ہفتہ , 31 اکتوبر 2020
ensdur

درندوں کی طویل قطار سزا کی منتظر | افضال چوہدری ملیرا

تحریر: افضال چوہدری ملیرا
ماضی کے تلخ حقائق سے نظریں چُرا لینا اور اسے بھول جانا ہماری قوم کے عام شہریوں اور صاحبِ اقتدار لوگوں کا وطیرہ رہا ہے جب بھی ہمارے معاشرے میں کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی ہوئی ہم نے ایک محدود مدت کے لیے اس مظلوم کے لئے آواز اٹھائی جس کے بعد ہمیں ریاستی اداروں نے من گھڑت کہانیوں میں الجھا دیا اور یوں مظلوم کے حق میں اٹھنے والی آواز مبہم ہوتی چلی گئی اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ مظلوم کے لیے آواز اٹھانے والا اس کی ذات کے سوا  کوئی نہ تھا۔
ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں ایک لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ کسی نامعلوم فرد نے زیادتی کی اور مزاحمت کے دوران وہ خاتون شدید زخمی ہوئیں لیکن صد افسوس کہ اسے طبی امداد دینے اور واقعہ کی ایف آئی آر درج کرنے کی بجائے اسے نشہ آور ادویات دے کر خاموش کرنے کی کوشش کی گئی اور جب ان کے شوہر نے بیرون ملک سے واپس آ کر ایف آئی آر کے لیے تگ و دو کی تو مضروب خاتون کو نظر بندی میں ڈال دیا گیا جس کی وجہ یہ تھی کہ اس میں ایک طاقتور ادارے کے فرد کیپٹن حماد کا نام آ رہا تھا۔
پولیس حکام کے مطابق ڈی این اے ٹیسٹ اور شناخت پریڈ میں کیپٹن حماد کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے اور جہاں تک بات ہماری بے اختیار عدلیہ کی ہے تو جوڈیشل کمیشن بننے سے پہلے ہی پرویز مشرف نے یہ دعویٰ کیا کہ کیپٹن حماد بے قصور ہے چونکہ یہ بیان جنرل پرویز مشرف نے دیا تھا تو پھر عدلیہ نے بھی اسی بیان پر عمل پیرا ہو کر کیپٹن صاحب کو بے قصور ہی ٹھہرا نہ تھا اکبر بگٹی کو جب اس واقعے کی خبر ہوئی تو اکبر بگٹی نے اس ریپ کو بلوچ قومی روایات اور بلوچستان کی ننگ و ناموس کے خلاف بہت بڑا حملہ قرار دیا جسکی وجہ سے بگٹی نے مشرف سے کیپٹن حماد کو ان کےحوالے کرنا کا کہا تا کہ بلوچ جرگہ بلا کر اس میں بلوچ روایات کے مطابق کیپٹن حماد کو سزا دیں لیکن پرویز مشرف کے انکار پر حالات اور کشیدہ ہو گئے جس کے بعد اکبر بگٹی جو کہ گورنر و وزیراعلیٰ جیسے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے کو غدار ثابت کرنے کا عمل شروع ہوا لیکن یاد رہے کہ نواب اکبربگٹی فردِ واحد پرویز مشرف کے مطابق غدار تھے جبکہ مشرف کو تو عدالت عظمٰی نے غدار قرار دیا۔
مختاراں مائی کیس بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں لیکن اس کا فیصلہ بھی مایوس کُن رہا کیونکہ اس میں ملوث تمام افراد میں سے ایک شخص کے علاوہ سب کو باعزت بری کر دیا گیا مطلب یہ کہ ریپ کرنے والے بیشتر درندوں کو با عزت شہری ٹھہرایا گیا مختاراں مائی نے ملزمان کی بریت کیخلاف اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی درخواست کی جو کہ مسترد کر دی گئی جب ڈکٹیٹر مشرف سے واشنگٹن پوسٹ نے پوچھا کہ آپ کی حکومت گینگ ریپ کی شکار ایک مظلوم عورت کی نقل و حرکت پر پابندیاں کیوں لگا رہی ہے تو موصوف نے جواب دیا کہ یہ تو بزنس بن چکا ہے جس کسی نے بھی کینیڈا کا ویزا لگوانا ہو یا ڈالر کمانے ہوں وہ گینگ ریپ کا الزام لگا کر سب کچھ پا لیتا ہے۔
اگر ماضی میں ان ریپ کیسز کی شفاف تحقیقات کی جاتیں،  اس میں ملوث درندہ صفت انسانوں کو نشان عبرت بنایا جاتا اور صاحبِ اقتدار لوگ ان درندوں کی طرف داری نہیں کرتے تو روبی اور زینب جیسی پھول سی کلیاں آج محفوظ ہوتیں۔
ابھی حال ہی میں موٹروے پر ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس میں معصوم بچوں کے سامنے ان کی ماں کو درندگی کا نشانہ بنایا گیا لیکن حیران کُن طور پر سی سی پی او لاہور نے اپنے ابتدائی بیان میں مضروب کو ہی قصور وار ٹھہرایا۔ خبر ہونے کے باوجود لوکل پولیس کا ایک گھنٹہ اور چالیس منٹ کی تاخیر کے ساتھ پہنچنا قوم کے محافظوں کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے جس سے یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ مرکزی مظلم بھاگ گیا ہے یا اسے بھگایا گیا ہے؟ کیا علاقہ غیر میں پولیس چوکی کے قریب اتنی بڑی واردات لوکل پولیس کی معاونت کے بغیر ہو سکتی ہے؟ کیا مرکزی ملزم کے انکشافات کے ڈر سے اسے پولیس مقابلے میں مار دیا جائے گا؟
اس واقعہ کے بعد اس طرح کے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات اور قانون سازی کے حوالے سے بحث عروج پر ہے کچھ لوگ سرِ عام پھانسی کے حق میں ہیں اور کچھ لوگ جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کے حق میں لیکن میری صرف اتنی التجا ہے کہ خدارا… آپ  جس سزا کا چناؤ بھی کریں اس میں اتنی تقویت ہونی چاہیے کہ اس کے ڈر سے کوئی درندہ دوبارہ ایسی گھناؤنی حرکت کا سوچے بھی تو اس سزا کے خیال سے ہی اس درندہ کی روح کانپ اٹھے اور اس قانون پر عمل درآمد بھی بالکل اسی طرح ہو جس طرح ملکِ خداداد میں آرٹیکل چھ پر ہو رہا ہے وہ بات الگ ہے کہ غدار کا چناؤ منصفانہ ہوتا ہے یا نہیں۔
 اللہ کی رحیم و کریم ذات سب کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی ان درندہ صفت انسانوں سے حفاظت فرمائے اور اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

گلگت بلتستان، نوید انقلاب | آفتاب احمد گورائیہ

تحریر: آفتاب احمد گورائیہ گلگت بلتستان اپنے دیو مالائی حُسن، برف پوش چوٹیوں، خوبصورت وادیوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے