اتوار , 20 ستمبر 2020
ensdur

دو سابق فوجی سربراہوں سمیت 5 فور سٹار جرنیلوں سے آرمی چیف کی ملاقات کا مقصد کیا تھا؟

رپورٹ : علیم عُثمان

مقتدر قوتوں نے موجودہ سویلین سیٹ اپ لانے کے حوالے سے فوج کی بدنامی کم کرنے اور عوام کی نظروں میں فوج کا امیج بحال کرنے کی غرض سے ترکی کی طرز کا صدارتی پارلیمانی نظام لانے کی کوششیں تیز کردی ہیں ، بتایا جاتا ہے کہ منگل کو اسی مقصد کے تحت لاہور میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی بعض اھم حاضر سروس اور ریٹائرڈ جرنیلوں کے ساتھ ملاقات کا خصوصی طور پر ایتمام کیا گیا تھا جس میں 2 سابق آرمی چیفس سمیت 5 ریٹائرڈ فور سٹار جنرل صاحبان موجود تھے ، ان میں سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف ، سابق آرمی چیف جنرل (ر) جہانگیر کرامت جو سبکدوشی کے فوراً بعد ایک تھنک ٹینک میں خدمات انجام دینے امریکہ شفٹ ہوگئے تھے کے علاوہ سابق چیئرمین چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل (ر) احسن سلیم حیات ، جنرل (ر) طارق مجید اور جنرل (ر) راشد محمود شامل ہیں . ذرائع کے مطابق جنرل باجوہ نے بعض ریٹائرڈ جرنیلوں کے ساتھ ون آن ون ملاقات کرکے بھی اھم مشاورت کی اور ان سے  input لی گئی ھے .

ذرائع کا کہنا ہے کہ اھم جرنیلوں کے ساتھ عسکری قیادت کے صلاح مشوروں میں ملک میں نئے سیاسی سسٹم کا تجربے اور اس بات پر سنجیدگی سے غور کیا گیا ہے کہ جس سویلین سیٹ اپ کو 2018 کے عام انتخابات کے ذریعے اقتدار میں لایا گیا ، ملکی معیشت کو اٹھانے سمیت مختلف شعبوں میں ڈلیور کرنے میں اس کی ناکامی سے ملکی اور عالمی سطح پر فوج پر نکتہ چینی بڑھتی جارہی ہے اور فوج کی بدنامی میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ سویلین یا سیاسی قیادت اتنی بڑی ٹیم رکھنے کے باوجود ڈلیور کرنے میں کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دے رہی اور الزام سارا فوج پر آرہا ھے . عسکری قیادت کی طرف سے بتایا گیا کہ موجودہ صورتحال میں  صرف وہی منصوبے مکمل ہورہے ہیں جن میں جنرل باجوہ اور ان کی ٹیم سرگرم دکھائی دیتی ہے اور جن منصوبوں کو سویلین اداروں پر چھوڑ دیا گیا وہ شروع ہی نہیں ہو پا رہے ، یہاں تک کہ کراچی کی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے مقتدر قوتوں ہی کو نالوں کی صفائی کے لئے خود سے این ڈی ایم اے کو بھیجنا پڑا ھے .

ذرائع کے مطابق مقتدر حلقوں میں یہ طے کرلیا گیا ہے کہ ملک کو چلانے کے لئے ترکی کی طرز کا صدارتی پارلیمانی سسٹم رائج کیا جائے جس میں اگرچہ پارلیمنٹ اور منتخب وزیراعظم بھی موجود ہوتے ہیں لیکن اختیارات اور طاقت کا مرکز براہ راست منتخب صدر کی ذات ہوتی ہے . ذرائع کے مطابق مجوزہ صدارتی نظام میں صدر امریکی صدر کی طرح اپنی مرضی اور پسند ناپسند سے ماہر ٹیکنو کریٹس کو اپنے مشیر رکھ سکے گا اور اس مقصد کے تحت مقامی سیاسی حالات کے پیش نظر غیر سیاسی ٹیکنو کریٹ شخصیات کو فی الحال سینیٹ میں لانے سے منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز کیا جاسکتا ہے ، جس کے لئے سینیٹ کے اگلے الیکشن میں حکمران جماعت پی ٹی آئی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ ایسے افراد کو دلانے کی کوشش کی جائے گی .

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

بلاول بھٹو زرداری کے بتائے گئے دھماکہ خیز اِنکشافات سچ ہیں یا جھوٹ؟

رپورٹ: امام بخش آپ بلاول بھٹو زرداری کو سخت ناپسند کرتے ہیں یا پھر دل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے