ہفتہ , 31 اکتوبر 2020
ensdur

سلطان دودو سومرو اور سندھ کا ریباری قبیلا | یوسف خشک

تحریر: یوسف خشک

ریباری قبیلے کی خواتین اور مرد گذشتہ سات صدیوں سے سوگ منا رہی ہیں یہ سوگ انھوں نے اپنے محسن حکمران دودو سومرو کی ہلاکت پر شروع کیا تھا، جو سنہ 1300 عیسوی میں علاؤالدین خلجی کے ساتھ جنگ میں بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گٸے تھے۔ اس کے بعد ریباری قبیلے کے مردوں اور خواتین نے سیاہ لباس پہن لیا اور یہ روایت آج بھی جاری و ساری ہے۔

ریباری قبائل اس وقت انڈین ریاست گجرات اور راجستھان کے علاوہ صوبہ سندھ کے ننگر پارکر، بدین اور امر کوٹ ڈسٹرک میں آباد ہیں، تاریخی حوالوں کے مطابق وہ راجپوت ہیں اور راجستھان کے رہائشی ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ ایک بادشاہ نے شکار کے دوران ایک ریباری لڑکی دیکھ لی اور قبیلے پر دباؤ ڈالا کہ اس کا رشتہ دیا جائے لیکن ریباری برادری نے انکار کر دیا اور رات کی تاریکی میں نقل مکانی کر گئے۔

راجستھان سے نکل کر ریباری سندھ کے رن کچھ اور ننگر پارکر بدین کے علاقے میں آئے، جہاں سومرا خاندان کے مہان سلطان دودو سومرو کی حکومت تھی۔ دودو سومرو نے اس قبیلے کو تحفظ دیا جس کے بعد وہ اس کے راج میں بس گئے۔ دودو سومرو کا بڑا بھاٸی چنیسر جو تخت پر بیٹھنا چاھتا تھا، لیکن راج سباھ نے دودو سومرو کو تخت پر بٹھایا اور چنیسر اسے ناراض ہوکر دلی کے سلطان علاؤالدین خلجی کے پاس جا پہنچا اور چنیسر نے خلجی سے کھا مجھے تخت دلاؤ تو میں دودو کی بہن باگھل کا رشتہ سلطان کو دینے کے لیۓ تیار ہوں، خلجی نے دودو کو خط لکھا اور تخت چنیسر کے حوالی کرنے کو کہا اور راجکماری باگھل کا رشتا اپنے لیۓ مانگا۔
جب دودو سومرو نے انکار کردیا تو علاؤالدین نے اس پر چڑھائی کر دی، دودو سومرو بہادری کے سات لڑتا ہوا شہید ہوگیا۔ اس جنگ میں ریباری برادری نے دودو سومرو کا بھرپور ساتھ دیا، لیکن دودو سومرو کو شکست ہوئی کیوں کے دودو سومرو کے پاس کم فوج تھی اور خلجی فوج کافی بڑی تھی دودو سومرو کے ساتھ سندھی فوج کے سپاھ سالار محمد سومرو ننگر سومرو ھاسو سودھو بھی شہید ھو گئے، ننگر سومرو جو چنیسر کا بیٹا تھا تواریخ میں آتا ہے، جب دودو کا خط لیکر ننگر سومرو خلجی دربار میں گیا تو چنیسر وہاں موجود تھا اور اپنے بیٹے کو ہاتھ دینے کے لیئے آگے بڑھا تو ننگر نے اپنے والد چنیسر کو ہاتھ دینے سے انکار کر دیا اور چنیسر کو کہا دودو کے سپاھی غداروں کو ہاتھ نہیں دیتے۔ ھاسو سوڈو جس کے بارے میں کہا جاتا ہے، کے ھاسو کی شادی ہو رہی تھی، تب کسی نے آکر کہا کے سندھ پر خلجی نے حملا کیا ہے، ننگر شہید ہو چکا ہے، تم یہاں شادی کے پھیرے لے رہے ھو؟ تب ھاسو سوڈو نے اپنی تلوار سے اپنی ہونی والی بیوی کاپلو کاٹا اور اپنی دلہن مالہا کو کہا کے واپس آیا تو ایک ساتھ ہوں گے، اگر نہیں آیا تو ماتر بھومی پر قربان ہوجاٸونگا، تو تم کو بہی غرور ہوگا ۔ اور اپنی شادی کے پھیرے آدھے چھوڑ کر چلا گیا اور شھید ہوگیا ارو سلطان دودو بھی شھید ہوگیا۔ دودو نے شہید ہونے سے پہلی شاھی عورتوں کو رن کچھ کے راجا ابڑو سموں کے پاس بیجھ دیا تھا، کیوں کے جنگ جیتنے کی کوٸی امید نہین تھی۔ خلجی لشکر لاکھوں میں تھا۔ جب خلجی لشکر کو پتا چلا کے باغی رن کچھ مین ابڑو سموں کے پاس ہے، تو خلجی لشکر رن کچھ طرف گیا اور وہان ابڑو کے ساتھ خونخوار جنگ لگی ابڑو اپنے ساری خاندان کے ساتھ شہید ہو گیا۔ تو پھر راجکماری باگھل نے جنگ کرنے کا اعلان کیا اور جنگ کٸی اور بعد میں جوھر کرلیا باگھل کے ساتھ ھاسو کی بیوی مالھا بھی تھی، اس کے بعد خلجی لشکر واپس خالی ہاتھ لوٹ گیا، جیسی علاؤدین خلجی چتوڑ سے رانی پدماوتی کو پانے سان قاصر ویسے ہی سندھ میں باگھل کو پانے سے قاصر رہا جب دودو سومرو اپنے خاندان کے ساتھ شھید ہو گیا تو ان کے سوگ میں ریباری خواتین نے سیاہ لباس اوڑھ لیا۔ کہا جاتا ہے ہندوستان کے دو قبیلوں نے اپنے حکمرانوں کی محبت میں سوگ منائے، اک ریباری قبیلا دودو سومرو کی شھادت پر سیاہ لباس پہنا، دوسرا چتوڑ کا کاریا قبیلہ تھا۔ جو مہارانا پرتاب کے ہتھیار بناتا تھا جب اکبر نے چتوڑ پر حملا کیا تو 6 مھا کی گھیرا بندی کے بعد جب قلعہ فتح ہوا تو مغل فوج نے قلعہ میں موجود 30 ھزار لوگوں کا قتل عام کیا۔ تو کاریا قبیلہ کے لوگوں نے قسم اٹھائی کے جب تک چتوڑ پر مہارانا پرتاب کی حکومت نہیں آئیگی تب تک وہ اچھا گھر نہیں بنائیں گے اور چارپائی پر نہیں سوئیں گے، ھندوستان اور پاکستان کی آزادی کے بعد جواھر لال نہرو نے انہیں یہ کھ کر سوگ ختم کرایا کے اب ھندستان پر مہارانا پرتاب کے ورثاء کی حکومت ہے
سندھ میں بہی انھے کچھ علاقوں میں سوگھ ختم کرایا گیا۔
ننگر پارکر کے علاوہ میرپور خاص اور بدین میں بھی ریباری برادری کے لوگ موجود ہیں لیکن وہ سیاہ لباس نہیں پہنتے۔ 1970 میں راجپوت اور سومرا خاندان نے ان کا سوگ ختم کرا دیا تھا۔
لیکن اب بھی اکسریت علاقون مین ریباری سیاھ لباس پھنتے ہیں۔

اس مضمون کیلئے بی بی سی اردو کے چند مضامین سے مدد لی گئی۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

گلگت بلتستان، نوید انقلاب | آفتاب احمد گورائیہ

تحریر: آفتاب احمد گورائیہ گلگت بلتستان اپنے دیو مالائی حُسن، برف پوش چوٹیوں، خوبصورت وادیوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے