منگل , 13 اپریل 2021
ensdur

ذوالفقار علی بھٹو: ’غداروں‘ کی گیلری کا سب سے مُنفرد نام

ان دنوں نواز شریف پر ہندوستانی ایجنٹ اور غدار ہونے کے الزامات لگ رہے ہیں، جس کی وجہ سے ماضی کو کرید کر بتایا جارہا ہے کہ ان سے پہلے کون کون اس نوع کے الزامات کی زد میں رہا۔

غداروں کی فہرست میں بڑے بڑوں کے نام ہیں جن میں ذوالفقار علی بھٹو بھی شامل ہیں۔ بھٹو کو پاکستان کی سیاسی میں کئی اعتبار سے ممتاز مقام حاصل ہے۔

’غداروں‘ کی گیلری میں بھی وہ منفرد نظر آتے ہیں۔ دوسرے سیاست دان تو ’ہندوستانی ایجنٹ‘ یا ’غدار‘ کے رتبے پر فائز ہوکر سستے میں چھوٹ گئے لیکن بھٹو پر ’غداری ‘کا سادہ الزام تو لگا لیکن اس سے کلیجے میں ٹھنڈ نہیں پڑی لہٰذا وہ ہندو قرار پائے، جس کا اصل نام گھاسی رام بتایا گیا۔

آپ اسے غدار پلس کہہ لیجیے۔ انھیں ہندو ثابت کرنے کے لیے تحقیق ان کی پھانسی کے بعد بھی جاری رہی۔

راولپنڈی جیل کے سابق سپیشل سکیورٹی سپرنٹنڈنٹ کرنل (ر) رفیع الدین نے اپنی کتاب ’بھٹو کے آخری 323 دن‘ میں لکھا کہ ’بھٹو صاحب کی لاش کو رات دو بج کر پینتس منٹ پر پھانسی کے پھندے سے جدا کیا گیا۔ ان کی میت کو غسل دیا گیا، جس کا بندوبست وہیں کر لیا گیا تھا۔‘

’ایک فوٹو گرافر نے جسے ایک انٹیلی جنس ایجنسی نے بھیجا تھا، ضرورت کے مطابق بھٹو صاحب کے چند فوٹو اُتارے۔ ان تصویروں سے حکام کا یہ شک دور ہوگیا کہ ان کے ختنے نہیں ہوئے تھے۔‘

بھٹو کو ہندو ثابت کرنے میں پاکستانی صحافت نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ اخبارات و رسائل میں ان کی ذات پر رکیک حملے ہوئے۔ ان کا جعلی شجرہ نسب شائع ہوا، جس کی رو سے وہ ہندو ماں باپ کی اولاد تھے۔

ہفت روزہ ’صحافت‘ نے ان کے ’ہندو ماموں‘کا انٹرویو شائع کیا۔ اس زمانے کی طرزِ صحافت کا اندازہ ممتاز صحافی حسین نقی کے ایک خط سے ہوتا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ ’میں نے بھٹو کے خلاف بھی بہت سخت لکھا ہے لیکن کبھی ان کی ماں، بہن، بیٹی کے متعلق نہیں لکھا کہ میری نظر میں یہ میری تہذیب اور تربیت کے خلاف ہے، البتہ پڑھا بہت ہے۔‘

بھٹو نے آزادیٔ اظہار پر پابندیاں عائد کیں، صحافیوں کو ڈرایا دھمکایا، اس کے بارے میں بات ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہیے لیکن ناصر کاظمی کے لفظوں میں ’جو گراں تھے سینۂ خاک پر وہی بن کے بیٹھے ہیں معتبر‘ ان کے کردار کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔

معروف ترقی پسند ادیب اور صحافی انور احسن صدیقی نے اپنی کتاب ’دلِ پُر خوں کی اک گلابی سے‘ میں بتایا ہے کہ 1977 کے انتخابات میں اپوزیشن اتحاد، پاکستان نیشنل الائنس (پی این اے ) کی ایما پر ایک گُم نام ہینڈ بیل بڑی تعداد میں تقسیم ہوا جس کے مطابق بھٹو کے والدین ہندو تھے۔

ان کے بقول ’نفرت اور تذلیل کی ایک زبردست مہم تھی جو بھٹو اور ان کے ساتھیوں کے خلاف چلائی گئی۔ اس ساری مہم کی سرپرستی اشرافیہ کررہی تھی جس میں فوج پوری طرح شامل تھی۔‘

انور احسن صدیقی کراچی کی کہانی بیان کررہے ہیں۔ لاہور میں اس مہم کے بارے میں انسانی حقوق کے کارکن اور اشاعتی ادارے ’سانجھ‘کے مالک، امجد سلیم منہاس نے جو اس زمانے میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ تھے، ہمیں بتایا اور اعتراف کیا کہ جن پوسٹروں میں بھٹو کو گھاسی رام قرار دیا گیا تھا ان کو لاہور کے علاقے اِچھرہ کی دیواروں پر چسپاں کرنے کا ’اعزاز‘ ان کے حصے میں بھی آیا۔ ان کے بقول پوسٹر پر درج ہوتا:

بھٹو جی کا اصلی نام

 گھاسی رام گھاسی رام

ان کا کہنا ہے کہ اب وہ پیچھے مُڑ کر دیکھتے ہیں تو اپنے اس عمل پر انھیں پشیمانی ہوتی ہے اور وہ سوچتے ہیں کہ سیاسی مخالفت میں ہم لوگ کس قدر گر گئے تھے۔

بھٹو پر ان کے سیاسی حریف یہ بہتان بھی باندھ رہے تھے کہ انھوں نے شملہ معاہدے کے دوران اندرا گاندھی سے خفیہ میٹنگ میں ملکی مفادات کا سودا کرکے مقبوضہ کشمیر پر ہندوستان کے اقتدارِ اعلیٰ کو تسلیم کرلیا ہے.

اس بات کے ثبوت میں ہندوستانی وزیر خارجہ اٹل بہاری واجپائی کے بیانات پیش کرکے بھٹو کو غدار ٹھہرایا جارہا تھا۔ یہ سب اس سیاست دان کے بارے میں فرمایا جارہا تھا جس نے ہندوستان سے ہزار سال تک جنگ لڑنے کی بات کی۔

پنجاب میں پیپلز پارٹی کی مقبولیت کی بنیادی وجہ بھی اس کا ہندوستان مخالف بیانیہ تھا۔ معروف شاعرہ اور فکشن نگار فہمیدہ ریاض کے بقول ’بھٹو صاحب نے ایوب خان کے خلاف ساری مہم معاہدۂ تاشقند کی ’بے غیرتی‘ پر ہی چلائی تھی۔‘

معروف دانشور ڈاکٹر فیروز احمد نے کشمیر کا سودا کرنے کے الزام پر بھٹو کا دفاع کرتے ہوئے اپنے مضمون (’پاکستان فورم‘ 7 مئی 1978) میں لکھا کہ پاکستان کی رجعت پسند پارٹیاں اور ان کے اخبارات بظاہر یہ سب کچھ حب الوطنی کے جذبے کے تحت کررہے ہیں۔

’انھیں کشمیری عوام کے حقوق کے ساتھ اس قدر رغبت ہے کہ وہ ان حقوق سے ذرہ بھر انحراف بھی برداشت نہیں کرسکتے، چنانچہ وہ سابق وزیراعظم کی ’غداری‘ کو بے نقاب کرنا اپنا قومی فرض سمجھتے ہیں ….پاکستان کے اخبارات اپنی طفلانہ جبلت سے باز نہیں آسکتے۔‘

ڈاکٹر فیروز احمد نے لکھا کہ ’انھیں کسی غیرپسندیدہ شخص کے خلاف کوئی شوشہ مل جائے تو وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ اس کو اُچھالنے سے ہوسکتا ہے کہ ملک کے مفاد کو نقصان ہی پہنچے۔‘

آخر میں یہ عرض کرنا ہے کہ کسی اور کی نہ مانیں، قدرت اللہ شہاب کی بات ہی مان لیں جن کی حب الوطنی شک و شبے سے بالاتر ہے۔

بدقسمتی سے کبھی کبھی ہماری سرکاری، سیاسی، سماجی اور ذاتی قوتِ برداشت بڑی ضعیف ثابت ہوتی ہے۔ حکومتِ وقت کے ساتھ اختلاف غداری بن جاتا ہے اور سیاسی اور سماجی امور میں رائے کا تصادم وطن دشمنی قرار پاسکتا ہے۔ اس فعلِ میں حب الوطنی کی ساکھ کے علاوہ کسی کا کچھ نہیں بگڑتا۔

بشکریہ اردو نیوز

دیگر مضامین کیلئے وزٹ کریں۔

urdunews.com

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم عہدوں سے استعفے مولانا فضل الرحمن کو بھجوا دیئے

پیپلز پارٹی نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم سے علیحدگی کے فیصلے پر مرحلہ وار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے