اتوار , 1 نومبر 2020
ensdur

حقوق نسواں کے علمبردار غائب | غلام العارفین راجہ

تحریر: غلام العارفین راجہ

ان دنوں ریاست میں سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے. سیاستدانوں کی سیاسی چپقلش عروج پر ہے. ایک دوسرے کو گرانے کے لئے عوامی رابطہ بھی جاری ہے. پھر چاہے حکومت ہو یا اپوزیشن دونوں اپنے اپنے انداز میں محترک ہیں. مہنگائی, بیروزگاری, غربت اور افلاس میں بے تحاشا اضافہ ہوتا جا رہا ہے. عوام میں بے چینی اور اضطراب لے ساتھ شدید غم و غصہ بھی پایا جا رہا ہے. سرکاری ملازمین ہوں یا کاروباری حضرات سب مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہیں. چند روز قبل سرکاری ملازمین نے اسلام آباد میں ڈی چوک سے قومی اسمبلی کی طرف مارچ کیا. پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی مگر مظاہرین کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ناکام رہی. پورا دن ڈی چوک سے قومی اسمبلی تک احتجاجی مظاہرین کا راج رہا. خیر کچھ روز قبل لیڈی ہیلتھ ورکرز پنے بھی اپنے مطالبات کے لئے 14 اکتوبر کو احتجاج کا اعلان کیا تھا. 14 اکتوبر کا سروج طلوع ہوا تو ملک بھر کی لیڈی ہیلتھ ورکرز نے اسلام آباد کے ڈی چوک پر لیڈی ہیلتھ ورکرز کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جو مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں دھرنے کی شکل اختیار کر گیا ہے ان کے مطالبات میں تنخواہوں میں اضافہ، سروس سٹرکچر میں بہتری، ریگولرئیزیشن، پنشن نہ ملنے کی شکایت اور برطرفیوں کے خاتمے اور برطرف کیے گئے ملازمین کی بحالی جیسے اقدامات سرفہرست ہیں. لیڈی ہیلتھ ورکرز کا کہنا ہے کہ پولیو مہم ہو یا سیلاب, ڈینگی مہم ہو یا کوئی اور آفت ہم ہر جگہ فرائض کی ادائیگی کے لئے کوشاں رہتی ہیں.
2 روز سے اسلام آباد کے ڈی چوک میں لیڈی ہیلتھ ورکرز نے یارو مددگار بیٹھی ہیں. نہ کھانا نہ ہی پانی موجود ہے. رات بھی سڑک پر گزاری. وفاقی وزیر علی محمد خان مذاکرات کے گئے مگر کوئی پیشن رفت نہیں ہو سکی. مگر ان کے علاوہ اب تک حکومت کی طرف سے کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی. عورتوں کے حقوق کی علمبردار وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری صاحبہ اب تک غائب ہیں. انسانی حقوق کے نام شہرت حاصل کرنے والی این جی اوز سمیت تمام نامنہاد سماجی کارکن منظر سے غائب ہیں. کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ چند منٹ جا کر اظہار یکجہتی ہی کر لیں. کئی گھنٹے حقوق نسواں کے نام پر ڈرامہ کرنے والوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہے. آج قوم کی مائیں بہنیں تنے تنہا ڈی چوک پر بیٹھی ہیں. جہاں بولنے کی جگہ ہوتی ہے وہاں ان لبرل اور سیکولر لوگوں کو سانپ سونگھ جاتا ہے مگر ویسے اس طرح بھاشن دیتے ہیں جیسے ان سے بڑا کوئی انسانی حقوق کا علمبردار تو ہے ہی نہیں ہے. صرف لفظی جنگ کے علاوہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے. ان کے ایسے اقدام سے یہ بات بلکل واضح ہے کہ یہ لوگ انسانی حقوق کے نام پر عوام کو بیوقوف بناتے ہیں
اس سے ان کا یہ تو پتہ چل گیا کہ یہ کتنے بڑے انسانی حقوق کے علمبردار ہیں. مگر سوال یہ ہے کہ یہ پھر انسانی حقوق کے نعرے کیسے؟ تو یہ نعرے اور مظاہرے یہ لوگ صرف اپنی سوسائٹی کے لوگوں کے لئے کرتے ہیں. نہ تو ان کو کسی غریب انسان کا احساس ہے نہ ہی حقوق کی فکر ہے. ان کا مقصد حقوق نسواں کا تحفظ نہیں بلکہ ریاست کو سیکولر بنانا ہے اور یہاں پر بے حیائی اور فحاشی پھیلانے کے لئے اقدامات کرنے ہیں. عوام کو دین اسلام کی تعلیمات کی بجائے ملحدین کے نظریات کو دینا ہے.
اس کے لئے ان لوگوں کو بھاری فنڈز ملتے ہیں. ان کا مرکزی نشانہ طلبہ اور نوجوان ہیں. یہ لوگ ہمارے معاشرے کو جو کہ پہلے سے ہی بے راہ روی اور انحطاط کا شکار ہے اس کو مزید تباہی کی طرف لے جانا ہے اور ریاست کو ملحد نظریات کے زیر انتظام کرنا ہے. اس کے لئے یہ لوگ دن رات محترک ہیں. ان لوگوں نے ہر شعبہ میں تنظیموں کا جال بچھا دیا ہے. کہی طلبہ حقوق پر طلبہ کو ملحد نظریات پڑھا رہے ہیں تو کہی غرور حقوق کے نام پر بے حیائی و عریانی پھیلانے کے لئے سرگرم ہیں. مگر جب طلبہ یا نسواں حقوق کی بات آتی ہے تو یہ لوگ غائب ہو جاتے ہیں.

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

Slip of Toungue or Slip of mind | لاریب مشتاق

تحریر: لاریب مشتاق ہٹلر کا قول ہے کہ کسی بھی ملک کو شکست دینے کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے