ہفتہ , 31 اکتوبر 2020
ensdur

حسینؑ سب کے | خرم اعوان

تحریر: خرم اعوان

حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیلؑ اللہ کے حکم سے جب کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے تو تعمیر کے دوران دونوں نے اللہ کے حضور دعا کی جو کہ سورةبقرہ کی آیت نمبر127  ,128اور129 میں بیان کی گئی ہے۔ دونوں ہستیوں نے پہلے اپنی ادا کی گئی اب تک کی ذمہ داریوں کوشرفِ قبولیت بخشنے کی دعاکی اور پھر دعا کی کہ ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت کو فرمانبردار ر کھ، ایسی جماعت جو کہ اللہ کے سوا کسی کی نہ عبادت کرتے ہوں اور نہ کسی کو معبود مانتے ہوں اور پھر اس فرمانبردار جماعت سے رسول بھیج۔توجب حضرت آدم ؑ سے حضرت ابراہیم ؑ اورحضرت ابراہیم ؑ سے حضرت عبداللہ ؑ(والد گرامی حضرت محمدﷺ) تک اس جماعت کو اللہ تعالیٰ نے اپنا فرمانبردار رکھا ، جو کبھی شرک کے پاس تک نہیں گئے تھے تو پھر اس نبیﷺ کے ماں ،باپ، دادا اور خاندان کے ایمان پر ہونے یا نہ ہونے کا تو سوال ہی نہیں اٹھتا۔

حضرت ابو طالبؑ جب بچپن کے محمدﷺکو اپنے ساتھ تجارت پر لے کر جا رہے تھاے تو راستے میں بحیرہ راہب ملا اس نے کہا کہ آپ کا بھتیجا نبی ہے اس کو ساتھ لے کر نہ جائیں کہیں یہودی اسے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچا دیں۔ اب میں اپنی امت کی بے عقلی کا ماتم کروں یا ان کی سمجھ کے لئے دعا کروں کہ حضرت ابو طالب نے راہب کی بات مان لی کہ محمدﷺ ؑ نبی ہیں اور واپس مکہ آگئے مگر جب آپ ﷺنے خود یہ کہا تو انہوں نے انکار کر دیا۔

اسی طرح حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہ کے حوالےسے بیان کیا جاتا ہے کہ وہ ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں اور آپﷺ پر وحی آنے کے حالات بتائے ،تو اس نے کہا کہ یہ وہی ہے جو حضرت موسیٰ  ؑکے پاس بھی پیغام لے کر آتا تھا۔آخر یہ واقعات سے مقصود کیاتھا ؟پہلا یہ کہ آپ ﷺ کے خاندان کے لوگ مومن نہیں تھے دینِ مجوس پر تھے یا نصرانی تھے ،اللہ کو نہیں مانتے تھے تاکہ ان کی قدر و منزلت کم کی جا سکے، دوسرا ایسے واقعات صرف اس لئے بنائے گئے کہ عرب کے بدو  اور کفار یہ ثابت  کر سکیں کہ آپﷺ ان کاخاندان اس وقت عام عرب کے خاندانوں جیسے ہیں ۔ تیسرا سب کو پتا تھا آپﷺ  نبی ہیں  اگر نہیں پتہ تھا تو امام الاانبیا کو نہیں پتا تھا، عرب کے کفار کو آپﷺ ا کا  صادق اور امین ہونا ہضم نہ ہو رہا تھا تو نبوت کا اعلان کیسے ہوتا۔ اسلام کی محمدﷺ  کے خاندان کی تاریخ پڑھ لیں کہیں بھی یہ نہیں ملے گا کہ یہ خاندان بتوں کی پوجا کرتا تھا،یہی وجہ تھی کہ اسلام کے پیغام  و تبلیغ کی پہلی دعوت حضرت ابو طالبؑ کے گھر پر ہوئی ۔اگر یہ سوال کیا جاۓ کہ اسلام کی پہلی دعوت کعبہ  میں کیوں نہیں   ہوئی تو جواب آتا ہے  کہ اس وقت خانہ کعبہ میں بت تھے   مطلب حضرت ابو طالبؑ کے گھر پر بت نہیں تھے ۔

اسی طرح آپ ﷺ کے پڑداد احضرت ہاشمؑ جن کی وجہ سے نبیﷺ کے خاندان کو بنو ہاشم کہا جاتا ہے کعبہ کے متولی تھے ، سورہ قریش پڑھ لیں اور پھر تاریخ پڑھیں، حضرت ہاشم نے نہ صرف قریش کے آپسی جھگڑے نمٹا ئے، ان کے تجارتی قافلوں کو ہمسایہ قبائل اور دوسرے ممالک سے تحفظ کے معاہدے کیے یہاں تک کے قیصرِ روم سے بھی، اور تو اور  قحط کے دور میں اہل قریش کے لئے کھانے کا بندوبست بھی کیا کرتے ہر روز کئی اونٹ ذبح کئے جاتے تھے، اس کے شوربے میں روٹی بھگو کر اس کے پیالے بنا بنا کر لوگوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا جاتا تھا۔ آج اس ڈش کو سرید یا شرید کہتے ہیں ۔ اب اگر ختم درود اور لنگر کے انتظام کو بدعت کہا جائے  نہ کے خاندانِ نبوت کی سنت تو  میں اس میں کیا کر سکتا ہوں ۔

اسی طرح جب ہجرت مدینہ ہوئی تو آپﷺ نے خود انصار اور مہاجرین کو آپس میں بھائی بھائی بنایا ۔مگر جب آپ ﷺنے حضرت علی ؑ کو کسی کا بھائی نہ بنایا تو وہ غمگین ہو گئے، آپﷺ نے ان سے پوچھا ، علی کیوں غمگین ہوتو انہوں نے فرمایا کہ آپﷺ نے مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا تو اس پر آپ ﷺ نے جواب دیا اے علی تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔

تبوک کے موقع پر حضرت محمدﷺ نے فرمایا کہ اے علی تجھے مجھ سے وہ نسبت ہے جو حضرت ہارونؑ کو حضرت موسیٰ ؑ سے تھی فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، اب ہم یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ حضرت ہارونؑ اور حضرت موسیٰ بیک وقت نبی ہوئے ہیں۔یہاں نبی تو اور کوئی نہیں آنا ، غدیر میں آپﷺ اپنا نائب حضرت علی ؑ کو بنا کر اعلان کر کے گئے۔اتنی دوپہر میں اتنا بڑا قافلہ رکوا کر اونٹوں کے اوپر سے پالان اتار کر ان کا منبر بنا کر وہاں حضرت علی ؑ کا ہاتھ ہاتھوں میں لے کر ان کی ولایت کا اعلان کیا۔تب ہی تو حضرت عمرؓ ، حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عثمان ؓ اپنے فیصلوں کی توثیق حضرت علیؑ سے کرواتے تھے اور پیچیدہ معاملات میں ان کی رائے کو مقدم مانتے تھے ۔مگر جیسے حضرت موسیٰ ؑ کی امت نے حضرت ہارون ؑ کے ساتھ کیا، موسیٰؑ طور گئے تو ہارون کے ہوتے ہوئے بچھڑے کو بنایا گیا اور اس کی پوجا شروع کی گئی ۔ اسی طرح حضرت علیؑ کے ہوتے ہوئے امت  میں موجود سامریوں نے ایک نہیں کئی بچھڑے بنائے، ان بچھڑوں میں آوازیں بھی بھر دیں ،اور تمام امت ان آوازوں پر جھومنے لگی۔جس میں ایک بچھڑا فرقہ واریت کا ہے۔

ویسے بھی خلافت اور ولایت میں فرق ہوتا ہے۔ خلافت دنیاوی ہوتی ہےاور ولایت  دینی، دنیاوی اورانسانیت سب کے لیئے ہوتی ہے۔ اب  طالوت کو بھی اللہ نے بنایا ، نمرود اور شداد کو بھی اللہ نے بنایا مگر طالوت احکام الہیٰ کے مطابق کام کرتا رہا۔ نمرود اپنے نفس کے بہکاوے میں آگیا اب یہاں پر اللہ نے ذمہ داری انسان پر ڈالی کہ و ہ درست اور غلط میں تمیز کرے اور صحیح راستہ اختیار کرے ۔ مگر طاقت ہمیشہ یہ وطیرہ رکھتی ہے کے وہ اپنے افعال کے حق میں احکامات تلاش کرتی ہے ،تراشتی ہے اور ایسا ہی ہوا ورنہ ولایت کا مقابلہ یا موازنہ خلافت سے کسی صورت نہیں ہو سکتا۔ولایت انسانیت کی امامت کے لئے ہوتی ہے اور وہ نبی ﷺ بتا گئے تھے۔

اسی چکر میں خوامخواہ ہم نے خاندان رسالت سے اپنے آپ کو دور کر لیا ہےاور اس قدر پردے اپنی آنکھوں پر ڈال لیئے کہ ہمیں قرآن میں جو سچائیاں بتائی گئی وہ نظر نہیں آئیں ۔ سورة آل عمران کی آیت 61 آیتِ مباحلہ یہ کس کو نہیں معلوم کہ یہ آیت کیا ہے۔مگر ہم یہ ماننے کو تیار نہیں، اس آیت میں کہا گیا ہے کہ تم ” یعنی عیسائی” اپنی خواتین لاؤہم اپنی خواتین لائیں گے تم اپنے بیٹے لاؤہم اپنے بیٹے لاتے ہیں تم اپنے نفس لاؤہم اپنے نفس لاتے ہیں ۔ جب عیسائی وفد آچکا تو آپ ﷺ تشریف لا رہے تھے اور آپﷺ کے ساتھ خواتین کی جگہ خاتون جنت حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہ آئیں ۔ بیٹوں کی جگہ حضرت امام حسنؑ اور حضرت امام حسین ؑاور اپنے نفس یعنی اپنی جان کی جگہ حضرت علی ؑ آۓ  پھر جب حضرت محمدﷺ نے کہا کہ چلو اب دعا کرتے ہیں کہ جو جھوٹا ہو اللہ کی اس پر لعنت ہو ۔ جب عیسائیوں نے ان پانچ چہروں کو دیکھا تو مباحلے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ اگر یہ چہرے دعا کریں گے تو قیامت کے دن تک روئے زمین پر کوئی عیسائی نہیں بچے گا۔ ہم مانتے ہیں کہ قرآن قیامت تک کے لئے ہے تو اس آیت کا وجود بھی قیامت تک ہے اور یہ پانچ انوار قیامت تک کے لئے سچے ہیں اب آج کو کوئی سامری اگر یہ کہے کہ خاتون جنت سے غلطی ہوئی تو اس کا اللہ ہی حافظ ہے۔

اب سعد بن ابی وقاصؓ (عشرہ مبشرہ میں پانچویں نمبر پر) کو تو سب صحابی مانتے ہیں یا نہیں ، انہیں سےجب حضرت علی ؑ پر حکم کے باوجود “سب” ( یہ میں نے سب کا لفظ لکھا ہے ورنہ جوالفاظ لکھے ہیں ان کی اجازت میری زبان نہیں دیتی )نہ کرنے پر سوال کیا تو ان کا جواب بھی سب کو یاد ہونا چاہئے کہ انہوں نے تین باتیں کہہ کر انکار کر دیا ایک حضرت علی ؑ کے بارے تبوک والی حدیث ، دوسرا خیبر میں پرچم اس کو دینا جو اللہ اور محمدﷺ سے محبت کرتا ہے،اور اللہ اور اس کا رسولﷺ بھی اس سے محبت کرتے ہیں ،تیسرا یہ آیت مباحلہ۔

اب اس آیت کے مطابق حسن ؑ اور حسین ؑ آپ کے بیٹے ہوئے اور حسنین کریم کے حوالے سے احادیث کسے نہیں معلوم، چاہے کندھے پر بٹھانے والی ہوں ، گود میں لیناگردن کو چومنااور آنسوؤں کا جاری ہونا ہو، چاہے امِ سلمہؓ کو مٹی سے بھری ایک شیشی دینا ہو اور یہ فرمانا ہو کہ جب یہ سرخ ہوجائے تو سمجھ لینا میرا حسین مارا گیا۔ چاہے یہ ہو کہ یہ دونوں جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ اللہ کہتا ہے کہ نبی اپنے پاس سے کچھ نہیں کہتا جو کہتا ہے وہ اس سے اللہ کہلواتا ہے تو پھر حسنین کریمین کے بارے میں نبی نے کیا باتیں خود اپنے پاس سے کہہ دیں۔ عشرہ مبشرہ میں  دسویں نمبر پر حضرت سعد بن زیدؓ کے والد گرامی حضرت زید ؓکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بت پرست نہیں تھے، اگر حضرت سعد بن زیدؓ کے والد کا ہم مان سکتے ہیں تو رسولﷺ کے بزرگان اور والدین کا کیوں نہیں۔

یہ سب جو پرچار کیا گیا یہ بنیادی طور پر بنو ہاشم کی عظمت ان کی بڑائی اور ان کے رتبے کو ماند کرنے کے لیئے تھا۔ورنہ اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے چھ ماہ کے بچے کو کیوں مارتے ورنہ اپنے آپ کو رسولﷺ کا امتی کہنے والے رسول ﷺکی بیٹیوں کو کوفہ سے شام اور شام سے مدینہ بے پردہ کیوں پھراتے۔ حسین ؑ نے قیمت چکائی ہے ابراہیمؑ اور اسماعیل ؑکی اس دعا کی جس کا میں نےشروع میں ذکر کیا جس کی وجہ سے بنو ہاشم کو برتری ملی عزت ملی اور اس خاندان میں نبوت ملی، امامت ملی اتنے اعزازات کسی اور خاندان کے پاس نہیں۔

میری التجا ہے کہ خدارا ان سامری جادوگروں اور ان کے بچھڑوں کی اصلیت کو پہچان کر اس سے پیچھا چھڑائیں ۔ حسین ؑ تمہارے رسولﷺ کا نواسہ ہے ، بیٹا ہے۔ حسین ﷺ صرف شیعہ حضرات کا نہیں ہے اگر نبیﷺ سب کے ہیں تو حسین ؑ بھی سب کا ہے، اور جب حسین ؑسب کے ہیں تو علی ؑبھی سب کے ہیں ۔  ہمارے ساتھ زیادتی یہ ہوئی کہ ہمارے محقق (کوئی بھی ہو)اپنی تحقیق میں اپنے مزاج کا قیدی ہوتا ہے، اس لیے محقق کو اپنے مزاج سے باہر نکل کر آزاد ہو کر تحقیق کرنی چاہیے۔  میں تو ایک بات جانتا ہوں کہ میرا نبی جو کہتا ہے وہ اللہ کا حکم ہوتا ہے ،جنہیں نبیﷺ نے کہا یہ میرےبیٹے ہیں، یہ جنت میں جوانوں کے سردار ہیں انہیں شہید کرنے والوں کو تو میں امتی ہی نہیں مان سکتا باقی سب تو بہت دور کی بات ہے۔ ہمیں سب کے مقدسات کی عزت کرنی چاہیے، مگر مقدسات میں اور واجبات میں فرق ہوتا ہے  اس کا ادراق ہونا ضروری ہے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

گلگت بلتستان، نوید انقلاب | آفتاب احمد گورائیہ

تحریر: آفتاب احمد گورائیہ گلگت بلتستان اپنے دیو مالائی حُسن، برف پوش چوٹیوں، خوبصورت وادیوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے