ اپنی بے وقوفیوں کی وجہ سے سندھ کے عوام کو نفرتوں کی آگ کی جانب پھینک رہے ہیں ایسی آگ جو بہت بھیانک ہےجس میں خشک لکڑیوں کے ساتھ سبز لکڑیاں بھی جل کر راکھ ہو جاتی ہیں کسی ایسی بھیانک آگ کو ہوا دینے سے بہتر ہے کہ سیاسی دانش مندی سے اپنے سیاسی مخالفوں سے مقابلہ کریں۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

بلاول بھٹو زرداری کے بتائے گئے دھماکہ خیز اِنکشافات سچ ہیں یا جھوٹ؟

رپورٹ: امام بخش آپ بلاول بھٹو زرداری کو سخت ناپسند کرتے ہیں یا پھر دل …

2 تبصرے

  1. From starting this article is total lie. Rain occurred twice in mid and last of July, City Executive Centers were totally blocked from 4-5 Hours. He is Paid Stooge of PPP famous for getting weeking tip fro Gov and Petrol Slip.

  2. تمام بهترين تجزیہ جمالی صاحب، خاص طور پر وفاق کی طرف سے فوج اور سندھ حکومت کو لڑانے والی گھناؤنی اور گری ہوئی حرکت کو بے نقاب کرنے پر آپکی بہادری کو سلام پیش کرتا ہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے