ہفتہ , 17 اپریل 2021
ensdur

دوسری شادی اور ماہر نفسیات | سعدیہ معظم

تحریر: سعدیہ معظم
حسب معمول رات نو بجے ٹی وی آن کیا اور خبریں دیکھنے بیٹھی ۔
“ملتان میں ایک ماہر نفسیات نے اپنی بیٹی کو گولی مار کے قتل کردیا اور خود کشی کرلی۔۔”
خبر سن کر جہاں بہت افسوس ہوا وہاں کافی حیرت سے دوچار ہوئی ۔۔کافی دیر تک ذہن یہ سوال کرتا رہا کہ “ایک ماہر نفسیات” نے ایسا عمل کیا۔۔۔!!!
اب چونکہ خبر اتنی آسانی سے فراموش کرنے والی تھی نہیں تو لہذا اس واقعہ کے پیچھے کیا محرکات تھے اس کی کھوج لگی سوشل میڈیا اور ٹی وی پہ کئی مرتبہ ڈھونڈا کہ معلوم تو کروں کہ آخر ماجرا کیا ہے۔
آج ہم سب کے ہر دلعزیز ویب سائیڈ “ہم سب “ پہ اس واقعہ کی پوری تفصیل پڑھنے کو مل گئی۔
تفصیل کچھ یوں تھی کہ ڈاکٹر صاحب دوسری شادی کو لے کر اپنی زوجہ محترمہ سے بحث کررہے تھے جو ایک شدید جھگڑے کا روپ دھار گئی اور انہوں نے غصے میں آکر اپنی بیوی پہ فائر کردیا ۔اپنی ماں کو بچانے کے لئے انکی اکلوتی بیٹی اپنی والدہ کے سامنے آگئیں اور گولی لگنے کی وجہ سے جاں بحق ہوگئیں۔بیوی کو مارنے کے لئے دوبارہ فائر کیا لیکن گولی میگزین میں پھنس گئی۔
ڈاکٹر صاحب اپنی بیٹی کی ہلاکت اپنے ہاتھوں سے ہوجانے سے اتنے دلبرداشتہ ہوئے کہ اپنی زندگی کا بھی خاتمہ کرلیا۔
واقعہ کی تفصیل جاننے کے بعد مجھے سب سے زیادہ دکھ اس بات کا تھا کہ گھریلوجھگڑے اتنے طاقت ور ہوتے ہیں کہ ایک ماہر نفسیات جو اپنے مضبوط اعصاب کے ساتھ لوگوں کی نفسیاتی مسائل کاعلاج کرتا ہے ۔اس تک کو توڑ دیتا ہے اور پھر شادی شدہ مرد کی دوسری شادی ایک ایسی بلا بن جاتی ہے کہ پہلا گھر کہا جا تی ہے ۔۔۔؟؟؟
میں کچھ اسی دکھ اور کیفیت میں دن بھر مبتلا رہی پھر ذہن کی الجھن کو سلجھانے کے لئے سوشل میڈیا پہ رائے لینے کے ارادے سے ایک پوسٹ لگائی
“دوسری شادی اور ۔۔۔۔ماہر نفسیات”
یقین جانئیے جو جوابات مجھے پڑھنے کوملے ۔انہیں پڑھ کر میں اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی ۔۔۔کسی نے بھی اس جملے میں ماہر نفسیات کے الفاظ پہ غور ہی نہیں کیا تھا اور سب کے جوابات کا زور دوسری شادی کی افادیت پہ تھا۔
نا کسی نے اس تلخ جھگڑے پہ کوئی بات کی ۔نا کسی نے اعصاب کی مضبوطی کے فوائد اور طریقے بتائے ناہی کسی کو ایک پڑھی لکھی فیملی اور اس واقعے کے ادراک پہ کوئی دکھ تھا۔
زور تھا تو دوسری شادی کے جائز ہونے کا ۔۔۔مجھے بھی دوسری شادی پہ کوئی اعتراض نہیں بشرط یہ کہ وہ نظریہ ضرورت کے تحت کی جائے۔
افسوس ہوا یہ دیکھ کر کہ ہم اب بھی ایک مخصوص ماحول کے حصار میں ہیں۔
اس معاشرے میں شعور اجاگر ہونے میں اب بھی صدیاں لگیں گی۔ہم جب تک بات میں سے اپنی مرضی و منشاء کا مفہوم نکالتے رہیں گے تب تک ہم مناظرے نہیں کرسکتے۔
کسی بھی مسلئے کے حل کےلئے رائے دینے اور مثبت تنقید کرنے سے ہم ابھی تک گریزاں ہیں۔
کاش ایسے دل گزیر واقعات کی روک تھام ہوسکے۔
ہم جس طرح جسمانی صحت کےلئے ورک شاپ کرتے ہیں بالکل اسی طرح ذہنی صحت کے لئے بھی ورک شاپ کریں ۔جہاں جذبات کے بہاؤ کا رخ موڑنا سکھایا جائے اور ایسے سنگین واقعات کو رونما ہونے روکا جائے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

محکمہ داخلہ نے کالعدم ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کا شناختی کارڈ بلاک کردیا گیا

کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی)کے سربراہ سعد رضوی کا شناختی کارڈ بلاک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے