جمعرات , 28 جنوری 2021
ensdur

خس و خاشاک سے کم تر راستے کا پتھر، مگر کون؟ | احسان ابڑو

تحریر: احسان ابڑو
پشاور میں پی ڈی ایم کے ایک اور عظیم الشان جلسے نے حکومتی ایوانوں میں بوکھلاہٹ اور کپکپاہٹ نمایاں کر دی ہے۔ گلگت بلتستان میں وفاقی وزرا، الیکشن کمیشن گلگت اور گلگت بلتستان انتظامیہ کی مشترکہ انتخابی لوٹ مار کے بعد وزیراعظم کیمپ میں گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے حوالے سے اطمنان تو ضرور ہوگا مگر یہ انتخابات خان صاحب کی سوچ سے بھی زیادہ ان کی جماعت اور حکومت کے لیئے وبال جان ٹابت ہوئے، بدترین دھاندلی، اختیارات کے اندھے استعمال انتخابی جلسوں میں مخالفین کے خلاف ہواس باختہ و اخلاق سے گری ہوئی زبان کے استعمال نے عمران خان اور ان کی جماعت کے فاشسٹ چہرے سے نقاب نوچ کر اتاردیا، جبکہ گلگت بلتستان کے مستقبل اور انتخابات کے آزادانہ منصفانہ انعقاد کی یقین دہانیاں کروانے والوں کی ہزیمت و رسوائی کا سبب بھی بن گئے۔
پشاور کے کا جلسہ جہاں شرکاء کی تعداد کے لحاظ سے تاریخی ثابت ہوا وہیں میاں نواز شریف کی والدہ محترمہ کے انتقال کی وجہ سے ماحول سوگوار بھی ہوگیا، محترمہ مریم نواز جلسے سے بنا خطاب کیئے لاہور روانہ ہو گئیں۔ پشاور کا جلسہ پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم رہنماؤں کی جارحانہ تقاریر کی وجہ سے بھی اہمیت اختیار کر گیا، حکومتی ایوانوں سمیت مقتدر حلقوں اور ملک میں اختیارات و طاقت کے منبع میں ارتعاش بلکہ بھونچال برپا ہوگیا۔
پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اداروں کو سیاست سے دور رہنے کا انتباہ کیا تو چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ
” وقت آنے والا ہے احتساب ہم لیں گے، جبکہ حساب ہم لیں گے تو جواب دینے تم مگر کہاں ہوگے، خس و خاشاک سے کمتر ہو تم، راستے کا کنکر ہو تم، جس نے راہ روکی ہے وہ تمہارا آقا ہے، ہم نے دل میں ٹھانی ہے، راہ صاف کردیں گے، تم تو صرف نوکر ہو، تم کو معاف کردیں گے”
بلاول نے اداروں کو کھلا پیغام دیا اور کہا کہ اب نہ پنڈی نہ ہی آبپارہ کی رائے چلے گی، نہ اب گڈ کرپٹ اور بیڈ کرپٹ کا کھیل کھیلنے دیں گے اور نہ ہی گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کا راگ الاپنے دیں گے۔ اس کھیل نے کرپشن کو مزید بڑھا دیا ہے اور دہشتگردی کے خطرات کو ایک بار پھر پنپنے کا موقع فراہم کیا ہے کیونکہ آپ نے ہمارے بچو، بزرگوں، ماوں اور بہنوں بیٹیوں کے وحشی قاتل احسان اللہ احسان کو این آر او دیکر بھگا دیا ہے۔ بلاول نے نیب کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کے یک طرفہ متنازعہ اور امتیازی احتساب کو مسترد کرتے ہوئے اقتدار میں آکر نیب چیئرمین اور ادارے کا کڑا احتساب کرنے کا اعلان کیا۔ پی ڈی ایم کی دیگر قیادت کا لب و لہجہ بھی بہت ہی سخت اور واشگاف تھا، ملک میں اداروں کی تباہی، خطرناک حد تک روزانہ کی بنیاد پہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، معاشی، سیاسی بحران کا ذمیدار عمران خان حکومت سمیت ملک کی اسٹیبلشمنٹ کو قرار دیا۔
پشاور کے جلسے عام سے ایک روز پہلے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری گلگت بلتستان میں اپنی ایک ماہ طویل اور انتہائی بھرپور انتخابی مہم کے اختتام اور نتائج کے اعلان کے بعد اسلام آباد پہنچے تھے، گلگت بلتستان کے انتخابات اور پھر نتائج کے ساتھ عمران خان اور ان کے وزراء نے کیا سلوک کیا یہ پوری دنیا نے دیکھا، چیئرمین بلاول نے گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے دوران وہاں طول و عرض میں پہنچ کر گلگت بلتستان کے انتخابات کو قومی حیثیت دلانے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی توجہ کا مرکز بھی بنا دیا، وہ جانتے تھے کہ قومی انتخابات کی طرح گلگت میں بھی وہی دھاندلی کی جائے گی اور اختیارات کا وحشیانہ استعمال ہو گا، مگر اس کے باوجود گلگت بلتستان میں ایک ماہ قیام کرکے انہوں نے نہ صرف وہاں کی عوام کو یہ احساس دلایا کہ آپ کے حقوق کیا اہمیت رکھتے بلکہ انہیں اس بات کا بھی احساس دلایا کہ آپ کے حق حاکمیت کا فیصلہ کرنے کا حق صرف آپ کو ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بڑی کامیابی سے گلگت کے انتخابات میں عمران خان حکومت کی بدترین دھاندلی، ریاستی مداخلت، وزراء کی بدزبانی و بداخلاقی اور وزیراعظم کیمپ کی بوکھلاہٹ و پریشانی سمیت طاقتور اداروں کی جھوٹی یقین دہانیوں کو بےنقاب کیا۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پشاور کے جلسہ عام میں اقتدار میں آکر ججوں جرنیلوں کا احتساب کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا اور یہی بات ان کی شہید والدہ محترمہ بینظیر بھٹو بھی کیا کرتی تھیں، کہ جب ایک منتخب عوامی وزیراعظم اور ارکان اسمبلی کا احتساب ہو سکتا ہے، عام سرکاری ملازمین کا احتساب ہو سکتا ہے تو ان طاقتور سرکاری ملازمین کا کیوں نہیں ہو سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو نے پاپا جونز پیدا کے مالک کی کرپشن اور بی آر تی، مسلم جبہ سمیت حکومتی کرپشن پہ خاموشی پر نیب سخت آڑے ہاتھوں لیا، مولانا فضل الرحمن نے نام لیئے بغیر مقتدر حلقوں کو واضح لفظوں میں پیغام دیا کہ اگر آپ ملک کے سیاسی معاملات میں مداخلت کریں گے تو پھر ہم بھی کسی کا نام لینے سے احتراز نہیں کریں گے ۔ اس وقت ملک کی سیاست ایسے دوراہے پہ آ کھڑی ہوئی ہے جہاں اگر اپوزیشن کے لیئے چیلنجز ہیں تو حکومت کے لیئے اس بھی زیادہ بڑے اور سنگین خطرات ہیں۔ اپوزیشن کے پاس کھونے کے لیئے کچھ نہیں جبکہ حکومت کے پاس سب کچھ کھونے کو بچانے کے لیئے کچھ نہیں۔ وزیراعظم صاحب نے اپنے ڈھائی سالہ اقتدار میں ملک کی معیشت، سیاست اور معاشرہ کمزور بلکہ تباہی کے دہانے پہ لا کھڑا کردیا، انہوں نے عوام کو معاشی، اخلاقی اور سیاسی لحاظ سے مضبوط و مستحکم کرنے کے بجائے ان میں انتشار و افراتفری اور تقسیم پیدا کردی ہے۔ ان سمیت ان کے وزراء جھوٹ سے دن کا آغاز کرتے ہیں اسی پہ اختتام، اور پھر آخر میں، صیاد خود اپنے ہی دام میں پھنس جاتا ہے۔
وزیراعظم کیمپ میں اپوزیشن کی تحریک کو لیکر جو اضطراب پھیلا ہوا ہے اب اس میں شدت نمایاں نظر آتی ہے، خان صاحب ایک طرف اپوزیشن کو کورونا کے پھیلاؤ اور اس کی تباہ کاریوں سے خوفزدہ کرکے اپنے خلاف زور پکڑتی تحریک کو روکنا چاہتے ہیں تو دوسرطرف ان کے ناعاقبت اندیش وزراء اکابرین خود ریلیاں جلسے کرکے ان کے اپنے بیانیئے کی دھجیاں اڑانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اپوزیشن بھی یہ جانتی ہے کہ اگر تحریک کو دھیما کیا تو نیازی حکومت کو واک اوور مل سکتا ہے، اور ملک کے بدحال معاشی حالات، سیاسی بےیقینی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے لہٰذا تحریک کو کسی صورت سست نہیں ہونے دینا۔ وزیراعظم عمران خان کورونا کے پہلے فیز میں لاک ڈاؤن کے سخت مخالف تھے وہ پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت پہ انتہائی جارحانہ حملوں کے ذریعے لوگوں میں کورونا کا خوف پھیلانے اور غلط اعداد و شمار پھیلانے کا الزام لگایا کرتے تھے، مگر آج وہی عمران خان کورونا کو انتہائی مہلک کہہ کر اپوزیشن کو اس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں جو دراصل خان صاحب کی بوکھلاہٹ اور سراسیمگی کا واضح ثبوت ہے۔ وزیراعظم اب کورونا کو جواز بنا کر پی ڈی ایم کی تحریک کو دبانا چاہتے ہیں جس کا فی الوقت کوئی امکان نظر نہیں آ رہا ہے کیونکہ پشاور کے جلسے میں جو لب و لہجہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان اور پی ڈی ایم کی دیگر قیادت نے اختیار کیا وہ اپوزیشن کے حکومت مخالف مصمم ارادوں کو ظاہر کرتا ہے۔ پی ڈی ایم کی قیادت وزیراعظم عمران خان کو خس و خاشاک اور راستے میں پڑے کنکروں کی حیثیت بھی دینے کے لیئے تیار نہیں کیونکہ وہ جانتی ہے کہ ان کا مقابلہ راہوں میں روڑے اٹکانے اور کوڑا کرکٹ پھینکنے والوں سے ہے، کچرے اور راہ کے پتھروں سے نہیں ہے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

جنسی ہراسگی۔۔۔! | سعدیہ معظم

تحریر: سعدیہ معظم میں کوئٹہ شہر کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئی ۔ابو بینک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے