جمعرات , 28 جنوری 2021
ensdur

دلوں کر آتش عشق رسول کی گرمی سے زندہ کرنے والا خادم چلا گیا | جاوید علی

تحریر: جاوید علی

موت ایک ایسی چیز ہے جس کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس کا ہر ذی روح نے مزہ چکھنا ضرور ہے۔ یہ دنیا ایک سٹیج کی طرح ہے جس پر ہر ایکٹر نے آ کر اپنا کردار پرفارم کرنا ہے اور چلے جانا ہے۔ اس دوران وہ دیئے گئے سکرپٹ کے مطابق پرفارم کر کے سٹیج سے اتر جاتا ہے۔ اس نے جو کردار ادا کیا ہے اس کے بعد اس کا فیڈ بیک آنا ہے کہ اس نے اپنے کردار کے ساتھ انصاف کیا ہے یا نہیں۔ اگر اس نے اچھا رول ادا کیا ہے تو ہیرو ورنہ زیرو۔ اسی طرح ہر آدمی جب ہوش سنبھالتا ہے تو اس کا سکرپٹ کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ اس کی مرضی ہے کہ وہ سکرپٹ کو کیسے ادا کرتا ہے اچھا یا برا لیکن اسے یہ پرفارم کرنا ہے اور بعد میں اسے اس کی پرفارمینس کے مطابق انعام یا سزا دی جائے گی۔ جن کی پرفارمینس اچھی ہوتی ہے انہیں اس سٹیج پر بھی عزت اور سٹیج سے اتر جانے کے بعد بھی۔ لوگ مہمان اور مسافر کی طرح دنیا میں آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں کچھ کا نام مٹ جاتا ہے اور کچھ کا نام اچھے لفظوں میں یاد رکھا جاتا ہے۔

جب مولانا خادم حسین رضوی صاحب کے وصال کی خبر سنی تو بے اختیار ہی آنکھوں سے آنسو بہے اور رخساروں پر آ کر خشک ہو گئے۔ جب میں نے کچھ کھوج لگایا تو معلوم ہوا اتنے بڑے آدمی کے پاس اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے سوا کچھ نہیں تھا۔ مکان بھی کروائے کا تھا وہ بھی مکمل نہیں بلکہ اوپر والا پورشن تھا۔ کروڑوں کی تعداد میں فارلورز ہونے کے باوجود انتہائی سادگی کے ساتھ رہ رہے تھے۔ حافظ کلام پاک قرآن، شیخ الحدیث اور حافظ کلام اقبال، چوون سالہ بوڑھا نوجوان، انتہائی پرکشش چہرہ، بال سفید، چہرہ پر سنت رسول اور سر پر امامہ سجا ہوا اور سفید لباس زیب تن، آواز ایسی کہ بندہ موسیقی بھول جائے، نڈر کہ نہیں پرواہ اپنی جان کی۔ جذبہ و جوش و ولولہ وہیل چیئر پر بیٹھے بھی ایسا بیان کہ دشمن بھی لرز جائے۔

علامہ صاحب اپنی مثل آپ ہی تھے ان کا دبنگ لہجہ، بات کرنے کا انداز۔ گلی گلی، گاؤں گاؤں، شہر شہر سے لوگوں کو اکٹھا کرنا اور لوگوں کا ان کی آواز پر لبیک کہنا،کسی کی ذات پر کیچڑ نہ اچھالنا۔ علامہ صاحب ایک مشل کی مانند تھے جس کی نور پھیلتا گیا، لوگ اکٹھے ہوتے گئے اور ایک بہت بڑا کارواں بن گیا۔ اس کارواں کا مقصد صرف اور صرف تحفظ ختم نبوت اور ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم تھا۔ ان کا ہم میں سے ان حالات میں چلے یقیناً بہت بڑا نقصان ہے جسے پورا کرنا بہت مشکل ہے۔ سید نصیر الدین نصیر گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ

ہم مہمان نہیں رونق محفل تھے

مدتوں یاد رکھو گے کہ یہاں کوئی آیا تھا

اے آنکھو رو لو اب جی بھر کر رو لو

کہ اب زمانے میں شاید ہی کوئی نصیر آئے

علامہ صاحب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا ایک حوالہ تھے ان کے جانے کے بعد یہ راز کھل ہی گیا کہ ان کے چاہنے والے ہزاروں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں تھے۔ پاکستان کی تاریخ میں اتنا بڑا جنازہ نہیں گیا۔ اس سے ڈاکٹر اصرار احمد اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے جنازے بھی اپنے دور کے بہت بڑے تھے لیکن یہاں کچھ اور ہی حالات تھے۔ سیاسی لوگوں کے جنازے میں جنرل ضیاء الحق کے جنازے میں بہت سے لوگوں نے شرکت کی۔ سینیئر تجزیہ کار اور کالم نگار حسن نثار جیسا شخص بھی یہ کہے کہ افسوس میں ان سے مل نہ سکا لوگ ان سے اس قدر محبت کرتے تھے۔ ان کی وصال پر یقیناً ہر پاکستانی دکھی ہوا۔

وہی بزم ہے وہی دھوم ہے وہی عاشقوں کا ہجوم ہے

ہے کمی تو بس میرے شیخ کی جو تہہ مزار چلا گیا.

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

جنسی ہراسگی۔۔۔! | سعدیہ معظم

تحریر: سعدیہ معظم میں کوئٹہ شہر کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئی ۔ابو بینک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے