ہفتہ , 23 جنوری 2021
ensdur

سندھی زبان کے معروف مصنف و ادیب تاج جویو نے صدارتی ایوارڈ لینے سے انکار کردیا

سندھ سے تعلق رکھنے والے کئی کتابوں کے مصنف تاج جویو ان 184 شخصیات میں شامل ہیں جنہیں ملک کے لئے خدمات کے اعتراف اور اپنے متعلقہ شعبوں میں عمدگی کا مظاہرہ کرنے کے لئے پاکستان کے سول ایوارڈ کے لئے نامزد کیا گیا تھا۔

تاہم تاج جویو جن کا جوان بیٹا تین روز قبل لاپتہ ہوگیا ہے انہوں نے سندھ میں وفاقی حکومت کی جانب سے مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور دیگر نا انصافیوں کے خلاف احتجاجاً صدارتی پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔

تاج جویو کا بیٹا سارنگ جویو انسانی حقوق کا سرگرم کارکن تھا جو کہ زیبسٹ میں ریسرچ ایسوسی ایٹ تھا۔ سارنگ جویو سندھ کے لاپتہ افراد کی رہائی کے لئے متحرک انداز میں مہم چلارہے تھے، 11 اگست کواختر کالونی میں اپنے گھر سے لاپتہ ہوگئے۔

مصنف تاج جویو کا کہنا تھا کہ ان کے نوجوان بیٹے کی جبری گمشدگی کے تین دن بعد پرائیڈ آف پرفارمنس کیلئے ان کے نام کا اعلان ان کے اور پوری قوم کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ اور وفاقی حکومت کا ظالمانہ مذاق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام لاپتہ افراد میرے اپنے بیٹے سارنگ کی طرح ان کے بچے ہیں اور وہ ان کی رہائی کیلئے جدوجہد کر رہا تھا اور آخری شخص کی بازیابی تک جدوجہد کرتا رہے گا۔

جویو نے کہا ایک ایسے وقت میں جب آزادی اظہار پر پابندی ہے اور سندھ کے ساتھ نا انصافیاں عروج پر ہیں، ان کیلئے یہ ایوارڈ قبول کرنا ناممکن ہے۔

دوسری جانب چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے تاج جویو کے بیٹے سارنگ جویو کی جبری گمشدگی کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ، چیف سیکریٹری اور دیگر اعلیٰ حکام کو نوٹسز جاری کردیئے ہیں۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

دن نثار کیے جا ، سب پے وار کیے جا | وسعت اللہ خان

تحریر: وسعت اللہ خان جھے واقعی سمجھ میں نہیں آتا کہ حکومتوں کو گڈگورننس کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے