منگل , 19 جنوری 2021
ensdur

ریاست مدینہ میں لوگ امن، انصاف کے منتظر ہیں | عبدالحفیظ بھٹو

تحریر: عبدالحفیظ بھٹو

ہماری قوم کی سرزمین پر بہت سارے عظیم سیاسی رہنما گذر چکے ہیں جنہوں نے اپنی بہترین صلاحيتوں سے ملک کی خدمات کر کےاپنی جانیں قربان کیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ 1990 کی دہائی کے خاتمے کے بعد ہمارے ملک کو ایسا سربراه نہیں ملا جو ملک کے امن کو بہتر بنا سکے. 90 کی دہائی کی تشکیل کے بعد ، پچھلی حکومتیں جو عوام کے قیمتی ووٹوں سے اقتدار میں آئیں اور انہوں نے عوام کو بہت سارے سنهري خواب دکها کر ان سے جھوٹے وعدےکیے تهے،ساری حکومتيں چلی گئيں ليکن عوام کو کوئی فائده نہیں مل سکھا. پاکستانی عوام جو ھر دور میں معاشرے میں امن، انصاف کی متظر بن کر رہی ہے کیا ہمیشہ کی طرح ا نہیں امن، انصاف کا منتظر ہی رهنا هوگا؟ آخر لوگوں کا کیا قصور ہے؟ ان کو تمام ضروری سہولیات کی فراہمی تو دور سول سوسائٹی کے اندرا نہیں بهتر امن ، انصاف تک نہیں ملا ہے۔ امن، انصاف کسی بھی قوم کی ترقی کا سنگ بنیاد ہوتا ہے امن، انصاف کا مطلب ایک ایسا معاشرہ ہے جس میں ہر طرح کے تشدد ، تعصب ، دہشت گردی اور ظلم و ستم کے ہونے والے واقعات کے خلاف انصاف کی جدوجہد کے ساتھ ردعمل ديا جائے ، جو کےمدينی کی ریاست کا ایک بنیادی حصہ ہے.

موجودہ حکومت تین سال کی مدت پوری کرنے والی ہے جس کا مقصد پرانا پاکستان ختم کرنا اور نیا پاکستان تشکیل دینا تھا اور اسے ریاست مدینہ میں تبدیل کرنا ہے۔ اگر ہم ریاست مدینہ کاجائزہ لیں جس کا دوسرا خليفه سیدنا عمر فاروق رضي الله عنه تھا ، جس کي رياست کا امن، انصاف ايسا تها کے وه ايک کتے کو بهي بهوک میں مرنے نہیں ديتے تهے کے مجھے ایک دن اپنے مالک کو جواب دینا پڑے گا۔ یہ مدينی کی رياست ہے۔ ہم ریاست مدینہ میں ہونے والے ایک چھوٹے سے واقعے پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور ملک پاکستان کو دیکھتے ہیں جو ریاست مدینہ کے بالکل مخالف ہے۔ موجودہ حکومت اپنے دعووں کو پورا کرنے کے لئے ابھی تک عوام کو مطمئن نہیں کر سکی ہے۔ ماضی کی حکومتوں کی طرح پاکستانی معاشرے میں امن کو بدتر کرنے والے دہشت گردی کے واقعات ابھی بھی جاری ہیں۔ آج معاشرے کی ایک ایسی حالت بن چکی ہے جہاں ہر روز متعدد انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ پاکستان میں ہر کوئی خاندان اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا ہے۔ جب سے یہ ملک وجود میں آیا ہے ، اس دن سے دہشت گردی کے حملوں میں بہت ساری انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ 70 سال گزر جانے کے بعد بھی ، ملک کے سکیورٹی ایجنسیاں اور حکومت دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے حملوں کی روک تھام کے لئے کوئی بھتر اقدامات نہیں کرسکی جو دہشت گردی کے حملوں کا خاتمہ کرسکے اور ملکی معاشرے کو امن کا گہر بناسکے۔ آئے دن دہشت گردی کے حملے روز کا معمول بن چکے ہیں، ریاست مدینہ میں اس طرح کے حملے نہیں ہوتے تھے۔ اس طرح بلوچستان کے شہر میں تشدد کا ایک حالیہ واقعہ پيش آيا جس میں ہزارہ برادری کے 11 کارکنان کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔ مزدوروں کے ورثاء جنہوں نے کئی دن تک کوئٹہ کی اس سخت سردی میں اپنے پیاروں کی میتوں کو امن ، انصاف کی بھیک مانگتے ہوئے رکھا تھا . اس ليئے کہ ریاست مدینہ کے سربراہ ہمارے مظلوم رشتے داروں کے مظالم کو دیکھے کہ آیا یہ وہ مدینہ کی رياست ہے؟ جس کا آپ نے وعدہ کیا تھا. وہ ریاست جس میں ایک مظلوم عوام اپنے اوپرڈھائے گئے ظلم جبر کے لئے اپنے ہی سربراه کو پکار ر ہی ہو اور وه آنے میں اتنی دیر کریں۔ کیا یہ مدینہ کی ریاست ہے؟ اگر ایسا ہے تو ، رياست مدینہ کےسربراہ سے بہتر تو نیوزی لینڈ کی ایک غیر مسلم خاتون وزیر اعظم ہے۔ جب نیوزی لینڈ کی ایک مسجد میں دہشت گرد حملہ ہوا تو اس ملک کی وزیر اعظم غیر مسلم ہونے کے باوجود بھي متاثرہ افراد کے اہل خانہ سے ملنے گئي .جو کے رياست کا سربراه ہونے کےناتے اس کا فرض ہے. اس کے علاوہ ، ترکی کے صدر طيب اردگان ، جو متاثرہ افراد اور متاثرین کی دیکھ بھال کے لئے ان کے گھر جاتے ہیں .

معاشرے میں ا من، انصاف کا نظام اتنا کمزور ہوچکا ہے کہ معاشرے میں ریاستی دہشت گردی کے علاوہ اس سے وابستہ بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں ، جنہیں سیکیورٹی ایجنسیوں کی طرف سے محض شک کی بنیاد پر مظلوم لوگوں کا خون بہايا جاتاہے۔ اگر ایسا ہے تو ، ماضی میں ایسے بہت سے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن کے سالو ں سے ابھی تک مقدمات چل ر ہے ہیں . سربراہا ں کی طرف سے انہیں صرف اميدو ں کی توقعات ہی دی جاتی ہے . بلکہ جیسے جیسے وقت گذرتاجاتا ہے ہمیں بھی اسی طرح زندگی گذارنے کی عادت ہو جاتی ے، معاشرے میں امن کی صورتحال اتنی خراب ہوگئی ہے کہ معصوم بچوں کے ساتھ اور بھی زیادہ واقعات معمول بن چکے ہیں .آج کوئی خاندان خود کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ کيا یہ ايسا مدينے کی ریاست کا امن ، انصاف ہوگا؟ بلکہ یہ نیا پاکستان اور پرانے پاکستان کا نظام ہے جس کو ریاست مدینہ کا نام دينا مناسب نہیں ہے اس ملک کا قائد امن ، انصاف اور کسی بھی ریاست میں پیش کردہ کسی بھی دوسرے امور کا ذمہ دار ہے۔ بہرحال ، یہ ان رہنماؤں کی ذمہ داری ہے جو اپنی ریاست کے عوام کے امن ، انصاف اور استحکام کو برقرار رکھنے کے ذمہ دار اور پابند ہیں۔ پچھلے 70 سالوں سے پاکستان کے معاشروں میں کبھی بھی مکمل امن اور انصاف نہیں ملا۔ یوم پاکستان کے وجود سے لے کر آج تک عوام سراپا احتجاج ہیں اور اپنے حقوق کا مطالبہ کررہے ہیں۔ یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ عالم دین کی قیادت کے بغیر امن، انصاف قائم کرنا مشکل ہے ، بصورت دیگر عوام کو ہمیشہ امن ، انصاف کے منتظر رہنا پڑے گا۔

مصنف سندھ یونیورسٹی میں میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز کے شعبہ کے طالب علم ہیں۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ڈی ایم کا پی ٹی آئی فنڈنگ کیس کے فیصلے میں تاخیر پر الیکشن کمیشن کے سامنے بھرپور پاور شو

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں تاخیر پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی …

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے