ہفتہ , 31 اکتوبر 2020
ensdur

سانحہ موٹر وے، محرکات کیا ہیں؟ | محمد بشیر

تحریر: محمد بشیر

آجکل وطن عزیز میں کمسن بچوں اور نوجوان لڑکیوں کے اغواء اور زیادتی کے واقعات دن بدن بڑھ رہے ہیں۔ موٹروے پر ایک شادی شدہ خاتون کے ساتھ جو دل دھلا دینے والا واقعہ پیش آیا تھا اسکا، مرکزی ملزم ایک چھلاوے کی طرع پولیس سے بچتا پھر رھا ھے۔ دوسری طرف ٹی وی کی خبروں کے مطابق نوجوان لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے تین مذید واقعات فیصل أباد, شیخوپورہ اور بہاولپور کی کسی تحصیل میں پچھلے تین دنوں میں پیش آچکے ہیں۔ بہاولپور میں ایک نوجوان لڑکی جب ایک اوباش نوجوان سے عزت لٹوانے کے بعد رپورٹ درج کرانے تھانے پہنچی تو اس کی دادرسی سے انکار کردیا گیا جس سے دلبرداشتہ ہوگر اس مظلوم نے خودکشی کرلی۔

درندگی کے ان بڑھتے ہوٸے واقعات کی وجہ سے پورے ملک میں خوف اور ہراس کی فضاء قاہم ہوچکی ھے اور بچوں اور بچیوں کے والدین ایک انجانے خوف کا شکار دکھاٸی دیتے ہیں۔ مزید دکھ اور افسوس کی بات یہ ھے کہ ظالم درندے نوجوان لڑکیوں کو ان کے والد, شوہر اور بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنانے سے بھی نہیں ہچکچاتے جو ان کی سفاکیت اور بےحسی کی عکاسی کرتا ھے۔ ایسا واقعات کا بڑھنا ایک طرف ریاست کی کمزوری کو ظاہر کرتا ھے جبکہ دوسری طرف نظام انصاف کی خامیاں کھل کر سامنے آتی ہیں۔ بعض مبصرین پاکستان کا مقابلہ یورپ اور امریکہ میں پیش آنے والے رہپ کے واقعات سے کرتے ہوٸے یہ دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ ان ممالک میں ایسے واقعات عام بھی ہیں اور پاکستان سے بہت زیادہ ہیں۔ لیکن یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہٸے کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ھے اور یہاں اس طرع کے گھناٶنے اور غیر شرعی افعال کا پیش آنا کسی طرع بھی قابل قبول نہیں ہوسکتا۔
پاکستان میں بچوں اور عورتوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی ایک وجہ ملک میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانیت ہے جس میں ٹی وی پر پیش کٸے جانے والے مارننگ شوز اور ڈراموں کا بڑا کرداد ہے۔ کیونکہ ان ڈراموں میں پیش کی جانے والی بےہودہ کہانیوں نے نوجوان نسل کو بگاڑ کر رکھ دیا ھے۔ علاوہ ازیں گلیوں اور محلوں میں جگہ جگہ انٹرنیٹ کیفے بھی خرابی کی ایک بنیادی وجہ ہیں جن پر نہ انتظامیہ کا کوٸی چیک اور بیلنس ھے اور نہ نوجوان نسل کے والدین کی اپنے بچوں پر توجہ مرکوز ہوتی ھے۔
جہاں تک درندگی, سفاکیت , ظلم اور زیادتی کے ان گھناٶنے کرداروں کو قانون کےکٹہرے میں لانے اور ان کو نشان عبرت بنانے کا تعلق ھے ہمارے ریاستی ادارے خواہ انتظامیہ ہو یا مقننہ اپنے فراہض کی ادائیگی میں کسی حد تک ناکام دکھاٸی دیتے ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ھے کہ لاہورسیالکوٹ موٹروے ریپ اور ڈکیٹی کا مرکزی کردار عابدملہی کرمنل ریکارڈ رکھتے ہوٸے بھی آزادی کے ساتھ دندناتا پھر رھا تھا جو کہ ایک اچھنبے کی بات ھے. ایسے کیسز میں زیادتی کا شکار ہونے والے متاثرین اکثر نچلے طبقات سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ملزمان چونکہ بااثر ہوتے ہیں اس لٸے پولیس ان کے خلاف کارواٸی کرنے سے گریز کرتی ھے۔
جب کبھی زیادتی کا واقعہ پیش آتا ھے تو تمام ریاستی ادارے اور صوبے کے وزیراعلیٰ پوری پھرتیاں دکھاتے پھرتے ہیں اور تمام ریاستی مشنری چوکس ہوجاتی ھے لیکن ان واقعات کے پیش أنے سے پہلے ہی اگر یہ اپنے فراہض اسی پھرتی اور جانفشانی سے ادا کریں تو ان واقعات سے بچاجاسکتا ھے۔ ایک المیہ یہ بھی ھے کہ ہماری سیاسی اشرافیہ کی غیرضروری سیکورٹی اور پروٹوکول پر بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کردی جاتی ھے جس کی وجہ سے گلیوں اور محلوں میں پولیس فورس کی عدم دستیابی سے بھی جرائم کی شرع میں اضافہ ہوتا ھے۔
وزیراعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں زیادتی کے مجرمان کے لٸے سخت سے سخت سزا کا قانون بنانے کا عندیہ دیا ھے جس میں ملزمان کی مردانہ صلاحیت ختم کرنے کےعلاوہ سرعام پھانسی کی سزا بھی شامل ھے۔ جبکہ دوسری طرف بعض عناصر سخت سزاٶں کی مخالفت اس مفروضے کے ساتھ کررھے ہیں کہ اس سے معاشرے میں تشدد کی فضا اور انتہا پسندی فروغ پاسکتی ھے۔ عہد نبوی اور خلافت راشدہ میں ایسے درندوں کے لٸے سخت سزاٶں کا اہتمام کیا جاتا تھا لیکن اس سے پہلے عوام کی معاشی اور معاشرتی زندگی بہتر بنانے کے تقاضے پورا کرنے کی طرف توجہ دی گٸ۔
لیکن موجودہ نظام میں عوام غربت, بےروزگاری اور مہنگاٸی کی چکی میں بری طرع پس رھے ہیں اور موجودہ حکومت کو عوامی مساہل کی پرواہ ہی نہیں ھے۔ نوجوان طبقہ جب یونیورسٹیز اور کالج سے فارغ التحصیل ہوکر نکلتا ھے تو ان کے لٸے ملازمتیں ملنا ناممکن ہوتا ھے جس کی وجہ سے اکثر نوجوان دلبرداشتہ ہوکر جرائم کی راہ اپنا لیتے ہیں۔دوسری طرف پاکستان میں طاقت اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم نے بھی معاشرے میں بے چینی پھیلا رکھی ھے۔ عمران خان نے 2018 کے انتخابات سے پہلے تحریک انصاف کے منشور کا اعلان کرتے ہوٸے ہر خاص و عام کے لٸے انصاف کی فراہمی کے علاوہ پولیس کو سیاسی کلچر سے آزاد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے نوجوانوں کے لٸے ایک کروڑ نوکریوں اور بےگھر افراد کے لٸے 50 لاکھ گھر تعمیر کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ھے وہ اپنے تمام وعدوں سے پھر چکے ہیں اور انکو نہ غریب عوام کی فکر ھے اور نہ نوجوان طبقے کے روزگار کی۔ پاکستان کی سیاسی, سماجی اور معاشرتی فضاء اس وقت گھٹن کا شکار ہوچکی ھے کیونکہ اس وقت حقیقی سیاسی قیادت کی جگہ ایک مصنوعی قیادت اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ھے جو عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کی روادار نہیں ھے۔
ملک میں ظلم و زیادتی کے واقعات کو روکنے کے لٸے ٹھوس منصوبہ بندی کرنے کی اشد ضرورت ھے اور اس کے لٸے ریاست کے ساتھ ساتھ سوسائٹی کے ہر فرد کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہونگی۔ ہم ایک اسلامی اور مشرقی روایات پر مبنی معاشرے کے علمبردار ہیں اور اسلامی احکامات کی سربلندی کے لٸے ہر مکتبہ فکر کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔ دوسری طرف پولیس اور عدلیہ کو ایسے ملزمان کو منتقی انجام تک پہنچانے کے لٸے اثر رسوخ سے آزاد ہوکر اپنے فراہض انجام دینے ہوں گے ۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

گلگت بلتستان، نوید انقلاب | آفتاب احمد گورائیہ

تحریر: آفتاب احمد گورائیہ گلگت بلتستان اپنے دیو مالائی حُسن، برف پوش چوٹیوں، خوبصورت وادیوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے