جمعہ , 10 جولائی 2020
ensdur
CORONAVIRUS PAKISTAN
243599
  • Sindh 100900
  • Islamabad 13829
  • KP 29406
  • Punjab 85261
  • Balochistan 11052
  • GB 1619
  • AJK 1485
  • DEATH 5058

 زکری کمیونٹی کی مرکزی عبادت گاہ، مسائل اور سکیورٹی معاملات | گہرام اسلم بلوچ

تحریر: گہرام اسلم بلوچ

پاکستان چونکہ ایک مسلم اکثریتی ریاست ہے  ، مگر یہاں کثیرالمذاہب اور دیگرتسلیم شدہ اقلیتوں کے لوگ  بڑی تعداد میں آباد ہیں اسی طرح پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں زکری کمیونٹی صدیوں سے آباد ہے اس عقیدے کے ماننے والےاکثریتی بلوچ قوم سے تعلق رکھتے ہیں ۔

زکری کمیونٹیی کی مرکزی عبادت گاہ  کوہ ِ مراد ہے ، کوہ ِ مراد  تربت کا ایک پہاڑی میدان ہے سٹی سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جو ایک زیارت ہے اور زکریوں کے لئے مقدس مقام ہے۔ وہ اکثر یہاں زیارت کے لئے آتے ہیں ۔ 27 رمضان المباک  شب ِ برات اور  ذی الحج کے مہینے میں مجمع کی صورت میں تاکہ امام مہدی علیہ السلام کو نذرانہ  عقیدت پیش کریں  جو یہاں ذکر و فکر میں مشغول رہے۔

اس بارے میں  ۔ سید عیسی جان نوری صاحب کی کتاب

” ذکری تحریک مختصر تاریخ و تعارف”  مطالعہ ضروری ہے۔

پاکستان میں مذہبی  انتہا پسندی کی وجہ سے فرقہ واریت وقتا فوقتا سر اُٹھاتی ہے ۔  کبھی شیعہ سُنی  مسائل اور کبھی  دوسرے کمیونٹی کے  عبادت گاہوں کے مسائل ۔ آج کا ہمارا موضوع  مکران میں آباد زکری کمیونٹی کے مسائل اور انکی عبادت گاہیں  کی کیا صورت حال انکو انتظامی اور اکثریت سے کیا مشکلات درپیش ہیں اس سلسلے میں میں نے ذکری کمیونٹی کے انتہائی معتبر  شخصیت  سابق ایم این اے ( ممبر نیشنل اسمبلی)  سید عیسی جان نوری سے بات کی تو انکا کہنا تھا کہ  بحیثیت مجموعی بادی النظر میں فی الحال ذکری عبادتگاہیں کسی حد تک محفوظ ہیں لیکن ماضی قریب مین گاہے بگاہےایسے حالات پیدا ہوتے رہے جب یہ کہنا بجا ہوتا کہ ذکری عبادت گاہیں  غیرمحفوظ ہیں  ۔تقسیم ہند کے بعد ہندوستان  میں ایک بار پھر کچھ شرپسندوں نے ذکریوں کیخلاف مہم شروع کی جسکے نتیجے مین پسنی مین کہدا نورمحمد اور کہدا ابراھیم شھد کئے گئے۔ اسکے بعد ستتر سے لیکر ستانوے تک مکران میں پھر مذہبی  منافرت کو ہوا ادیا گیا اب کی بارفرق یہ تھا کہ دو مذہبی سیاسی جماعتیں پس پردہ سرگرم رہی تھیں ۔  انکا مزید کہنا تھا کہ فی الحال بحیثیت مجموعی ذکریوں کو کوئی خاص مسلہ درپیش نہیں ہے۔ تاہم گاہے بگاہے کچھ شرپسند اس مسئلے کو ہوا دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ سید نوری صاحب کا مزید کہنا ہے کہ ملک بھر ذکری کمیونٹی کی آبادی ایک اندازے کے مطابق 1یک ملن تک ہوسکتا ہے ۔

انکی عبادت گاہوں کی تحفظ اور سیکورٹی کے حوالے سے ہم نے ڈسٹرک پولیس آفیسر ( ڈی پی او )  ایس ،پی  نجیب اللہ پندرانی ( پی ایس پی ) سے  ملکی آئین کے آرٹیکل 19 ،اے ( شفافیت اور معلومات تک رسائی کے حق کاقانون ( آرٹیکل 19،اے ) کے تحت  معلومات حاصل کی تو انکے مطابق اسوقت تربت سٹی میں ا60ہزار کے قریب ذکری کمیونٹی کے افراد آباد ہیں ۔اور انکا مزید کہنا تھا کہ ذکر ی کمیونٹی طویل عرصے سے ہی پر امن طور پر تربت سٹی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں مقیم ہیں ۔ صوبہ بلوچستان اور صوبہ سندھ میں ذکر برادری ہر سال ضلع تربت ضلع کیچ کے کوہ مراد / کوہِ امام پر جمع ہوتی ہیں ۔ اس سال  کوویڈ 19 نول  وبا کے پیش نظر  اور لاک ڈاؤن کی وجہ اس سال میں 27 رمضان المبارک  اجتماع/ زیارت نا ہوسکا ، جسکی تعاون کا ہم مشکور ہیں ۔ 20 تا 28 رمضان المباک میں  دوران انکی اجتماع 450 کے لگ بھگ  سیکوریٹی پولیس پرسنیل  انکی سیکورٹی کے لئے معمور کئے جاتے ہیں ۔
اس کے علاوہ ، ذکر ی کمیونٹی بھی وقتا فوقتا زیارت کی زیارت کرتی ہے تاکہ وہ ان کی رسم / مذہبی سرگرمی کو انجام دے سکیں۔ ضلعی پولیس کیچ کوہ مراد / زیارت کی سیکیورٹی کے لئے سال بھر میں 06 پولیس اہلکاروں پر مشتمل نیکس / گارڈز قائم کرکے انہیں مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ذکر خانہ کے دوران ذکر خانوں کے ساتھ ان کی عبادت گاہوں کے ارد گرد سخت گشت یقینی بنایا جائے۔اس حوالے سے مزید معلومات اور تفصیل کے لیے میں نے مذکورہ  بالا قانون کے تحت ڈپٹی کمشنر کیچ تربت کو بھی 9 جون 2020 کو درخواست دی مگر انکی طرف  سے اس بارے میں درخواست کی توسط سے تاہم کوئی جواب  نہیں ہے۔ اسطرح کے مسئلے پر متعلقہ محکمہ کسی بھی شہری یا صحافی کی قانونی  درخواست کو نظرانداز کرے تو اس سے یا تو یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ  یہ مسلہ اس کے لیے اہم نہیں ہے یا   کلرکل سُست روی کی وجہ سے درخواست گزار کا درخوست  ( سرخ  فیتہ – ریڈ ٹپزم)   کا شکار ہوا ہوگا۔ اس سلسلے میں ہم  نے بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کے انتظامیہ سے بات کی تو انکا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں انکے ( ذکرخانے ) نہیں ہیں۔اسی حوالے سے میں ایک اور علاقائی نوجوان سراج سخی بلوچ سے بات کی تو انکا کہنا ہے کہ  زکری کمیونٹی مسلسل پانچ وقت کی عبادت ( ذکر ) باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔ جو ذکرخانہ ( عبادت کی جگہ) میں ۔عام طور پر ذکر خانہ عام گھروں سے الگ محلے کے  ایک مخصوص کسی درمیانی جگہ پر ہوتا ہے کہ محلے کے لوگ  زیادہ سے زیادہ شرکت کر سکیں، ذکرخانہ ایک الگ چاردیوای میں ہوتا ہے، جس کے دوحصےقائم کئے جاتےہیں ، ایک خواتین کے لئے اور ایک مرد حضرات کیلئے۔ خواتین اور مرد ایک وقت میں الگ الگ ذکر کیا کرتے ہیں۔بہت سے ذکرخانہ زکری فرقہ سے تعلق رکھنے والے ولی اور بزرگوں کے نام سے منسوب ہوتے ہیں۔ کہ اس مخصوص جگہ پر اس بزرگ نے عبادت کیا ہوتا ہے اور ( چلھہ ) ادا کیا ہوتا ہے۔ تو اسی جگہ کو پاک و صاف مان کر ذکرخانہ قائم کیا جاتا ہے۔ ذکرخانہ باقاعدگی سے ٢۴ گھنٹہ عبادت کیلئے کھولے رہتے ہیں۔اس کے ساتھ جمعہ مبارک کی رات کو خاص خیرات کی جاتی ہے۔اسی طرح کسی مخصوص دن ( شبِ برات) (نہھم) کی مناسبت سے ذکر خانہ میں ساری رات (سدہ و چوگان) کیا کرتے ہیں اور دن میں خیرات و صدقہ کرتے ہیں۔ آئین پاکستان  میں  ” مذہبی عبادات و تبلیغ کی آزادی

آئین پاکستان کے آرٹیکل نمبر 20 کے تحت قانون ، اخلاق اور امن و امان کو مدنظر رکھتے ہوئے پر شہری کو حق حاصل ہے کہ اپنے مذہبی کا اعادہ کرے اس پر عمل پیرا ہو، اس کو پھیلائے اور اس کی تبلیغ کرے۔

وضاحت: آئین کے تحت غیر مسلم شہریوں کو بھی مذہبی آزادی کا حق حاصل ہے۔ ہر مذہب اور اس کے ذیلی فرقہ یا مسلک کو اپنے متعلقہ مذہبی ادارے یا مدرسے سے بنانے اور اس کا انتظام چلانے کی آزادی ہوگی۔ وغیرہ۔۔۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

سنتھیا یقیناً کسی ایجنڈے پر آئی ہے: لطیف کھوسہ

سابق گورنر پنجاب، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے