اتوار , 20 ستمبر 2020
ensdur

جمہوریت کی خصوصیات | رضا مری

تحریر: رضا مری (پیپلزیوتھ ضلع شھیدبینظیرآباد)

جمہوریت کو دنیا کا سب سے کامیاب سیاسی نظام سمجھا جاتا ہے، جمہوریت عام لوگوں کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ انتخابات کے ذریعے فیصلہ کریں کہ ملک کون اور کیسے چلائےگا؟ یوں عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے ایک جمہوری حکومت تشکیل پاتی ہے جمہوریت کا نظریہ کافی اور متنوع ہے ہر ملک میں اسکے حالات کے مطابق ایک منفرد جمہوری نظام ملتا ہے اور یوں مختلف ممالک میں مختلف انداز میں جمہوریت چل رہی ہے آئیے یہ دیکھتے ہیں کہ جمہوری نظام کی اہم خصوصیات کون کونسی ہیں اگرچہ اس زمن میں کئی پہلوؤں پر غور کیا جاسکتا ہے مگر ہم یہاں چھ بنیادی خصوصیات پر بات کریں گے جو یہ ہیں؛

1۔بنیادی انسانی حقوق کا احترام
2۔سیاسی رواداری پر مبنی ایک کسیر جماعتی سیاسی نظام
3۔ایک جمہوری انتخابی نظام
4۔قانون کی حکمرانی
5۔جمہوری طرز حکمرانی
6۔شہریوں کی شمولیت

آیئے اب ان تمام خصوصیات کا جائزہ لیتے ہیں۔
جمہوری نظام کی سب سے اہم خصوصیت بنیادی انسانی حقوق کا احترام ہے اکثر جمہوری ممالک کے دستور میں شہریوں کے بنیادی حقوق وضاحت کی گئی ہے اس عموما” ووٹ ڈالنے کا حق اظہار اور اجتماع کی آزادی مذہبی آزادی اور برابری کا حق شامل ہے۔
جمہوریت کی ایک دوسری خصوصیت ایک کسیر جماعتی سیاسی نظام کا ہونا ہے جہاں مختلف سیاسی آرا کے لیے رواداری کو فروغ دیا جائے ایک کسیر جماعتی نظام یا کم از کم دو جماعتی نظام کسی بھی جمہوریت کا ایک اہم جزو ہوتا ہے انتخابات میں مظبوط سیاسی جماعتوں کے حصہ لینے کی صورت میں ووٹر کو بہتر نمائندے منتخب کرنے کا موقع ملتا ہے اور یوں پارلیمنٹ متنوع سوچ اور نظریات کی ترجمانی ہوتی ہے جمہوریت میں فعال حزب اختلاف حکمران جماعت یا حکمران اتحادی جماعتوں کی کارکردگی پر گہری نظر رکھتی اور اس پر بحث کرتی ہے یوں حکومت کو اپنے احتساب کا خوف دامن گیر رہتا ہے کسیر جماعتی سیاسی نظام میں عوام اور سیاسی نمائندگان میں رواداری اور وسعت نظر کا ہونا لازمی ہے تاکہ اپنے سے مختلف نظریات و افکار کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا ہو جمہوریت میں اختلاف رائے کے دوران یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ ایسا کرتے ہوئے دوسروں کے حقوق متاثر نہ ھوں یعنی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کو قبول کرنا اور سب کے ساتھ احترام سے پیش آنا ضروری ہے جمہوریت میں کسی بھی قسم کے تنازعہ کو مکالمے اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جاتا ہے۔
جمہوریت کی تیسری خصوصیت انتخابی نظام ہے بجائے اسکے کہ فرد واحد تمام فیصلے کرتا پھرے دستور کے مطابق باقاعدگی سے انتخابات کرائے اور عوامی نمائندے منتخب کیئے جاتے ہیں تاکہ وہ قانون سازی کرے اور ملک کو چلائیں ووٹنگ کے نظام کے دوران ان خوبیوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے
اول۔ تمام بالغ شہریوں کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہو،
دوم۔ انتخابات ایک خاص مدت کے بعد باقاعدگی سے ہوں،
سوم۔ انتخابات آزاد اور منصفانہ ہوں اور یہ کہ جو سیاسی جماعت یا سیاسی اتحاد زیادہ ووٹ حاصل کرے اسی کی حکومت بنے۔
جمہوری نظام کی چوتھی اہم خصوصیت قانون کی حکمرانی ہے یہاں اس اصول کو مدنظر رکھا جاتا ہے کہ عوامی عہدےدار اپنی طاقت کا استعمال صرف تب کرسکتے ہیں اگر قانون اسکی اجازت دے وہ بے ترتیب انداز یا کسی غلط مقصد کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال نہیں کرسکتے قوانین کے نفاذ عمل شفاف منصفانہ موئثر ہونا ضروری ہے کہ تمام فیصلے قانون کے مطابق ہوں اور کوئی بھی شخص قانون سے مستثنٰی یا بالاتر نہ ہو اور یہ کہ کوئی بھی شہریوں پر اپنی طاقت کا غلط استعمال نہ کرے آزاد عدلیہ کے ذریعے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جاتا ہے صرف آزاد عدالتوں کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی کے مجرم ہونے کا فیصلہ سنائے عدلیہ اس بات کا فیصلہ بھی کرتی ہے کہ عوامی عہدےداروں کا کوئی عمل قانون کے مطابق ہے یا نہیں ایک ایسا معاشرہ جہاں قانون کی حکمرانی نہ ھو وہاں انسانی حقوق کی پاسداری کی ضمانت نہیں دی جاسکتی جمہوریت کے ثمرات سے فیض یاب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ قانون کی حکمرانی کا درست اطلاق کیا جائے۔
جمہوریت کی پانچویں اہم خصوصیت جمہوری طرز حکمرانی ہے اسکا تعلق اس بات سے ہے کہ ایک منتخب حکومت کیسے خود کو منظم رکھتی اور اقدامات اٹھاتی ہے انتخابات کے بیچ کا عرصہ متحرک جمہوریت کے لیے بہت اہم ہوتا ہے اسی طرح جمہوری ریاست میں اختیارات کی علیدگی بہت ضروری ہوتی ہے ہم ریاست کی طاقت کو تین شاخوں میں تقسیم کرسکتے ہیں ایگزیکٹو، مقننہ اور عدلیہ ان سب میں طاقت کا توازن ہونا بہت اہم ہے مقننہ کا کام قوانین بنانا اور انہیں منظور کرانا ہے ایگزیکٹو پر انتظامی امور پالیسی سازی کی ذمہ داری ہے اسی طرح آزاد عدلیہ قوانین کی تشریح کرتی اور انہیں لاگو کرتی ہے چیکس اینڈ بیلنسز کے ذریعے یہ دیکھا جاتا ہے کہ کوئی بھی اپنی طاقت کا غلط استعمال نہ کرے ایک جمہوری طرز حکومت میں شفافیت فوری عمل کرنے کی صلاحیت اور موئثر رہتے ہوئے کارکردگی دکھانا وہ عوامل ہیں جن کے ذریعے عوامی نمائندے لوگوں کو جوابدہ ہوتے ہیں ایک کامیاب جمہوری نظام کی آخری اہم خصوصیت عوام کی شمولیت ہے جمہوریت افراد کو بااختیار بناتی اور لوگوں کو سماجی اور سیاسی زندگی میں حصہ لینے اور یوں معاشرے اور ملک کی سمت متعین کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہے جمہوریت وہاں کامیاب ہوتی ہے جہاں افراد اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں یعنی جہاں لوگ سیاسی جماعتوں میں شامل ہوں اور انتخابات کے ذریعے ووٹنگ میں شریک ہوں اسکے علاوہ جہاں لوگ حکومتوں کی کارکردگی پر بھی نظر رکھیں اور اہم مسائل میں دوسرے شہریوں کو بھی متحرک کریں جہاں یہ چھ اہم خصوصیات موجود ہوں وہ معاشرے ایک مظبوط جمہوریت کے علامت ہونگے ان چھ خصوصیات کے اطلاق سے جمہوریت کے ثمرات سامنے آتے ہیں جیسا کہ انسانی وقار کا احترام آزادی برابری انصاف اچھی طرز حکمرانی امن و امان اور منتخب نمائندوں کے احتساب کا عمل جمہوریت محض انتخابات والے دن ووٹ ڈالنے کا نام نہیں جمہوری اقدار پر مبنی معاشرے کی تشکیل کے لیے ہم سب کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا،
وفاق کی علامت سجھی جانی والی پیپلزپارٹی نے اٹھارویں ترمیم پر جمہوری روایات کے امین اس وقت کے صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری کے دستخط کے بعد آئین میں شامل کیا گیا، جس سے نہ صرف آئین پاکستان اصل صورت میں بحال ہوا اور جمہوری ادارے مستحکم ہونے کے ساتھ ساتھ صوبے خودمختار ہوئے بلکہ فیڈریشن بھی مضبوط ہوئی، صحت، تعلیم اور سندھ سے نکلنے والی معدنی ذخائر پر سندھ کا حصہ، اداروں میں سندھ کے غریب ورکرز کے ملازمین کا حصہ، اور ہر صوبے کو متعدد فوائد اٹھارویں ترمیم کی بدولت ہی ممکن ہوا
مزیدبرآں، صوبہ NWFP سے خیبرپختونخوا ہوا۔ Sind میں ایچ شامل کرنے کے بعد Sindh ھوا Balochistan سے U کو نکال کر اسکی جگہ O کو شامل کیا گیا 58-2B کا خاتمہ کیا گیا تمام جمہوریت پسندوں نے کھل کر حمایت کی تھی اٹھارویں ترمیم کی اور اس کے ثمرات آج ہر صوبے کو یکجا میسر ہیں۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

عاصم باجوہ نے بلوچستان میں سازش کی، نواز شریف

پیپلز پارٹی کی میزبانی میں منعقد آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے