ہفتہ , 31 اکتوبر 2020
ensdur

ریاست میں ماں کا راج اور صوبوں کی طرح عورت کے آئینی حقوق کی پامالی : بیریسٹر ضمیر گھمرو

تحریر: بیریسٹر ضمیر گھمرو

جیسا کہ 1940 کی لاہور قرارداد کے تحت صوبوں کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں صرف مرکز کے پاس خارجہ پالیسی دفاع اور آمدرفت کے محکمے رہنے تھے

جس کی آج تک خلاف ورزی کرتے ہوئے 44 کے قریب محکمہ وفاق نے رکھے ہوئے ہیں اسی طرح عورتوں کے حقوق کی نفی کرتے ہوئے آئین میں دیئے گئے حقوق سے نہ صرف محروم کیا جا رہا ہے بلکہ گھر ہو یا گھر سے باہر عورتوں کے خلاف جنسی تشدد میں اضافہ ہی ہوا ہے ملک میں مختلف ادوار میں عورتوں کی نمائندگی کم رہی ہے حالانکہ 1973 کا آئین مرد اور عورت کو برابر کے حقوق دیتا ہے، جنس کی بنیاد پر جنسی تفریق کو رد کرتا ہے

Article 25 (1) Equility of citizens: All citizens are equal before law and are entitled and equal protection of law.

(2) these shall be no discrimination on the basis of sex.

مطلب پاکستان کے تمام شہری آئین کی نظر میں برابر ہیں اور آئین ان کو برابری اور مکمل تحفظ دیتا ہے

جنس کی بنیاد پر کسی بھی قسم کا تفرقے پر پابندی ہے

اسی طرح اس آرٹیکل کے تیسرے حصے میں یہ کہا گیا ہے

Article 25 (3) nothing in this article shal prevent the state from making any special provisions for the protection of women and children.

ترجمہ: ریاست پر عورت اور بچوں کے لئےتحفظ کے لئے خاص اقدامات کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔

چالیس کی دہائی میں مسلم لیگ نہ صرف عورت بلکہ شاگرد طلبہ کو آگے لائیں اور ان کی مصلح ونگ بنائی گئیں جیساکہ وومن گارڈ وغیرہ

لیکن ریاست نے 1947 کے بعد مذہبی لابی کے غیر منطقی دباؤ اور پریشر میں نہ صرف وفاقیت کو استعمال کیا گیا بلکہ عورتوں کے خلاف استعمال ہوئی

جنرل ضیاء نے ناصرف مارشل لاء لگائی بلکہ ون یونٹ لاگو کرتے ہوئے نہ صرف صوبائی خودمختاری ختم کی بلکہ حدود آرڈیننس جیسا کالا قانون لائے جس میں عورت کی گواہی کو آدھا کر دیا گیا جبکہ آئین میں عورت کو برابر کے حقوق میسر ہیں وفاقیت اور مارشل لا کے کالے قوانین کو جنرل ضیاء نے 1985 کی اسمبلی سے قانونی تحفظ فراہم کیا، جس کے خلاف نہ صرف صوبے بلکہ خواتین کی تنظیمیں بھی لڑتی رہی، جنرل ضیا کی آٹھویں ترمیم کو محمود خان اچکزئی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔

کے ضیاء الحق کے بنائے قانون کو پارلیمنٹ کے تحفظ کا اختیار نہیں پر اس وقت کے چیف جسٹس نے اس کی درخواست مسترد کردی اور کہا کہ یہ کام پارلیمنٹ ہی نے کرنا ہے۔

لیکن جب عدلیہ پر ایسا وقت آیا اور جنرل مشرف نے ترمیم کرکے 2007 میں ایمرجنسی نافذ کرکے ججز کو گھر بھیج دیا تو 2010 میں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے داخل کردہ درخواست پر سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کے آمر کی کی گئی ترامیم کو پارلیمنٹ تحفظ فراہم نہیں کرسکتی۔

لیکن یہ فیصلہ سابقہ ترامیم یعنی جنرل ضیاءالحق کی 8 ویں آئینی ترامیم اور جنرل مشرف کی 2003 میں سترھویں ترمیم پر لاگو نہیں ہوا اس کا مطلب ہوا کے اگر بار اپنے سر پر ہو تو ایک فیصلہ اور دوسرے کے سر پر ہو تو دوسرا فیصلہ، پر اس کے باوجود اب قانون یہ ہے کہ کوئی بھی آمر یا ڈکٹیٹر آئین یا قانون میں ترمیم نہیں کر سکتا اور نہ ہی پارلیمنٹ اسکے جانب کی گئی ترامیم کو تحفظ نہیں دے سکتی، جیسا کہ 1985 میں آٹھویں اور پھر 70 ویں ترمیم کو تحفظ دیا گیا۔

صوبوں اور خواتین کی شروع سے یہ جدوجہد رہے ہے کہ ملک میں وفاقیت مسلط کرکے عورتوں اور صوبوں کے حقوق پامال کرنے والے قوانین کو ختم کیا جائے اور صوبے خواتین کی فلاح و بہبود اور برابری کیلئے پراثر قوانین لائیں، بلکہ ان پر عمل کیا جائے جو کہ بہت کم کیا جاتا ہے جن پر عمل بہت کم کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے اور نہ صرف خاندان بلکہ ریاست کے بھی زیر عتاب رہی ہے جیسا کہ موجودہ خاندانی یا ریاستی نظام مرکزیت یعنی وفاقیت اور مرد کے غیر آئینی بالادستی پر مشتمل ہے، اس کے لیے عورت سماج میں دوسرے یا تیسرے درجے کے شہری تصور کی جاتی ہیں، خواتین کو برابری آئین کے آرٹیکل 25 میں دی گئی ہے پر آئین اور قانون پر عمل نہیں ہوتا، اسی وجہ سے عورت اپنے حقوق کی خاطر روڈ پر نکلی ہیں، جو چادر اور چاردیواری آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت حاصل ہے جو انہیں دیئے گئے جس کی وجہ سے یہ خواتین راستے پر نکلے ہیں، وفاقیت پر مبنی ریاست کی ایک مثال سندھ میں انسپکٹر جنرل پولیس کے ذریعے حکومت چلانا چاہتی ہے، پر ان کے ہمدردوں کے پاس ایسا کرنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں، اسی طرح وہ خواتین مارچ کو بھی روکنا چاہتے ہیں۔

جس کی آئین کے آرٹیکل 16 اور 19 میں ان کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے کسی بھی شہری کو پرامن احتجاج سے نہیں روکا جاسکتا جیسا کہ آئین کے تحت خواتین اس ملک میں برابر کے شہری ہیں اور آئین انہیں احتجاج کرنے کا حق دیتا ہے۔

وہ اپنا آئینی حق استعمال کر سکتی ہیں بلکہ آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت اپنی تنظیمیں بھی بنا سکتی ہیں، جس کی آئین انہیں اجازت دیتا ہے، عورتوں کی آزادی اور برابری کے دعویدار موجودہ وفاقی سرکار نے صوبوں کو خط لکھا ہے کہ یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں میں ثقافتی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے حالانکہ وفاقی سرکار کے پاس ایسا کوئی آئینی اختیار نہیں ہے کیونکہ تعلیم صوبائی سبجیکٹ ہے اور ایسا کرنا صوبوں کے کام میں مداخلت کے برابر ہے۔

جیسا کہ موجودہ ریاست میں وفاقیت اور خاندانی اجارہ داری صوبوں اور عورتوں کے مفادات کے خلاف ہے، اسی لیے آئین میں لائی گئی اٹھارویں ترمیم نہ صرف صوبوں کے حق میں ہے بلکہ عورت کی آزادی کے حق میں بھی ہے، اسی لیے پورے ملک میں خواتین اٹھارویں ترمیم کے حق میں منظم ہیں لیکن حال ہی میں اٹھائے گئے دو اقدامات کی وجہ سے سندھ بھی 18 ویں ترمیم سے پیچھے ہٹتی دکھائی دے رہی ہے، ویسے تو سندھ اور پاکستان پیپلزپارٹی 18ویں ترمیم کے موجد ہیں، پر سندھ پر مرکز نے دباؤ ڈال کر دو معاملات پر غیر آئینی طریقی سے اپنی بات منوائی ہے، پہلا معاملہ نصاب کا ہے جس معاملے پر وفاق نے غیر آئینی طور پر تعلیم کے نظام پر صوبائی وزیر کے ساتھ پورے ملک میں ایک نصاب بنانے پر اتفاق کیا ہے، نصاب نہ صرف آج بلکہ بہت پہلے سے صوبائی معاملہ ہے اور اس میں مرکز کی مداخلت رجعت پسند سوچ لاگو کرنا چاہتے ہیں، مدارس کا معاملہ بھی صوبائی معاملہ ہے مرکز وفاق المدارس کا ادارہ بناکر صوبوں میں غیر آئینی طور پر اپنا ایجنڈا مسلط کر رہا ہے۔

دوسرا معاملہ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیوٹ ہے جس پر سال 2011 میں پنجاب حکومت یہ موقف لےکر سپریم کورٹ گئی تھی کہ لیبر کا معاملہ صوبائی معاملہ ہے اسی لیے یہ ادارے صوبوں کے حوالے کے حوالے ہونا چاہئے، پر چونکہ اس وقت وفاق میں نواز لیگ کی حکومت تھی اس لیئے یہ معاملہ وہیں رہ گیا، اب جبکہ یہ معاملہ سی سی آئی میں آیا ہے تو سننے میں آیا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے یہ معاملہ وفاق میں رکھنے کی حمایت کرنے کے افواہ چل رہے ہیں، ان دونوں معاملات پر اگر صوبائی سرکار پیچھے ہٹتی ہے تو وفاق آہستہ آہستہ 18 وین ترمیم کو غیر آئینی تشریح بنا کر اسے آٹھویں ترمیم میں تبدیل کر دے گا جو زیادہ تر کر چکے ہیں جو زیادہ تر پہلے ہی کر چکے، ہیں جیسا کہ پولیس کا معاملہ ایک صوبائی معاملہ ہے لیکن وفاق غیر آئینی طور پر پولیس سروس آف پاکستان بنائی یے، کہ جس طرح وہ مرکزی پولیس آفیسران کو سندھ میں صوبائی حکومت کے خلاف استعمال کر رہے ہیں جو آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

عورتوں کے حقوق، آئین میں ایک آرٹیکل پر مبنی نہیں ہے ںلکہ آئین کے آرٹیکل 34 میں یہ لکھا گیا ہے

34: Full participation of women in national life: Step shall be taken to ensure full participation of women in all spheres of life.

ترجمہ: ریاست عورت کو تمام شعبہ ہائے زندگی میں شرکت کروانے کی پابند ہے۔

ریاست نے عورتوں کے لئے کچھ اقدامات اٹھائے ہیں، لیکن وہ ناکافی ہیں، کیونکہ عورت کی شرکت کے حوالے سے ان کی نمائندگی بہت کم ہے، وہ عورت پر نہیں بلکہ ریاست کی زمہ داری ہے کہ ایسے اقدامات کرے کہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں مرد کے برابر آسکے، ریاست نے نہ تو ایسے اقدامات کیے ہیں بلکہ ایسا معاشرے میں کہیں نظر بھی نہیں آتا، عورت کی تعلیم صحت، نوکریاں اور سیاسی اداروں میں نمائندگی بہت کم ہے، جو ابھی اس وقت آٹے میں نمک کے برابر ہے جیسا کہ سپریم کورٹ میں ایک بھی عورت جج نہیں ہے ہائی کورٹس اور لوئر جوڈیشری میں ان کی نمائندگی بہت کم ہے اسی طرح سیاسی جماعتوں کو پابند کیا جائے کہ وہ خواتین کو قومی، صوبائی اور سینیٹ کی الیکشن میں ڈائریکٹ نشستوں پر عورتوں کو زیادہ ٹکٹ دیں تاکہ ان کی اسمبلی میں نمائندگی ہو، اسی طرح وفاقی یا صوبائی بیوروکریسی یونیورسٹیز یا اعلی تعلیمی اداروں میں ان کی تعداد بہت کم ہے۔

 

جیسا کہ آئین کے آرٹیکل 34 کے تحت ریاست یعنی صوبہ اور وفاقی حکومت پر لازم ہے کہ وہ ایسے اقدامات اٹھائیں نہ اٹھانے کی صورت میں یہ قانون توڑنے کے برابر ہوگا اس کی ایک مثال آئین کے آرٹیکل 35 میں دی گئی ہے۔

Article 35: Protection of family etc: state shall protect the marriage, the family, the mother and the chaild

ترجمہ: ریاست پر یہ لازم ہے کہ وہ خاندان شادی ماں اور بچے کا تحفظ کرے.

ریاست نے اس آرٹیکل پر عمل درآمد نہیں کیا، ماں اور بچہ تو کیا، خاندان اور شادی والا ادارہ سخت مشکلات کا شکار ہے، زبردستی مذہب تبدیل کرکے ہندو لڑکیوں کی شادیاں عام بات ہے کاروکاری اور جرگہ سسٹم اکیسویں صدی میں بھی سندھ میں چل رہا ہے، ریاست اور جرگہ نظام کی مدد سے خواتین پر غیر آئینی نظام نافذ ہے جو کہ آئین کے آرٹیکل 35 کی سنگین خلاف ورزی ہے آئین کے آرٹیکل 29 کے نیچے آرٹیکل 34 اور 35 پر عملدرآمد کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور ایسی رپورٹ ہرسال بنانی ہے بلکہ اسمبلیوں میں بھی پیش کرنا لازمی ہے، لیکن آج تک آئین کے اس نکتے کے حوالے سے کوئی بحث نہیں ہوئی، اس کے لیے ضروری ہے کہ خواتین پارلیمنٹیرینز کو آرٹیکل 34 اور 35 پر عمل کے لیے آگے آئیں بلکہ ہر سال صوبائی اور وفاقی پارلیمنٹ میں ان آرٹیکلز پر عمل درآمد کے بارے میں نہ صرف بحث کروائیں، بلکہ عوام کو یہ بتائیں کہ ان پر کتنا عمل ہوا ہے جیسا کہ ملک میں عورت کو پتہ چلے کہ اس ان کے حقوق کیا ہیں؟ ان پر کتنا عمل درآمد ہو رہا ہے؟

آئین میں دی گئی صوبائی خودمختاری پر عمل نہ ہونے پر بڑے بڑے احتجاج اور مارچ ہوئے ہیں، پر کچھ عرصہ قبل آئین میں عورتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف سکھر لاہور اور دوسرے شہروں میں بڑے پیمانے پر مارچ ہونے والے ہیں، آئین میں دیئے گئے حقوق پر عمل نہ ہونے پر تمام صوبے کی عوام کو شرکت کرنی چاہیے کیونکہ سندھ کا مسئلہ تو یہی ہے کہ آئین پر عمل درآمد نہیں ہو رہا اور وفاقیت صوبے پر لاگو کی جارہی ہے، اور صوبائی حکومت پر دباؤ ڈالا جارہا ہے، اسی طرح خواتین کا مسئلہ بھی وہی ہے، آئین کے آرٹیکل 25 اور 35 کی سنگین خلاف ورزی کر کے صوبوں کی طرح عورت کو دیوار سے لگایا جارہا ہے، عورت کو آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق نہ ملنے پر ہونے والے احتجاج سے کسی کو کیا خطرہ لاحق ہے؟

ریاست وہی کامیاب ہوتی ہے جہاں ماں کا راج ہوتا ہے! مطلب جہاں شہریوں کے ساتھ ریاست ماں جیسا برتاؤ کرے!

اور سندھ آج تک وفاقیت کی وجہ سے بھگت رہی ہے اس کے لیے ریاست ماں کے راج قائم کرنے سے کیسے انکاری ہوسکتی ہے؟

عورت مارچ سندھ میں ماں کے راج کی طرف پہلا قدم ہے، جس میں شرکت اور اس سے یکجہتی سندھ کے ہر فرد پر اخلاقی جمہوری آئینی اور بنیادی حق ہے وہ حق ان سے کوئی بھی نہیں تھی سکتا

روزنامہ کاوش کے تعاون سے

ترجمہ سماچار نیوز

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

گلگت بلتستان، نوید انقلاب | آفتاب احمد گورائیہ

تحریر: آفتاب احمد گورائیہ گلگت بلتستان اپنے دیو مالائی حُسن، برف پوش چوٹیوں، خوبصورت وادیوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے