ہفتہ , 23 جنوری 2021
ensdur

دنیا کا محفوظ ترین سفر پاکستان میں غیر محفوظ کیوں؟ | عمران دھامراہ

تحریر: عمران دھامراہ

پوری دنیا میں ہوائی جہاز اور اسکے بعد ریل کو برق رفتار اور محفوظ سفری سواری کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے, خاص کر ہوائی سفر کو سب سے زیادہ اہمیت دیجاتی ہے, ہوائی سفر کو بہتر اور محفوظ تر بنانے کیلیے انتہائی جدید سائنسی اقدامات کیے جاتے ہیں تانکہ ہزاروں فٹ کی بلندی پر اڑنے والے جہازوں کی رہنمائی اور جہاز و مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ ایئرپورٹس سے لیکر جہاز تک اور جہاز کے عملے سے لیکر ایئر ٹریفک کنٹرول تک ٹیکنیکی طریقے سے پورے نظام کو انتہائی باریک بینی کیساتھ سرانجام دیا جاتا ہے, کیونکہ ذرہ برابر سی غلطی سے جہاز سمیت تمام انسانوں کا بچنا ناممکن و محال ہوتا ہے, اس لیے ہوائی سفر میں غلطی کی گنجائش زیرو فیصد ہے۔

باقی تمام سفری سہولیات میں مسافروں کی جان کا اتنا نقصان نہیں ہوتا ہے, مگر ہوائی سفر میں انسان کا بچنا ناممکن تو ہے ہی یہاں تک کے لاش کا بھی صحیح حالت میں ملنا قریبن ناممکن ہوتا ہے, اس لیے ہوائی سفر کو محفوظ کرنے کے لیے جدید سے جدید تر جہاز, آلات اور ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے, جس کی بدولت پوری دنیا میں ہوائی حادثات کی شرح بہت کم ہے مگر بدقسمتی سے وطنِ عزیز پاکستان میں ہوائی حادثات تو جیسے معمول کا حصہ بن گئے ہیں, پاکستان کی تاریخ میں ہوائی حادثات کی ایک لمبی فہرست ہے جس میں بیشمار قیمتی جانوں کا ضیاع ہوچکا ہے اور پتا نہیں انتظامی نااہلی کی وجہ سے یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔

پاکستانی 70 سالا تاریخ میں اب تک 80 سے زائد حادثات ہوچکے ہیں جن میں 1100 سے زائد انسان اجل کا شکار بنے ہیں۔ ان حادثات میں 22 کے قریب پی آئی اے کے چھوٹے بڑے مسافر جہاز تباہ ہوچکے ہیں, نجی ایئرلائنز کے طیاروں کے حادثات انکے علاوہ ہیں, پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اور دردناک حادثہ جولاء2010 میں ایئربلیو کے جہاز سے پیش آیا جو اسلام آباد کی مرگلہ پہاڑی سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا تھا اس حادثہ میں میرے 4رشتیداروں سمیت 152 افراد جانبحق ہوگئے تھے, موسم کی خرابی اور دشوارگذار پہاڑی کی وجہ سے اس حادثے نے مزید بھیانک صورت اختیار کی تھی, اس کے علاوہ 2012 میں بھوجا ایئر کا طیارہ حادثے کا شکار ہوا جس میں عملے کے افراد سمیت 127 افراد اجل کا شکار ہوۓ, پوری دنیا میں فوکر طیارے انڈر گرائونڈ کیے گئے مگر پی آۓ اے میں فوکر طیاروں کا استعمال جاری رہا جس کی وجہ سے بھی بڑی تعداد میں حادثے ہوتے رہے, 2016 کی اخیر میں چترال سے اسلام آباد آنے والا طیارہ حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہوگیا جس میں پاکستان کی معروف شخصیت جنید جمشید سمیت 42 افراد جانبحق ہوۓ تھے, مسافر طیاروں کے ان حادثات میں ملکی و غیر ملکی معروف شخصیات فوجی و سول افسران و سیاستدانوں سمیت بڑی تعداد میں انسانی جانوں کا نقصان ہوا ہے, گذشتہ روز لاھور سے کراچی آنے والا پی آء اے کا مسافر طیارہ کراچی ایئرپورٹ کے متصل رہائشی علائقے ماڈل کالونی میں گھروں کے اوپر گرگیا جس میں 98 افراد میں سے معجزاتی طور صرف دو افراد زندہ بچ پاۓ باقی 96 افراد راہ ربانی ہوگئے, اس حادثہ کے بعد میڈیا و سوشل میڈیا پر طیارے کی پرواز سے قبل فنی خرابی کی خبریں بھی شایع ہوگئی ہیں, جہاز کے کپتان کی طرف سے فنی خرابی کی نشاندہی کے باوجود بھی طیارے کو آپریٹ کرنے کی وجہ سے جہاز بہت بڑے حادثہ کا شکار ہوگیا, جس میں جہاز کیساتھ رہائشی علائقہ پر بھی قیامتِ صغرہ برپا ہوگئی, کوئی بھی حادثہ ہو وہ 90 فیصد انسانی غفلت کی وجہ سے ہی واقع ہوتا ہے۔

پاکستان کے فضائی حادثات کی تاریخ کو دیکھا جاۓ یا ریلوے کے حادثات اس میں ادارتی غلطی نمایاں نظر آتی ہے, حادثہ ہوجانے کے بعد افسوس اور تعزیتی بیانات کے طویل سلسلے کے بعد مسافروں کی مالی مدد کے اعلانات کرنے کیساتھ واقعہ کے وجوہات معلوم کرنے کیلیے تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں, جبکہ سرد مہری سے تحقیقات ہونے کے بعد یا تو ہوائی جہاز کے کپتان اور ریل کے ڈرائیور کو واقعہ کا ذمہ وار ٹہرایا جاتا ہے یا پھر فنی سفر پر روانگی کے بعد کی فنی خرابی کی وجہ بیان کرکے تحقیقات کو بند دبہ کے حوالے کر دیا جاتا ہے, اتنی طویل فضائی حادثات ہونے کی آج تک اصل وجہ کا تعین نہیں کیا گیا ہے, بلکہ ادارتی غلطی یا نااہلی کا ادراک کرکے اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کرنے کے بجاء اس پر پردہ ڈال کر کسی نئے حادثہ کی راہ ہموار کیجاتی ہے۔

باہر کی دنیا میں بہتر انظامات کے باوجود اتفاقی حادثہ ہونے کے بعد متعلقہ وزیر یا حکومتی ذمہ وار استعفیٰ دے دیتا ہے مگر پاکستان میں انتظامی نااہلی کے باوجود حکومتی عہدیدار یا متعلقہ انتظامی سربراہ مزید ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کرنے لگتا ہے, خدارہ پاکستان کی عوام پر رحم کھاکر پاکستان کے فضائی نظام اور خاص کر پی آء اے کے انتظام کی اصلاح پر توجہ دی جاۓ اور اس کو بہتر سے بہتر اور محفوظ تر بنا کر قیمتی انسانی جانوں کو ضایع ہونے سے بچایا جاۓ جبکہ حادثات کے اصل ذمہ واروں کو بھی قوم کے سامنے بے نقاب کرکے کڑی سزا دیجاۓ تانکہ آئندہ چند لوگوں کی غفلت و نالائقی کی وجہ درجنوں انسانی جانیں محفوظ رہ سکیں اور قومی املاک کا نقصان بھی ہونے سے بچ سکے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

دن نثار کیے جا ، سب پے وار کیے جا | وسعت اللہ خان

تحریر: وسعت اللہ خان جھے واقعی سمجھ میں نہیں آتا کہ حکومتوں کو گڈگورننس کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے