جمعرات , 25 فروری 2021
ensdur
اہم خبریں

سبھی کا خون شامل ہے اس مٹی میں | احسان ابڑو

تحریر: احسان ابڑو
یہ کہہ رہی ہے اشاروں میں گردش گردوں
کہ ہم جلد ہی کوئی سخت انقلاب دیکھیں گے
پی ڈی ایم کی حکومت ہٹاؤ تحریک شروع ہو چکی، تین بڑے اور ایک سے بڑھ کر ایک فقید المثال جلسے اپوزیشن کی تحریک کے ابتدا میں ہی حکومت کے لیئے بوکھلاہٹ اور خوف کا سبب بن چکے۔ وزیراعظم عمران خان جو پچھلے سوا دو سالوں سے اپنی غیر سنجیدگی، ڈھٹائی اور متکبرانہ سیاسی روش اور اپنے دعوؤں اور وعدوں کے بلکل برعکس کارکردگی کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں رہے ہیں اب سیاسی اور حکومتی معاملات پر اپنی رٹ بڑی تیزی سے کھو تے جا رہے ہیں، اقتدار ان کی مٹھیوں سے ریت کی طرح بڑی سرعت سے پھسلتا جا رہا ہے، ہر گزرتا دن سیاسی معاشی معاملات میں طوفان کی سی کیفیت کا سبب بن رہا ہے مگر خان صاحب ہیں کہ اپنے ضد، ہٹ دھرمی، انا، غیرسیاسی اور غیر سنجیدہ رویوں میں تبدیلی لانے کے بجائے ملکی معاملات کو اس نہج پہ لے جانے میں لگے ہوئے ہیں جہاں نہ صرف ان کے اپنے سیاسی خاتمے کے آثار پیدا ہو گئے ہیں بلکہ پاکستان بھی انتہائی سنگین خطرات سے دوچار ہوتا جا رہا ہے۔
خان صاحب مسلسل وزیراعظم کے بجائے “اینگری ینگ مین” کا کردار ادا کرنے میں لگے ہوئے ہیں انہیں اس بات کی ذرا اسی بھی فکر نہیں ہے کہ پاکستان کو اس وقت اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے، وہ 2014 کے دھرنے سے لیکر آج تک اسی اسٹیبلشمنٹ کے گماشتے کا کردار ادا کر رہے ہیں جس کو کبھی وہ ملک کی تمام خرابیوں سیاسی اور معاشی برائیوں کی جڑ قرار دیتے تھے۔ خان صاحب کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک میں تبدیلی تو آئی مگر یہ تبدیلی پاکستان کو ایک ترقی یافتہ روشن خیال مستحکم اسلامی جمہوری پاکستان بنانے کے بجائے بنانا ریپبلکن میں تبدیل کر گئی، جہاں اختلاف رائے رکھنے والے، مخالف سیاسی سوچ و نظریات والے، آپ کے لامحدود اختیارات، غیر مرعی طاقت کو چیلنج کرنے والے کو جھوٹے احتسابی و انتقامی شکنجے میں پھنسا دیا جاتا ہے، کٹھپتلیوں کے ذریعے حراساں کرکے اپنے طابع بنانے کی کوششیں کی جاتی ہے اور ناکامی کی صورت میں خطرناک نتائج یہاں تک کہ جان سے مار دینے کی دھمکیاں تک دی جاتی ہیں۔ اس مکروہ تبدیلی میں پاکستان میں ایک آزاد خوف خدا رکھنے والے سپریم کورٹ کے ایماندار جج سے لیکر ایک صوبے کے آئی جی پولیس اور ایک عام سچے محبِ وطن پاکستانی تک کی جان مال اور عزت اوچھے لوگوں، فسطائیت اور انتہا پسند سوچ کے علمبرداروں کے ہاتھوں میں ایک کھلونا سی بنتی جا رہی ہے۔
تبدیلی کے دعویدار نے پاکستان کو کرپشن سے پاک اظہارِ رائے کی آزادی سے بھرپور، روشن خیال اسلامی جمہوری طور مستحکم و مضبوط پاکستان بنانے کا وعدہ کیا تھا مگر صرف سوا دوسال میں ہی پاکستان کو سیاسی، معاشی، سماجی، انسانی، شرعی اور اخلاقی پستیوں میں دھکیل دیا اور آج حالات اس نہج پہ پہنچ چکے ہیں کہ ہر طرف افراتفری، اور ہو کا سا عالم ہے لگتا ہے کسی عفریت نے ملک کو جکڑ لیا ہے۔
صدر مملکت کے بارے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس کے فیصلے میں جن معزز ججز نے اپنے اختلافی نوٹ تحریر کیئے انہوں نے ان کی دماغی حالت پہ سوالات اٹھا دیئے، انتہائی بدترین اور بھونڈے انداز میں ایک ایماندار فرض شناس اور اپنے آئینی حلف کی پاسداری کرنے والے جج کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس ردی کی ٹوکری میں بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ریفرنس فسطائیت کے حواریوں کے منہہ پہ واپس دے مارا۔ ان اختلافی نوٹس میں اعلیٰ عدلیہ کے معزز ججز نے ایسے ایسے سنگین نوعیت کے سوالات اٹھائے اور عمران خان صاحب کے فسطائی راج کو وہ آئینہ دکھایا ہے جو آج کل ہر گلی ہر چوراہے پہ، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں سوشل میڈیا کے کھلے میدانوں میں پاکستان کا ہر خاص و عام انہیں دکھا رہا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی قابلِ احترام اہلیہ نے اپنے خط میں صدر عارف علوی کو جس طرح مخاطب کیا ہے اور اپنے خاندان اپنے شوہر کے ساتھ ہونے والی ریاستی بربریت کی جو منظر کشی کی ہے اور اپنی اپنے شوہر کی زندگیوں کو لاحق جن خطرات اور خدشات کا کھل کر واضح دوٹوک الفاظ میں اظہار کیا ہے اس سے ایک عام محبِ وطن پاکستانی نہ صرف خوفزدہ ہو گیا ہے بلکہ یہ سوچنے پہ بھی مجبور ہوگیا ہے کہ جس ریاست میں سپریم کورٹ کے موجودہ جج اور ان کے خاندان کی زندگیوں عزت و تکریم کے ساتھ جس طرح کھلواڑ ہو رہا ہے، جس ملک کے ایک صوبے کی پولیس چیف کو ریاستی ادارے اغوا کرکے زبردستی اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق فیصلے لینے پہ مجبور کریں اس ریاست میں ایک عام شہری کیونکر اور کس طرح محفوظ رہ سکتا ہے، وہ کس طرح ملکی معاملات پہ حکومتی بیانیے سے اختلاف رکھنے کی جرئت کرے۔ ملک کے اقتدار اعلیٰ پہ فائز بلکہ قابض ٹولے کو شاید فرعون، شداد، ہٹلر اور ان جیسے نجانے کتنے بربریت پسندوں فسطائیت پرستوں کے بدترین انجام کا علم نہیں ہے، اللہ رب العالمین سورۃ النساء میں فرماتا ہے کہ
‏اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پرغضب نازل کرے گااور لعنت بھیجے گا، اور اللہ نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے۔
اس وقت پاکستان میں نہ کسی کی عزت محفوظ ہے نہ ہی جان و مال اور بدقسمتی سے یہ سب کچھ ریاست کے ہاتھوں غیر محفوظ ہیں، حکومت نے آمریت اور فسطائیت کے سارے اگلے پچھلے ریکارڈ توڑتے ہوئے عملاً عوام کی عزت جان و مال کو ہلاکتوں میں ڈال دیا ہے، اپنے دعوؤں اور وعدوں کے مطابق پاکستان کو فلاحی اسلامی جمہوری مملکت بنانے کے بجائے اپنی ساری توانائیاں مخالفین کو چور ڈاکو ثابت کرکے انہیں جیلوں میں ڈالنے میں صرف کی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ان کی تمامتر توجہ عوام کی فلاح و بہبود، ملکی تعمیر و ترقی، امن و سلامتی، اور خوشحالی سے ہٹ کر صرف اور صرف اپنی نفرت غصے اور گھمنڈ کی وجہ سے مخالفین کو سیاسی، جسمانی اذیتیں پہنچانے پہ مرکوز ہیں۔ وزیراعظم صاحب نے سوا دوسال میں شاید ایک لمحے کے لیئے بھی وزیراعظم پاکستان بن کر نہیں سوچا، انہوں نے اپنے وزراء مشیران و معاونین و مصاحبین کے سارے کے سارے جتھوں کو صرف اپنے سیاسی مخالفین کو صفحہ ہستی سے مٹانے ان کو مغلظات بکنے ان کی عزت نفس کو مجروح کرنے کے کام پہ لگا دیا ہے، انہوں نے ایسا ماحول بنا دیا ہے جہاں سیاسی جماعتیں اداروں کے سامنے آ کھڑی ہوئی ہیں۔ خان صاحب نے اپنی بدترین طرزِ حکمرانی پہ اٹھتے سوالات، روز بروز بڑھتے عوامی اضطراب و احتجاج کا ازالہ اپنی طرزِ حکمرانی کو بہتر کرکے کرنے کے بجائے یہ باور کرانا شروع کردیا ہے کہ اپوزیشن ملکی اداروں کے خلاف دشمنوں کی زبان بول رہی ہے، حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے اپوزیشن قیادت و کارکنان محب وطن پاکستانیوں پہ مشتمل ہے ان کی حب الوطنی پہ شک نہیں کیا جاسکتا، اپوزیشن صرف یہ چاہتی ہے کہ ہر ادارا اپنی اپنی آئینی حدود میں رہ کر اپنی ذمیداریاں سرانجام دے یہ غداری یا بغاوت کسی طور نہیں ہو سکتا مگر وزیراعظم صاحب اور ان کے طاقت کے نشے میں چُور حواری اپوزیشن کے بیانیے کو ملک دشمن ثابت کرنے کے لیئے ہر اخلاقی حد پار کرتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے آج پاکستان بدترین سیاس، معاشی، سماجی، اخلاقی بحران سے دوچار ہے اور دن بدن یہ بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان صاحب کے متکبرانہ گھمنڈی رویوں کی وجہ سے مستقبلِ قریب میں اس شدید تر ہوتے بحران کے خاتمے کی کوئی امید بھی نظر نہیں آ رہی ہے۔
سبھی کا خون شامل ہے یہاں کی مٹی میں
کسی کے باپ کا پاکستان تھوڑی ہے
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پر صرف ہمارا ہی مکان تھوڑی ہے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

کیا عثمان بزدار استعفیٰ دیں گے؟ | سید مجاہد علی

تحریر: سید مجاہد علی مسلم لیگ (ن) اور مریم نواز کے شور شرابے کو سیاسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے