اتوار , 20 ستمبر 2020
ensdur

زیادتیوں کا واحد ازالہ | سید حسن گیلانی

تحریر: سید حسن گیلانی

موٹروے کے اندوہناک سانحے پر کچھ بات کرنے کی ہمت ہی نہیں پڑی،اگر لکھتا تو شاید۔۔۔لکھ دیتا یا زندہ رہ لیتا اس پراگندہ معاشرے کے استعارے میں۔
اجتماعی زیادتی مظہر ہے ایک ایسے معاشرے کا جہاں انسانیت انحطاط پذیر ہوچکی ہو، ایسا نہیں کہ پختہ معاشروں میں ایسے سانحات نہیں ہوتے, مگر ایک زیر تعمیر معاشرے کا سانحوں سے نبردآزما ہونے کا انداز اکثر Victim Blaming سے شروع ہوکر Keep Silent پر ختم ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہےکہ اس مملکت خداداد کا معاشرہ ابھی تک زیرتعمیر کیوں ہے!
جواب ڈھونڈنا ایک محنت طلب کام ہے اور ہمارے وطن عزیز میں تو سوال کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے سو ہم جواب کی جستجو کرتے ہی نہیں۔خیر پاکستان جو بچپن میں پڑھا کہ پاک لوگوں کی سرزمین لیکن آج تک یہ ہی پتہ نہیں چل سکا کہ آخر وہ پاک لوگ ہیں کون۔ہاں یہ ضرور ہوچکا کہ جو اس ملک کی تشکیل کےہی مخالف تھے،وہ اس کی اساس کےمالک بنادئےگئے۔یہ تو یہ ریاست کی اساس سیاست کو ہی اس ریاست میں ناپسندیدہ بلکہ کریہہ قرار دے دیا گیا مگر اس مکروہ طرز عمل نے ہی اس ملک کو ہر مسلط شدہ بحران سے نکالا پر وہ پنجابی میں کہتے ہیں کہ نا نیکی کوئ نئ۔آہ پنجاب ایک آہ ہی نکلتی ہے اس دھرتی کے لئے جس سے اسکی ثقافت حتی کہ زبان تک چھین لی گئ اور تب بھی اسے باقی سب اکائیوں کے لئے Axis of Evil بنادیاگیا۔تفریق اس ملک کا قومی کھیل بنادیا گیا،کبھی مذہبی بنیادوں پر تو کبھی لسانی،کبھی معاشی Classes کی بنیاد پر تو کبھی تعلیم کے حصول کنندہ ہر۔جہاں پالیسیز کی بات ہونی چاہئے تھی، وہاں بیانیوں پر کام چلایاجاتارہا۔ہاں البتہ باقی ہر معاملے کو یاتودبایا جاتا یا ٹرخایا جاتا رہا۔اور اگر پھر بھی کوئ سوال کرے تو اسکو Discredit کرادیا گیا یا۔۔۔خیرنتیجہ کچھ ایسا نکلا کہ کسی بھی معاملے کی جڑ تک پہچنے کے بجائے یہ ہمارا So Called معاشرہ ایک انتہا پسند گٹر بن گیا جہاں زور سزا کی شدت پر پی رکھا گیا۔آزادتو ہوئےپرآزادی آج بھی خواب ہے،رہ انصاف تو وہ گیا تیل لینے یا پیکج،آجکے نئے پاکستان کی لغت کے مطابق۔اس تکرار و گردان کا مقصد کچھ حقیقتوں کےادراک کے لئے لازم تھا مثلا سیاست ریاست کی اساس ہے اور ریاست کے معاشرے کی بنیاد ہوتی ہےکیونکہ سیاست جمہور کو تشکیل دیتی ہے اور جمہوریت بنیادی طور پر ایک مکالمہ ہوتی ہے۔Perefect نہ بھی ہوتب بھی جمہوریت ہی معاشرےبناتی ہے اور ریاست کی پالیسیاں بھی۔
مگر ہاں ہو اپنے پورے Essence میں ناکہ Hybrid سی نہ کہ براون صاحب سی۔براون صاحب کی اصطلاح اگر تھوڑی تحقیق کریں گیں توحیرانگی کا باعٹ ہوگاآپ کے لئےکہ وہی موصوف ہی اسکی اعلی مثال بنےبیٹھے ہیں۔
سو اس عالمی یوم جمہوریت پرآپ کو دعوت دوں گا کہ سوچئے اور سمجھئے۔تمام زیادتیوں کا ازلالہ صرف اور جمہوریت میں ہی پنہاں ہے اور اگر وہ کم رہےتواور جمہوریت،ایک نوجوان سیاستدان نےاسکاجواب کچھ یوں دیاتھا۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

عاصم باجوہ نے بلوچستان میں سازش کی، نواز شریف

پیپلز پارٹی کی میزبانی میں منعقد آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے