منگل , 13 اپریل 2021
ensdur

ریاست مدینہ کا خواب اور ہم پاکستانی!

تحریر: حمید ڈیپلائی

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کم و بیش چھیانوے فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے اور ان چھیانوے فیصد مسلمانوں میں واضع اکثریت عاشقان رسول کی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ان چھیانوے فیصد مسلمانوں میں ہر تیسرے مسلمان نے سنت نبوی کے مطابق داڑھی بھی رکھی ہوئی ہے۔ لیکن پھر بھی سو فیصد پاکستانی عمران نیازی سے ہی توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنائے گا۔

آخر کیا وجہ ہے کہ چھیانوے فیصد مسلمانوں کی آبادی والا یہ ملک جہاں اکثریت عاشقان رسول کی ہے، آزادی کو ستر سال سے زیادہ عرصہ گذرنے کے بعد بھی ریاست مدینہ نہیں بن سکا؟

ایک یا دو نہیں بلکہ ہر ایک بندہ پاکستان میں کرپشن کا خاتمہ چاہتا ہے، اداروں میں میرٹ چاہتا ہے، سڑکوں پر امن، سکون اور اطمینان چاہتا ہے، فوری انصاف چاہتا ہے اور اپنے بچوں کیلئے بہتر تعلیم اور صحت کی سہولیات چاہتا ہے لیکن پھر بھی اس ملک سے کرپشن ختم نہیں ہوپارہی، میرٹ کہیں نظر نہیں آتا، سڑکیں موت کی ہفتہ بازار بنی ہوئی ہیں، تعلیم اور صحت منافع بخش کاروبار بنا ہوا ہے اور انصاف کی آنکھوں پر ادھ کھلی پٹی بندھی ہوئی ہے۔

کیا وجہ ہے کہ سب کی مشترکہ چاہت اور خواھش کے باوجود یہ ملک آزادی کو ستر سال سے زیادہ عرصہ گذرنے کے بعد بھی ریاست مدینہ نہیں بن سکا؟؟

کیا صرف حکمران ہی پاکستان میں ریاست مدینہ کے قیام میں رکاوٹ ہیں؟

کیا ریاست مدینہ کا قیام کسی قانون سازی، آئینی ترمیم یا آرڈیننس کے ذریعے ممکن ہے؟

میں کوئی عالم فاضل نہیں، حافظ قرآن بھی نہیں اور نہ ہی شیخ الحدیث ہوں اس لئے کسی عقیدے کی بنیاد پر یا کسی فرقے کے زیر اثر کسی کے لئے نہ تو کفر کی فتویٰ دینے کی جرآت کرسکتا ہوں اور نہ ہی کسی کو غلط ثابت کرنے کا عزم رکھتا ہوں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں ہمارے اعمال ہماری حقیقت بیان کرتے ہیں۔ اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے اعمال ہمارے عقیدوں اور ہماری تعلیمات سے قطعی میچ نہیں کرتے۔

ہم گالیاں تو زرداری اور نواز شریف کو دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم سب اخلاقی، مالی اور نظریاتی کرپٹ ہیں۔ ہم دین کے نام پر دنیاداری کرتے ہیں۔ دین کے نام پر ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جو مسجد میں چپل اور سبیل کا گلاس بھی نہیں چھوڑتے۔

ہمیں ریاست مدینہ کا خواب عمران نیازی نے دکھایا تھا جس نے اپنے ڈیڑہ سالہ دؤر اقتدار میں مسلسل وعدہ خلافیاں کرکے، عوام سے حقیقتیں چھپا کر، یکطرفہ احتساب کرکے، اور اپنے قریبی رفقاء اور وزراء کی من مانیاں اور ان کے خلاف شکایتیں نظرانداز کرکے خود ریاست مدینہ کی شرعی بنیادوں سے انحراف کیا ہے۔

ریاست مدینہ کا خواب شرمندہ تعبیر اس لئے بھی نہیں ہورہا کہ صرف حکمران طبقہ نہیں بلکہ ہم عام عوام بھی جاہل ہونے کے ساتھ ساتھ منافق بھی ہیں۔ ہم نے مونچھیں منڈواکر، گالوں پر بال اُگا کر، پائنچے ٹخنوں سے اوپر کرکے، شہادت والی انگلی میں تسبیح پھنسانے کو ہی اسلام سمجھ لیا ہے۔

سچائی یہ ہے کہ ریاست مدینہ صرف شلوار قمیض پہننے یا سابقہ حکمرانوں کو گالیاں دینے سے نہیں بنے گی۔ ریاست مدینہ کے قیام کیلئے وہ ارادہ چاہئے جو جناب محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کا تھا کہ چور اگر ان کی بیٹی ہوتی تو ہاتھ اس کا بھی کاٹا جاتا۔ یہاں تو موجودہ حکمران کا بھانجہ سرعام اسپتال پر حملہ کرتا ہے اور پھر جب تک اس کی ضمانت نہیں ہوجاتی وہ پولیس کی آنکھوں سے اوجھل رہتا ہے اور موجودہ حکمران کی ایمانداری ثابت کرنے کیلئے اور اس کے دفاع میں یہ منطق پیش کی جاتی ہے کہ اس کے بھانجے کا باپ مخالف پارٹی سے تعلق رکھتا ہے۔

سچائی یہ بھی ہے کہ ریاست مدینہ عقیدت اور مسلک کی بنیاد پر کفر کے فتوے بانٹنے سے بھی نہیں بنتی۔

ریاست مدینہ بنانے کیلئے دوسروں کے نقاد بننے کی بجائے اپنا نقاد بننا پڑے گا۔ جو شرعی اصول، شرائط اور ضوابط دوسروں کیلئے ہم تجویز کرتے ہیں، جو مفت مشورے دوسروں کو دیتے ہیں، ان پر خود عمل کریں گے تو ہمیں کسی نیازی کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور ہمارا ملک ازخود ریاست مدینہ بن جائے گا۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم عہدوں سے استعفے مولانا فضل الرحمن کو بھجوا دیئے

پیپلز پارٹی نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم سے علیحدگی کے فیصلے پر مرحلہ وار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے