جمعرات , 25 فروری 2021
ensdur
اہم خبریں

رفوگر …… | سعدیہ معظم

تحریر: سعدیہ معظم
ارے اماں آج پھر میری پینٹ اپنی واشنگ مشین کے کٹھارا اسپنر میں سکھائی ہے کیا۔۔۔؟ وقاص اپنی اکلوتی لیوائس کی جینز کو ہاتھ سے لہراتے ہوئے چلایا ۔۔اماں سٹوو کی آنچ کم کرنے ہاتھ سے خشکی جھاڑتے ہوئے وقاص کے پاس دوڑی آئیں ۔
لاؤ ادھر دکھاؤ ۔۔کہاں سے رگڑ گئی پھر
اماں غربت میں آٹا گیلا بڑبڑاتے ہوئے پینٹ کو دیکھنے لگیں ۔
لے یہ پھر گھٹنوں کے پاس سے پھڑی ہے اب یہ مجھ سے نا سل سکے گی ۔اماں ہمت ہارتے ہوئے بولیں ۔۔۔یہ تو اب سلیم کا لڑکا بِٹو ہی رفو کر کے دے گا ۔۔تم دے آو اس کی دکان پر شام تک کردے گا ۔۔
اماں اپنا فرمان جاری کرتے ہوئے پھر سے باورچی خانے کے امور نمٹانے لگیں ۔
بِٹو میاں پورے محلے کے منظور نظر تھے اور ہوتے کیوں نا ۔
اس محلے میں رہنے والے سبھی سفید پوش لوگ تھے جو اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لئے کبھی کبھار ہی کچھ مہگا کپڑا خریدتے تھے اور پھر سالہا سال اس کپڑے کو استعمال کرتے تھے ۔اب اگر ایسے میں کہیں کچھ ادہڑ جائے تو جناب بٹو میاں حاضر ۔
ایسی باریک رفو گری کرتے تھے کہ مانو کپڑا کبھی پھڑا ہی نہیں ۔
سلیم صاحب گھر کے اندورنی آنگن میں بڑی بے تابی سے ٹہل رہے تھے ۔ماموں جان برآمدے میں پڑی سیٹھی پہ نیم دراز آنکھوں کے سامنے تازہ اخبار لئے بیٹھے تھے ۔کبھی نگاہ اٹھا کرسلیم کو ٹہلتے دیکھتے پھر آنکھیں اخبار پہ جم جاتی ۔جی میں ان کے بھی یہی وسوسہ تھا کہ اللہ جانے اب اس کے گھر کون مہمان آتا ہوگا۔پاس ہی سلیم کی چار بیٹیاں آم کے پیڑ کے نیچے بیٹھی لٹو کھیل رہیں تھیں ۔
ابھی دوپہر کا پہلا پہر ہی گزرا تھا کہ زنان خانے سے ممانی مبارک باد دیتی نمودار ہوئی ،
اے سلیم مبارک ہو لونڈا ہوا ہے۔
سلیم میاں تو خوشی کے مارے بھولے نا سمارہے تھے ماموں جان نے لپک کر گلے لگایا ۔ممانی ماتھا چومتے ہو بچیوں کو خوش خبری سنانے آگے بڑھ گئیں ۔
بٹو میاں کی آمد کیا ہوئی کہ گھر میں زندگی دوڑ گئی۔
بہنوں کے چہیتے ماں باپ کے لاڑلے بٹومیاں فطرتاً نفیس طبیعت کے تھے بہنوں کے ساتھ پلے بڑھے تو دل بھی نرم ہی رہا ،کہیں کوئی چوٹ لگ جائے کسی بہن کو تو موٹے موٹے آنسوؤں سےروئیں بٹو میاں ۔
بچپن گزرا تو وقت کے ساتھ ساتھ بٹومیاں بہادر ہوتے گئے اب بہنوں کا درد ہو یا ماں کی تکلیف بٹو میاں حاضر ۔کبھی سکھائی کررہیں ہیں تو کبھی دوا مَل رہیں ہیں ،ان سے درد دیکھا ہی نہیں جاتا تھا ۔
جوانی بھی خوب تاؤ سے آئی بٹو پہ ۔بانچھیں کیا بھیگی کہ پورے خاندان کے منظور نظر ہوگئے ۔خاندان میں شادی بیاہ ہو یا کوئی اور تہوار بٹو میاں وہاں موجود ہوتے تھے ۔لپک لپک کر کھانا پروسنا ہو یا دردیاں بجھانا ہوں بٹو میاں انکار نہی کرتے تھے ۔
سلیم صاحب نے اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کو میڑک کروا کر دکان پہ ساتھ بٹھالیا تھا ۔کاریگری سیکھنے کے ساتھ ساتھ طبیعت میں چونکہ نزاکت کافی تھی تو کام میں باریکی آتی چلی گئی اور یوں بٹو میاں رفو گر ہوگئے ۔
کاریگر کوئی کام خراب کربیٹھے تو گارہک کا غصہ سکون سے جھیلتےاور اپنی جیب سے نقصان پورا کردیتے ۔محلے کی دادیاں نانیاں اپنے بیٹوں کی شکائیتیں بھی بٹو میاں سے کرتی تھیں ،بٹومیاں نے ان کے بیٹوں کا کیا بگاڑ لینا تھا ہاں بڑھ کر کام پوچھ لیتے اور فٹافٹ کر دوڑتے۔
انکی سنگی سہلیاں بھی بہت تھیں ایسے بھروسہ کرتی تھیں جانے بٹومیاں انکی سہیلی ہی ہو۔فلاں نے اس فیشن کا سوٹ پہنا ہے مجھے بھی ایسا سلوانا ہے۔لو بھئی کاریگر کو جیب سے بڑھتی پیسے دے کر سوٹ سل جاتا تھا۔
کہنے کو تو کپڑوں کی رفو گری کرتے تھے بٹو میاں ۔لیکن اپنی نیک فطرت سے وہ اپنے سانجھے داروں کے بھی رفو گر تھے۔
بلوغت پار کرچکے تو سہرا سجانے چلی بہنیں ۔
شادی کارش گھرمہمانوں سے کچھا کچھ بھرا ہوا ۔۔۔دلہن اپنی آرام گاہ میں بیٹھی تیز دھڑکنوں سے بیٹھی سرتاج کا انتظار کررہی تھی۔
بٹو میاں بھی تمام رسم و رواجوں سے فراغت پاکر حجلہ عروسی میں داخل ہوئے تو دلہن مسہری پہ سمٹ کے بیٹھ گئی ۔
بٹو میاں مختصرا اپنا تعارف دے چکے تو دلہن کی مہین سی آواز نکلی ۔
مجھ سے وعدہ کیجیے کہ آپ مجھے معاف کردیں گے ۔۔!
بٹو میاں کچھ نا سمجھتے ہوئے بولے
ایسا کیا کردیا آپ نے پہلے ہی دن کہ معافی مانگنا پڑگئی۔
میں آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن ماں باپ کی عزت کی خاطر یہ زہر کا گھونٹ پینا پڑا۔
بٹو میاں یہ سن کر سناٹے میں آگئے ۔
ایسا مت کہئیے ۔اب آپ میرے نکاح میں ہیں میری عزت ہیں ۔
دلہن نے انہیں مسہری پہ سے اتر جانے کو کہا اور خود غسل خانے کی جانب بڑھی ۔
بہت دیر جب غسل خانے سے باہر نہ آئی تو بٹومیاں کو فکر لاحق ہوئی ۔دروازہ بجایا آوازیں دیں ۔
لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا ۔کیواڑ کو اندر کی جانب دکھیل کر کنٹی توڑ ی اور اندر داخل ہوئے ۔
اندر دیکھتے ہیں کہ دلہن اوندھے منہ گری پڑی ہے ۔پاس ہی زہر کی شیشی گری ہوئی ہے ۔
اب تو نا آو دیکھا نا تاؤ اپنی نئی نویلی دلہن کو لے کر ہسپتال دوڑے ۔
اس بھاگ دوڑ میں کوئی بھی یہ سوال کرنے کی ہمت نا جُتا سکا کہ آخر ماجرا کیا ہے۔
بٹو میاں نے اپنی ماں کو تو سب بتادیا لیکن وعدہ لیا کہ وہ کسی کو بھی کچھ نہیں بتائیں گی۔
پوری رات ہسپتال میں کالی ہوگئی ۔ڈاکٹروں کی بروقت تدبیر سے دلہن کی جان بچی ۔
صبح گھر جانے کی اجازت ملنے پہ بٹو میاں اپنی دلہن کو گھر لے آئے ۔مہمانوں کا تانتا بندھا رہا ۔میکےسے دور پرے کے سب ہی رشتہ دار دلہن کو دیکھنے آئے ۔
مگر بٹو میاں نے کسی پر بھی ظاہر نہ ہونے دیا کہ ان پر پہلی رات کیا قیامت پہاڑ بن کر ٹوٹی ہے ۔
شب وروز یونہی گزرتے رہے نندیں اکلوتی بھابی کے نخرے اٹھاتی نہ تھکتی تھیں ۔
اماں تو ہر وقت صدقے واری ہوتی رہتی تھیں ۔اور بٹو میاں جو غیروں کی سہیلی تھے اپنی گھر والی کا دکھ کیونکر نا بٹاتے ،اسے اتنی عزت سے اپنے گھر میں رکھا ہر چیز کا خیال کیا اور کبھی پلٹ کر وہ باتیں دہرائی ہی نہیں جو انکی دلہن نادانی میں کہ گئی تھی اور اپنی ناسمجھی یا جذباتیت میں ایسا قدم اٹھا بیٹھی تھی ۔
بٹو میاں نے اپنی فطرت کی بدولت اپنے گھر کو تماشہ بننے نہی دیا ۔ان کے پُر خلوص رویہ اور عزت سے انکی شریک حیات اپنی حرکت سے شرمسار سی رہنے لگی ۔
بٹو میاں اپنے کمرے میں مسہری پہ نیم دراز تھے ۔آنکھیں موندے جانے کس گہری سوچ میں گم ۔۔کہ اپنے پیروں پہ ہاتھوں کا دباؤ محسوس ہوا ۔جھڑک کر اٹھ بیٹھے ۔۔کیا دیکھتے ہیں کہ انکی شریک حیات انکے پیروں پہ پڑی رو رو کر معافی مانگ رہی ہے ۔کیونکر معاف نا کرتے ۔
بٹو میاں تو تھے ہی رفو گر
اپنے محبت پیار اور عزت سے اسطرح اپنی دلہن کے زخم سی دئیے اور اسے جتایا بھی نہیں ،
وہ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ جسے ان کی دلہن محبت سمجھ رہی وہ اس کی کچی عمر کی نادانی ہے اس کی عمر کا تقاضہ ہے۔اس عمر میں جذبات کا بہاؤ اتنا شدید ہوتا ہے کہ کسی بھی طرف راغب ہوجاتا ہے جسے عموما لڑکیاں محبت سمجھ بیٹھتی ہیں اور بہت سی ایسے غلط قدم بھی اٹھا لیتی ہیں کہ واپسی ممکن نہیں ہوتی ۔۔۔بٹو میاں کی عقل مندی اور خوش قسمتی نے ان کا گھر برباد ہونے سے بچا لیا ۔
اس میں انکی رفو گری بھی کام آگئی ،آخر کو اتنی سمجھ انہیں اپنی سہیلیوں سے ہی آئی تھی جن کے رفو گر تھے وہ ۔۔۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

کیا عثمان بزدار استعفیٰ دیں گے؟ | سید مجاہد علی

تحریر: سید مجاہد علی مسلم لیگ (ن) اور مریم نواز کے شور شرابے کو سیاسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے