جمعرات , 25 فروری 2021
ensdur
اہم خبریں

جنسی ہراسگی۔۔۔! | سعدیہ معظم

تحریر: سعدیہ معظم

میں کوئٹہ شہر کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئی ۔ابو بینک میں ملازم تھے۔اسکول کالج کی تعلیم مکمل ہوئی اور ابو نے اپنا فرض ادا کیا۔

میں رخصت ہوکر کراچی آگئی۔

کوئٹہ جہاں موسم زیادہ تر سرد رہتا ہے وہیں وہاں کے لوگ بھی ٹھنڈے مزاج کے ہیں۔

کراچی جہاں موسم سال کے بارہ مہینے گرم رہتا ہے ۔موسم کے ساتھ ساتھ یہاں کے حالات بھی گرم ہی رہتے ہیں۔

انہیں گرم حالات نے میرا گھر بھی سلگا دیا۔

دوہزار پندرہ کی درمیانی شب میرے گھر پر ایک چھاپہ مار ٹیم چھاپہ مارتی ہے ۔دھیان رہے گھر میں جوان بچی ہے لیکن اس ٹیم کے ساتھ کوئی خاتون اہکار نہیں ہے۔

اس وقت واقعہ کی شدت اتنی تھی کہ اس بات پہ زیادہ توجہ نہیں دے پائی۔

لیکن پھر یہ سلسلہ رکا نہی۔

اپنے نفس کو جگہ جگہ رونتے دیکھا۔

خواتین این جی اوز می ٹو کے ٹرینڈ چلاتی ہیں ۔بڑی بڑی اداکارائیں جنسی ہراسگی پہ کیس کرتی ہیں۔

جنسی ہراسگی کے واقعات ہونے پر بینک کے مینیجر نوکری سے نکالے جاتے ہیں۔

جنسی ہراسگی کی تعریف آخر ہے کیا۔۔۔۔!!!

کیا صرف ایک مرد کا ایک عورت کے جسم کو ہاتھ لگانا جنسی ہراسگی ہے ۔۔۔؟؟؟

یا پھر ایک با پردہ ماحول میں پرورش پانے والی عورت کے جسم کو ایک دوسری عورت کا باریکی سے ٹٹولنا جنسی ہراسگی نہیں ہے ۔۔۔؟؟؟

پولیس تھانہ واحد ایسی جگہ تھا جہاں کسی نے میرا جسمانی استحصال نہیں کیا یہ الگ بات ہے کہ لہجے خون خوار تھے ۔جیسے اصل مجرم میں ہی ہوں ۔

یہ سلسلہ تھما نہیں وہ رینجرز کا مٹھا رام ہوسٹل ہو یا ایف آئی اے کی ملاقات گاہ ،یا پھر اڈیالہ جیل ہو اور حد تو ساہیوال جیل میں آکر ہوئی۔

ہر مقام پر مجھے معظم سے ملاقات کےلئے اندر جانے سے پہلے ایک جسمانی آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے۔

ہر ملاقات پر مجھے ایسے ٹٹولا جاتا ہے ،مانو جیسے میں اسلحہ سے لیس ہونگی یا کوئی اور ہھتیار میرے پاس ہوگا۔

آپ کو حیرت نہیں ہوگی کیونکہ آپ ان حالات سے نہیں گزرے لیکن پھر بھی آپ کا شعور یہ بات سن کر سوال پوچھے گا کہ جب ملاقات کروائی جارہی ہے تو کہیں تو ایک موٹا شیشہ بیچ میں حائل ہے یا پھر آہنی دوہری جالی۔۔۔

جہاں شکل تو دور کی بات آپ آواز بھی صاف نہیں سن سکتے۔

جیسے جیسے جیل کی سیکیورٹی سخت ہوتی گئی ویسے ویسے تلاشی کا عمل بھی سخت ہوتا گیا۔

آپ جیل ملنے جائیں تو سلیقے سے بال باندھے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جب پولیس والی آپ کے بال کھکوڑ کر دیکھے گی تو سب بال الجھ جائیں گے۔

جسم پہ کوئی تعویز مت باندھئیے گا ورنہ ایک نئی کہانی بن جائے گی ۔اور آنکھیں کس کے موند لیجئیے گا جب وہ پولیس والی اوپر سے نیچے تک آپ کی تلاشی لے گی ۔۔۔۔!!!

یہ تلاشی کا عمل جیلوں میں ہر ملاقاتی کے ساتھ ہوتا ہے ۔عام جیلوں میں کچھ نرمی مل جاتی ہے کیونکہ آپ مٹھی میں کچھ پیسے منتقل کردیتے ہیں ۔اس عمل سے پولیس والیوں کا انداز گفتگو کچھ مناسب ہوجاتاہے۔

لیکن وہ جیلیں جنہیں ہائی سیکیورٹی کہا جاتاہے وہاں منظر بالکل مختلف ہے۔

میں آج تک یہ نہیں سمجھ پائی کہ یہ جیلیں ہائی سیکیورٹی وہاں قید مجروموں کی وجہ سے کہلائی جاتی ہیں ۔۔۔یا پھر جن لوگوں نے انہیں گرفتار کرکے مقدمے بنائے ہوتے ہیں انہیں کے اہلکار تعینات ہوتے ہیں اسلئیے کہلائی جاتی ہیں۔

پولیس کے اہلکار بھی وہاں اپنے حصے کی ڈیوٹی کرتے ہیں۔

خاص کر پولیس والیاں ۔۔۔جو اپنے روئیے سے کسی آفیسر کا روپ پیش کررہی ہوتی ہے۔

جیل میں ملاقات پہ جانے کے لئے سڑک پہ کھڑے ہوکر چلتے ٹریفک کے سامنے انتظار اور پھر پولیس والیوں کی “مکمل تلاشی” سے لیکر اس وقت تک ان کی جھڑکیاں سنتے رہنا جب تک ملاقات سے واپس باہر نا آجائیں۔

ہم تعلیم یافتہ ہوں ،ان پڑھ ہوں ،دیہااتی ہوں یا شہری ہوں ،لہجے کی مار سب کو کھانی ہے جبکہ ملا قاتی کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ قید میں رہنے والے شخص کو انکی ہائی سیکیورٹی میں ملنے آیا ہے ۔۔۔؟؟؟

کیا یہ روئیے جنسی ہراسگی میں نہیں آتے ۔۔۔؟؟؟

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

کیا عثمان بزدار استعفیٰ دیں گے؟ | سید مجاہد علی

تحریر: سید مجاہد علی مسلم لیگ (ن) اور مریم نواز کے شور شرابے کو سیاسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے