اتوار , 20 ستمبر 2020
ensdur

خاتون صحافی شاہینہ شاہین کا قتل، شوہر پر الزام

بلوچستان کے ضلع تربت میں گزشتہ روز قتل ہونے والی مقامی صحافی اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن شاہینہ شاہین کو ان کے آبائی قبرستان میں آج سپرد خاک کردیا گیا۔ اہل خانہ کو شاہین کے قتل کا شبہ مبینہ طور پر ان کے شوہر پر ہے۔

اس قتل کا مقدمہ پولیس تھانہ سٹی تربت میں ان کے شوہر نوابزادہ محراب گچکی کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ مقتولہ کی نماز جنازہ میں سیاسی اور سماجی کارکنوں سمیت زندگی کے مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

مقتولہ شاہینہ، بلوچی رسالہ دجگہار کی ایڈیٹر اور کوئٹہ میں سرکاری ٹیلی وژن پر بلوچی زبان کے ایک پروگرام کی میزبانی بھی کرتی تھی۔  شاہینہ شاہین نے پانچ ماہ قبل کراچی کی مقامی عدالت میں پسند کی شادی کی تھی۔

پاکستان میں صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پی ایف یوجے کے صدر شہزادہ ذوالفقار کہتے ہیں کہ شاہینہ بلوچ اینکرپرسن ہونے کے ساتھ ساتھ خواتین کے حقوق کے لیے بھی بہت فعال کردار ادا کر رہی تھی۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، اس انتہائی افسوسناک واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف جلد از جلد کارروائی ہونی چاہیے۔

شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ بلوچستان میں صحافیوں کو اپنا پیشہ ورانہ کام کرنے کے دوران درپیش خطرات پر پی ایف یو جے کو بہت تشویش ہے۔ ان کے بقول، آزادی اظہار رائے کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کو دوراندیشی پر مبنی اقدامات کرنے ہونگے تاکہ صحافی خود کو اپنے فرائض سرانجام دیتے ہوئے محفوظ تصور کرسکیں ۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

عاصم باجوہ نے بلوچستان میں سازش کی، نواز شریف

پیپلز پارٹی کی میزبانی میں منعقد آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے