اتوار , 20 ستمبر 2020
ensdur

خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیم ‘عورت مارچ’ کا علی ظفر کو ایوارڈ نہ دینے کیلئے صدر پاکستان کو خط

عورت مارچ تنظیم کے عہدیداروں کی جانب سے علی ظفر کو پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ کے لیے نامزد کیے جانے کے خلاف صدر پاکستان کو خط لکھا گیا جس میں صدر مملکت کو میشا شفیع کے کیس کی وجہ سے ایوارڈ دینے سے روکنے کی اپیل کی گئی ہے۔

دوسری جانب علی ظفر کی قانونی ٹیم کے وکلا کا کہنا ہے کہ اس وقت علی ظفر پر کوئی کسی نہیں عورت مارچ کا خط علی ظفر کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ گلوکار و اداکار علی ظفر کے وکلا نے کہا ہے کہ علی ظفر پر کسی طرح کا کوئی کیس زیر التو نہیں بلکہ علی ظفر کا میشا شفیع پر کیس زیر التو ہے۔

گلوکار علی ظفر کی قانونی ٹیم نے کہا ہے کہ عورت مارچ تنظیم نے صدر پاکستان کو لکھے خط میں غلط بیانی کی اور بدقسمتی کی بات ہے کہ عورت کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم علی ظفر کو بدنام کرنے کی مہم کا حصہ بن رہی ہے۔

بیرسٹر عنبرین قریشی نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے انہیں ہراساں کیے جانے کی شکایات کو صوبائی محتسب، گورنر پنجاب اور لاہور ہائی کورٹ خارج کرچکے ہیں، میشا شفیع کے ہتک عزت کا کیس بھی عدالت نے علی ظفر کے کیس کے نتیجے تک روک رکھا ہے جب کہ علی ظفر نے میشا شفیع پر ایک ارب روپے ہتک عزت کا کیس دائر کررکھا ہے۔

گلوکار کی قانونی ٹیم نے مزید کہا ہے کہ علی ظفر پر کسی طرح کا کوئی کیس زیر التو نہیں اس وقت صرف علی ظفر کا میشا شفیع پر کیس زیر التو ہے، ایسے وقت میں جب علی ظفر کو سرکاری اعزاز سے نوازا جارہا ہے تو عورت مارچ کا صدر پاکستان کو خط دراصل علی ظفر کو بدنام کرنے کی مہم اور صریحاً سازش کا حصہ ہے۔

واضح رہے کہ کچھ روز قبل اداکارہ عفت عمر نے علی ظفر کا نام لئے بغیر ایک ٹویٹ کیا تھا کہ 21ویں صدی میں صرف پاکستان میں یہ ممکن ہے کہ حکومت کی طرف سے مبینہ طور پر ہراسانی میں ملوث شخص کو ایوارڈ دیاجائے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

عاصم باجوہ نے بلوچستان میں سازش کی، نواز شریف

پیپلز پارٹی کی میزبانی میں منعقد آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے