جمعہ , 10 جولائی 2020
ensdur
CORONAVIRUS PAKISTAN
243599
  • Sindh 100900
  • Islamabad 13829
  • KP 29406
  • Punjab 85261
  • Balochistan 11052
  • GB 1619
  • AJK 1485
  • DEATH 5058

سندھ: ایڈز کے خلاف کامیاب مہم، اقوام متحدہ کی رپورٹ

ڈاکٹر ماریا الینا فلیو بوروومو (پاکستان اور افغانستان کے لئے اقوام متحدہ کی ایڈز اور ایچ آئی وی کیلئے کنٹری ڈائریکٹر)

ایک سال قبل، پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقے رتو ڈیرو، لاڑکانو میں ہزاروں بچے جنکی عمریں ١٥ سال سے کم تھیں، ایچ آئی وی (ایڈز) کا شکار ہونے کیوجہ سے عالمی توجہ کا مرکز اور دباؤ میں رہا.
حکومت سندھ نے لوکل اور انٹرنیشنل تمام وسائل کو فی الفور متحرک کرکے ایچ آئی وی کے پھیلنے کیوجہ تلاش کرنا شروع کی. ٹھیک ٨ ہفتوں بعد ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اس وبا کیلئے اہنی ایک جامع رپورٹ پیش کی جس نے حکومت سندھ کو ایچ آئی وی کو مزید پھیلنے سے روکنے کیلئے ایک جامع پلان تشکیل دینے میں مدد کی. اور ایہ پہلی بار ہوا کہ کسی بھی شہر میں اتنی تیزی اور جامعہ حکمت عملی سے کام ہوا۔
ابھی اس بات کو ایک سال کا عرصہ بھی نہیں گزرا تھا کہ، ایک اور وبا پاکستان میں اور عالمی سطح پر تقریباً دنیا کے تمام ممالک میں پھیلی جسکا نام کورونا ہے. جسکے لئے نہ کوئی تیار تھا اور اس عالمی وبا کی وجہ سے ہر کوئی حیران تھا. پاکستان کو اس وبا سے نمٹنے کیلئے خاصہ وقت ملا کیونکہ جس وقت یہ وبا پاکستان میں داخل ہوئی اس سے قبل بڑی تیزی کے ساتھ دنیا کے دوسرے ممالک میں پھیل چکی تھی ـ
اگر اس وبا پر غور وفکر کیا جائے جسنے لوگوں کو لاک ڈاؤن کرکے گھروں میں محصور کیا ہوا ہے تو کچھ اہم معلومات حاصل ہوتی ہیں، جسکی مدد سے ہم کورونا کو بآسانی سمجھ سکتے ہمیں اور اسکا مقابلہ کرسکتے ہیں۔
رتو ڈیرو میں سب سے پہلے سیاسی قائدین کا ایکشن میں آنا ـ حکومت سندھ کا ادارہ صحت نے ایچ آئی وی کو پھیلنے سے روکنے کیلئے فوری طور پر موثر اقدامات اور فیصلہ کئے۔ جس نے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کی۔ اس بات کو میں نے ذاتی طور پر تجربہ کیا کہ کس طرح سندھ کی وزیر صحت نے اس وبا کیلئے جنگ لڑی ـ کس طرح ہمت سے لوکل انتظامیہ، کمیونٹی کے ممبران، متاثرین کے خاندانوں پروفیشنل گروپز اور دوسرے شراکت داروں کی جانب سے مباحثوں اور سوال و جواب کا سامنا کیاـ سندھ حکومت نے اپنی سیاسی وابستگی کو ایک سائیڈ پر کرکے قومی اور عالمی برادری سے اس وبا کے خاتمے کیلئے مدد طلب کی تاکہ صوبہ سے اس وبا کا خاتمہ کیا جاسکےـ
دوسری، کوئی بھی مشکل اور نازک صورتحال کا حل اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب وہ لوگ جو ایچ آئی وی سے متاثر ہیں اور اُس سے محفوظ ہیں، ان دونوں کو ایک ساتھ معاشرے کی بہتری کیلئے مصروف کیا جائے. ایچ آئی وی جیسی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے یہ انتہائی اہم ہے کہ جس علاقے میں وبا پھوٹی ہے اس علاقے کے مقامی افراد، اسٹیک ہولڈرز، مذہبی شخصیات، قانون نافذ کرنے والے ادارے، تعلیمی ادارے، میڈیا، این جی اوز اور دوسرے ترقیاتی ادارے ایک ساتھ ہوں. ان سب کی سمجھ بوجھ، مشاہدات اور تجربہ فوری، موثر اور دیرپا حل کیلئے کافی مددگار ثابت ہوگا ـ
تیسری، صحت کا ادارہ اکیلا وبا کو ختم نہیں کرسکتا وبا کے خاتمے کیلئے متعدد ادارے اور کئی لیول کے اقدامات کی ضرورت پڑتی ہے. تجربہ کی بنیاد پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ اکیلا کوئی بھی ادارہ ایچ آئی وی اور اس سے منسلک مسائل کے پھیلاؤ اور خاتمے کیلئے کافی نہیں، اس کیلئے ایک مشترکہ اور موثر ترین مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے، اگرچہ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے متواتر کوششیں بھلے تمام کی تمام کامیاب نہ ہوئی ہوں، لیکن پاکستان میں مختلف وبا ؤں بشمول کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئےایک اچھی کیس اسٹڈی بن چکی ہے. صوبہ بھر میں وباء سے نمٹتے ہوئے صحت کیلئے اٹھائے گئے اقدامات دوسرے صوبوں کیلئے مستقبل میں فائدہ مند ہوں گے.
چوتھی، صحت کے ادارے نے ایچ آئی وی سے نمٹنے کیلئے اپنی خدمات اور صلاحیتوں میں اضافہ کیا، وہ تمام بچے جو ایچ آئی وی کا شکار ہوئے، وہ بچے پہلے سے خوراک کی کمی، سانس کی بیماریوں، اور دیگر مسائل کا شکار تھے، انھی بچوں کو دور دراز کے علاقوں سے کئی میل پیدل سفر کرکے، کچھ کو تو پورے دن پیدل چل کر اپنے ضلعی کلینکس پر آنا پڑتا ہے. کئی جگہوں ہر یہ ان بیماریوں سے نمٹنے کیلئے خدمات گھروں پر ہی موجود ہوتی ہیں، لیکن چھوٹے بچوں کی بیماریوں اور ان سے نمٹنے کیلئے سہولیات کا چیلنج صحت کے ادارے کو ہمیشہ درکار رہا ہے. اگر حکومت چاہتی ہے کہ ایچ آئی وہ کو پھیلنے سے روکے اور فوری علاج کرے تو حکومت کو ایک اسٹاپ ـ شاپ والی تیاری کرنی پڑیگی کہ جہاں ایک جگہ پر تمام صحت کی سہولیات مقامی افراد کو میسر ہوں ـ
پانچویں،
وقت کے ساتھ اس وباء کے پھیلاؤ کیلئے اٹھائے گئے اقدامات اور ڈیٹا کو جانچہ جائے، ہر وہ شخص جو رتو ڈیرو میں ایچ آئی وی کا سن رہا تھا وہ اسپتال، کلینکس کی جانب دوڑ لگا رہا تھا کہ کسی طرح وہ اپنا ٹیسٹ کروالے، کچھ لوگوں کے ساتھ ہماری بات بھی ہوئی جنکو یک تک معلوم نہیں تھا کہ یہ ایچ آئی وی کیا ہے وہ صرف آس پاس کے لوگوں سے سن کر دوڑے چلے آئے اور بضد تھے کہ انکا ٹیسٹ کیا جائے. ایچ آئی وی سے منسلک ڈیٹا ریکارڈ کرنا، رپورٹ کرنا، اور سسٹم کو جانچتے رہنا اس افراتفری کے عالم میں بہت مشکل تھا. اس وبا سے نمٹنے کیلئے وسائل کو بروئے کار لانا، صلاحیتوں میں فوری اضافہ کرنا، اپنے میڈیکل اور دوسرے اسٹاف کی صلاحیتوں میں فوری اضافہ کرناخطرناک حد تک مشکل تھا. مثال کے طور ہر جو افراد ٹیسٹ کیوجہ سے ایچ آئی وی مثبت آرہے تھے ان افراد کو علاج مہیا کرنا اور انکا نام رجسٹر کرنا فوری طور پر مشکل تھا، فوری پلان بانا اور مشکل سے نمٹنے کیلئے وسائل کا بندوبست کرن ناممکن تھا. لیکن آہستہ آہستہ یہ کام بہتر ہوتا گیا، شروعات میں ٣٠ فیصد ایچ آئی وی والے بچوں کا نام اندراج کیا گیا لیکن آج ٨٧ فیصد بچے زندگی بچانے والے علاج حاصل کررہے ہیں ـ
چھٹی، میڈیا پارٹنرز کا بھی وبا کو پھیلانے اور روکنے میں اہم کردار رہتا ہے. ایچ آئی وی کی وبا کے دوران ہم نے دیکھا کہ کسطرح میڈیا نے اپنے کیمروں کے ذریعے وبا کے شکار بچوں کی ویڈیوز بنائیں انکے چہرے دکھائے، انکے گھرانے دکھائے. یہ غیر انسانی رویہ تہذیب یافتہ قوموں کی نشانی نہیں ہے. اس طرح ویڈیوز سے تعلقات، اختلافات اور مسائل میں اضافہ ہوتا ہے، اور یہی ایچ آئی کے پھیلاؤ کا باعث بھی. اسی واقعہ نے سندھ ایچ آئی وی کنٹرول پروگرام اور میڈیا کے مابین اور الائنس کو جنم دیا.
ساتویں، حکومت اور میڈیا کے درمیان الائنس نےبایک مثبت کردار ادا کیا، جسکی مدد سے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر ادارہ صحت نے ایک ترجمان منتخب کیاجو پورے دن کے کیسسز، کامیابیاں، خامیاں اور شماریات عوام سے پریس بریفنگ اور پریس ریلیز شئیر کرتا جسکی وجہ سے جعلی خبروں اور افواہوں کی کافی حد تک تردید اور روک تھام ہوئی نا صرف روک تھام بلکہ عوام الناس کا صوبائی حکومت پر اعتماد میں بھی اضافہ ہوا. اس الائنس کیوجہ سے بہت سے وسائل جو دستیاب نہیں تھے اور خامیاں موجود تھیں وہ پوری ہوئیں.
آٹھویں، مقامی وسائل کا اچھے سے استعمال اور انھیں شئیر کرنا، دیرپا منافع کمانے کا باعث بن سکتا ہے. وسائل کبھی بھی پورے نہیں کئے جاسکتے، ہمیشہ ترجیحات کی بنیاد پر وسائل کو استعمال کیا جاتا ہے. سب سے پہلے صحت کے ادارہ سندھ نے صوبہ بھر کے تمام وسائل کو جانچہ اور اسکو استعمال کیا اسکے بعد صوبہ بھر کے انسان دوست افراد، مقامی اور سمندر پار افردا اور اداروں کو متحرک کیا تاکہ وبا سے جلد از جلد نمٹا جاسکے. اسکے بعد صوبہ نے ایک بلین کا فنڈ بھی ایچ آئی وی کی وبا سے نمٹنے کیلئے وقف کیا.
ہیلتھ ورکرز کی طبّی صلاحیتوں کو بڑھانے کیلئے مختلف اقدامات کئے گئے، اور ایک ایسا سسٹم بنایا گیا جہاں پر یہ بات کا دھیان رکھا گیا کہ کسی بھی طرح سے میڈیکل سپلائز اور ضروری ادویات کا سلسلہ نہ ٹوٹے ـ ایچ آئی وی کی وبا کیطرح، کورونا کی وبا بھی یہ بتاتی ہے کہ کسطرح میڈیکل، ادارہ صحت کی صلاحیتوں میں کہاں کہاں اضافہ کے ساتھ،
کمیونٹی کے سسٹم، گورننس میں اضافہ، اداروں کی مشترکہ جدوجہد، کے ساتھ سوشل ویلفیئر پروگرام احساس کی ضرورت ہے، تاکہ اس وباء سے نمٹنے کیلئے ایک موثْر، کارآمد اور ایک دیرپا حل بنایا جاسکے ـ
آخرکار، اس وباء سے بہت سارے فوائد لوگوں کو میسر آئے ہیں، اس وباء سے پہلے ایچ آئی وی حکومت کے ایجنڈے کا حصہ دور دور تک نہیں تھا، اس ایچ آئی وی نے حکومت کو ضروری اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا جسکی وجہ سے اب ایچ آئی وی سے لڑائی حکومت کے ادارہ صحت کی ترجیحات میں سے ایک ہے ـ اس وباء نے ملک کے تمام متعلقہ افراد اور وسائل کو یکجا کرکے ایچ آئی وی کو روکنے میں مدد کی، اور عالمی ادارہ صحت اور دیگر اداروں سے زندگی بچانے والی ادویات اور آلات کی سہولیات جمع کرنا شروع کردیں. اس وباء کی وجہ سے ادارہ صحت نے اپنے بجٹ میں ایک حصہ خون کی ترسیل کے تحت ہونے والے انفیکشن کی روک تھام اور حفاظت کے ساتھ خون کی ترسیل جیسے نظام پر وقف کرنا شروع کردیا. اسی نظام کو بہتر بنانے کیلئے حکومت نے پالیسی بھی بنائی اور اس پر فوری عمل درآمد بھی کیا ـ اگر حکومت ایسا نہ کرتی تو اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ یہ ایچ آئی وی پورے ملک کہ آبادی پر پھیل جاتا، جس میں بچوں اور عورتوں کو زیادہ خطرہ لاحق تھا.
ایچ آئی وی کی وبا کے پھیلنے کے چھ ماہ بعد میں رتو ڈیرو گئی، میرے لئیے بڑی خوشی کی بات تھی کہ وہاں صحت کے شعبے میں خاصی تبدیلیاں نظر آرہی تھیں، جس میں ون ونڈو آپریشن کے علاوہ مزید انقلابی اقدامات بھی شامل تھے، جو پلاننگ کی گئی تھی اس پر زور وشور سے عمل جاری ہے، سسٹم کی روزانہ کی بنیادوں پر جانچ مشکل ضرور ہے، پلان کیا ہواپورا کو پورا عمل کرنے میں اونچ نیچ آجاتی ہے، لیکن جو کامیابیاں اب تک وباء کے خلاف حاصل ہوئی ہیں انکو کاغذات میں درج کرنا اور پیپر ورک کرنا انتہائی اہم ہے ـ
دونوں، ایچ آئی وی جو کہ تقریباً چار صدیوں سے، اور کوورنا جو کچھ ماہ سے ہمارے ساتھ ہے، ان کی ویکسین اور ان سے نجات دلانے والی دوائیں ابھی تک دنیا میں موجود نہیں ـ لیکن حفاظتی اقدامات، کے ساتھ دوسروں کیلئے ہمدردی، دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ اور ملکر وباء سے لڑنے کا ارادہ جیسے ہتھیار ہی ان وبا ؤں سے لڑنے کیلئے اب تک موجود ہیں ـ

بشکریہ دی نیوز

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

کہانی۔۔۔۔۔۔ | نواب علی راہو

تحریر: نواب علی راہو بڑھتے جائیں ہم سیلانی، جیسے اک دریا طوفانی یہ 2016ء کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے