ہفتہ , 8 اگست 2020
ensdur

جمہوریت کی برسی اور انتہا پسندی، نسل پرستی اور فرقہ واریت کا جنم دن | افضال چوہدری ملیرا 

تحریر: افضال چوہدری ملیرا
ویسے تو ماضی کے ان تلخ حقائق کو بیان کرنے کے لیے کتابوں کے صفحات تک کم پڑ جائیں لیکن میری آج یہ حقیر سی کوشش ہے کہ میں بھٹو صاحب کی جمہوریت کی حفاظت کے لیے دی گئی قربانیوں اور ضیاء جیسے آمر کے اس ملک پر ظلم کو ایک جامع اور مختصر تحریر میں سمیٹوں جس طرح بھٹو خاندان نے جمہوریت کو پروان چڑھانے کے لئے غیر منتخب اداروں کا مقابلہ کیا تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی بھٹو خاندان کے افراد کو جیلوں میں رکھا گیا جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی گئیں اور جب یہ سب کرنے کے باوجود ہمارے ملک کے آمر ان کا حوصلہ اور جوش و جذبہ کم نہیں کر پائے تو اس خوف سے کہ کہیں مستقبل قریب میں جمہوریت آمریت پر غالب نہ آ جائے مختلف انداز و اوقات پر بھٹو خاندان کے جانشینوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا
دراصل آمریت اور جمہوریت کے درمیان یہ جنگ 1967ء میں شروع ہوئی جب بھٹو کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی وجود میں آئی لیکن مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد سیاست مرنے مارنے کی لڑائی میں تبدیل ہوگئی تاہم بھٹو کا عوام سے محبت اور احساس رشتہ قائم رہا 1970ء کے انتخابات میں بھٹو کی ناقابل یقین کامیابی اسی مضبوط رشتہ کی علامت تھی
20 دسمبر 1971ء کو ذوالفقار علی بھٹو کو ملک کا صدر بنایا گیا ملک کے آمروں کا یہ خیال تھا کہ ان مشکل ترین حالات میں ملک کو سنبھالنا ایک بہت بڑی آزمائش ہے اور بھٹو صاحب اس میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے یہ ایک ایسا وقت تھا جب ملک کو ایک بڑی جنگ میں ہمسایہ ملک سے شکست ہوئی اور وطن دولخت ہو گیا ذوالفقار علی بھٹو کو ایک طرف تو جنگ کے نقصانات کا ازالہ کرنا تھا جبکہ دوسری طرف عسکری اور اقتصادی کھنڈرات پر نئے محل تعمیر کرنا تھے لیکن ذوالفقار علی بھٹو اپنے مضبوط عزائم اور بلند و بالا حوصلے کی وجہ سے ان مشکل ترین اہداف کو پورا کرنے میں کامیاب ہو گئے
صد افسوس… کہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن پاکستان کو جولائی 1977ء کو نظر لگ گئی جب ضیاء الحق نے آئین اور جمہوریت پر حملہ کر دیا 5 جولائی 1977ء کو ضیاء نے پیپلز پارٹی کی حکومت پر انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا کر حکومت ختم کر دی اور ملک میں مارشل لاء لگا دیا گیا مارشل لاء کے دوران ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قتل کا مقدمہ چلایا گیا ہائی کورٹ نے ان کو سزائے موت سنائی اور سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کر دی۔
بھٹو صاحب کو بچانے کے لیے ہزاروں افراد نے جیلیں بھگتیں اور کوڑے کھائے لیکن نہتی عوام فوج کا مقابلہ کیسے کر سکتی تھی اس کمزور طبقہ نے بھٹو ازم کو اپنا عقیدہ بنا لیا اور یہی وہ عقیدہ جو آج بھی زندہ ہے بھٹو صاحب کے اس بات کا یقین تھا کہ ضیاء انہیں زندہ نہیں چھوڑے گا جب بھی بیگم نصرت بھٹو اور بینظیر ان سے ملاقات کے لیے جاتیں تو وہ بینظیر کو اپنے قریب بٹھاتے اور ایک دوسرے کے کان میں سرگوشیاں کرتے رہتے یقیناً اسی دوران بھٹو نے اپنی بیٹی کو زندگی اور سیاست کے راز بتائے ہونگے اور اپنی بیٹی کو یہ بھی بتایا ہو گا کہ کونسے لوگ قابل اعتبار ہیں اور کون دھوکے باز بالآخر 4 اپریل 1979ء کو ضیاءالحق کی منظور نظر عدلیہ کے فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی
یوں 5 جولائی 1977ء کو جمہوریت اور 4 اپریل 1979ء کو جمہوریت کے محافظ کا گلا گھونٹ دیا گیا یہ ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا کیونکہ اسی دن ملک میں انتہا پسندی، دہشت گردی، فرقہ واریت اور نسل پرستی کے بیج بوئے گئے اور میڈیا اور عدلیہ کی آزادی کو سلب کر لیا گیا۔
آمر ضیاءالحق کے آتے ہی آئین معطل کر دیا گیا جمہوری ادارے توڑ دیے گئے اور سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی پی سی او کے تحت ججوں سے نیا حلف لیکر عدلیہ کی آزادی سلب کر لی گئی عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مذہبی کارڈ استعمال کیا گیا فوجی عدالتوں کے ذریعے سیاسی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو مختلف سزائیں دی گئیں ضیاء الحق نے  90 دن میں انتخابات کرانے کا وعدہ کیا تھا لیکن طویل عرصہ تک انتخابات کو التوا میں ڈالا گیا اور بالآخر 1985ء میں غیر جماعتی بنیاد پر انتخابات ہوئے اور ملک کے باشندوں سے قومیت کا تصور چھین کر برادری کا تصور ان کے ہاتھوں میں تھما دیا گیا علاقائی گروہوں کو سیاسی قوتوں پر غالب کرنے کے لیے ان کی مکمل حمایت کی گئی کیونکہ ضیاء الحق جانتے تھے کہ سیاسی قوتوں کی مضبوطی جمہوریت کی مضبوطی ہے اور اگر جمہوریت مضبوط ہو جاتی تو ان کا اقتدار خطرے میں پڑ سکتا تھا لیکن جو سب سے بڑا ظلم ضیاء نے اس ملک پر کیا وہ دوسروں کی جنگ میں حصہ لینا تھا ڈالر سے ہمیشہ ہمارا محبت کا رشتہ رہا ہے اور اس کی خاطر ہم کچھ بھی کر گزرتے ہیں چاہے پھر اس کے نتائج کتنے ہی بھیانک کیوں نہ ہوں امریکہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے افغان جہاد میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے ضیاء اس تباہی و بربادی کو نہیں بهانپ پائے جو ہمیشہ کے لیے ملک کا مقدر بن گئی سفاک جنگجو تیار کرنے کے لیے تعلیمی نصاب مرتب کرتے وقت محمد بن قاسم کی شکل میں ایک کو جنگجو شامل کر لیا گیا اور تاریخ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اسے پہلا پاکستانی قرار دے دیا گیا اور پاکستانی قوم آمر کے اس گناہ کا خمیازہ انتہا پسندی، غربت اور جہالت کی صورت میں آج تک بھگت رہی ہے.

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

بارش سے کےالیکٹرک کے 350 سے زائد فیڈر ٹرپ کرگئے

کراچی میں آج ہونے والی بارش سے کےالیکٹرک کے 350 سےزائد فیڈر ٹرپ کرگئے، فیڈر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے