اتوار , 1 نومبر 2020
ensdur

جلسہ تو ہوگا | عمار مسعود

تحریر: عمار مسعود

کسی بھی دن میں ناقابل فراموش ہونے کی اہلیت ہوتی ہے۔ ہر دن عام سے طریقے سے شروع ہوتا ہے۔ صبح ہوتی ہے لوگ بیدار ہوتے ہیں، کام کاج پر نکلتے ہیں لیکن شام ہونے تک کیا ہوتا ہے کسی کو نہیں معلوم۔ بعض دن ایسے ہی عام سے ہوتے ہیں مگر رات ڈھلنے سے پہلے ناقابل فراموش ہو جاتے ہیں۔ ایسے دنوں میں وہ ہو جاتا ہے جس کی توقع نہیں ہوتی۔ جس کے بارے میں سوچا نہیں ہوتا۔ جس کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ لیکن بعض دن ایسے ہوتے ہیں جب دل امید سے بھرا ہوتا ہے، نئی سی ترنگ ہوتی ہے، عجب سی امنگ ہوتی ہے۔ دن کے آغاز سے ہی کچھ ہونے کی توقع ہوتی ہے لیکن پھر کچھ نیا نہیں ہوتا۔ ایک تکان بھرا دن ختم ہو جاتا ہے۔ بے مقصد اور بے سبب۔ 

آج 16 اکتوبر ہے۔ مشترکہ اپوزیشن کا پہلا جلسہ ہے۔ طاقت کے اظہار کے لیے گوجرانوالہ کا مقام چنا گیا ہے۔ مریم نواز بھی اس جلسے کے بارے میں بہت پرامید ہیں۔ مولانا فضل الرحمان بھی زاد راہ سنبھال کے چل پڑے ہیں۔ دیگر سیاسی رہنما بھی جارحانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ نواز شریف کا بھی ویڈیو لنک پر خطاب متوقع ہے۔ گوجرانوالہ کے پہلوانوں کی ولولہ انگیز ویڈیو بھی سامنے آ چکی ہے۔ فرزند گوجرانوالہ خرم دستگیر خان بھی متحرک ہو چکے ہیں۔ لاہور سے گوجرانوالہ تک بینرز لگ چکے ہیں۔ جلسہ گاہ تیار ہو چکی ہے۔ میڈیا پر بندش کی صورت میں یو ٹیوب لنک والے تیاریاں پکڑ چکے ہیں۔ فیس بک اور ٹوئٹر لائیو والے اپنے نیٹ ورک کے انتظامات کر چکے ہیں۔ سٹیج سج چکا ہے۔ ساؤنڈ سسٹم کا انتظام ہو چکا ہے۔ اب بس پنڈال کے بھرنے کا انتطار ہے، لیڈروں کے خطاب کا انتظار ہے۔  

ایک طرف لوگ مدت سے خاموش اپوزیشن کو سننے کے شائق ہیں۔ دوسری طرف حکومت اس حسن انتظام میں ہر ممکن رخنے ڈال رہی ہے۔ کبھی بینرز اتارے جا رہے ہیں۔ کبھی کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ کہیں میڈیا پر قدغنیں لگ رہی ہیں۔

کبھی پورے پاکستان میں سے صرف گوجرانوالہ میں کورونا کا خوف پھیلایا جا رہا ہے۔ جاتی امرا سے گوجرانوالہ تک کنٹینرز لگائے جا رہے ہیں۔ راستے روکے جا رہے ہیں۔ کبھی قائدین کو فسادی اور متشدد لوگوں سے تشبیہہ دی جا رہی ہے۔ کبھی اپوزیشن کے اس پہلے جلسے کو ریاست سے بغاوت سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔  

قرائن بتا رہے ہیں کہ جلسہ تو ہو گا۔ اس لیے کہ لوگ اس موقع کے منتظر تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ کوئی تو طاقتور کے سامنے حق کا علم بلند کرے۔ کوئی تو ان کی آواز بنے۔ کوئی تو برسوں کے کرب کو ختم کرے۔ یہ جلسہ ان کی امیدوں کا مرکز بن گیا ہے۔ وہ بہت کچھ ہونے کی توقع کر رہے ہیں۔ انہیں لگتا ہے سب کچھ بدل جائے گا۔ غربت، افلاس اور بے روزگاری سے نجات ملے گی۔ ظلم، استبداد سے جان چھٹے گی۔ خوف اور ہراس کی فضا ختم ہو جائے گی۔ ایک جلسے سے دنیا بدل جائے گی۔ 

جلسے سے پہلے ماحول کی طرف طائرانہ نگاہ ڈالیں تو پہلے ہی بہت کچھ بدل چکا ہے۔ بہت سے چہرے بے نقاب ہوچکے ہیں۔ بہت سی ان کہی باتیں ہو چکی ہیں۔ بہت سی مقدس گائیوں کے نام سرعام ہو چکے ہیں۔ بہت سی جماعتیں عمران خان کو ہدف تسلیم کرنے سے منکر ہو چکی ہیں۔ معاملات اب آگے جا چکے ہیں۔ اب یہ جلسہ صرف حکومت کے خلاف احتجاج نہیں ہے۔ اب یہ مہنگائی اور بیڈ گورننس کے خلاف اجلاس نہیں ہے۔ اب سیاسی جماعتیں جمہوری حقوق کی بات کرنے نکلی ہیں۔

اب مقصد حکومت کو گرانا نہیں بلکہ ان کی اصلیت لوگوں کو بتانا ہے۔ ان کے ‘سیاہ کارنامے’ عوام تک پہنچانا ہے۔ الیکشن سے اب تک ماحول بدل چکا ہے۔ لوگوں کے مطالبات اور نظریات بدل چکے ہیں۔ وہ اب کچھ نامانوس سی باتیں کر رہے ہیں۔ تاریخ کے تلخ سبق دہرا رہے ہیں۔

گوجرانوالہ میں کتنے لوگ جلسہ گاہ میں جمع ہوں گے آج رات اس پر ہر ٹاک شو میں بحث ہو گی۔ کوئی ان کی تعداد ہزاروں میں بتائے گا کسی کو یہ مجمع لاکھوں میں نظر آئے گا۔ کسی کو عوام کا جم غفیر دکھائی دے گا اور کوئی خالی کرسیوں کی فوٹیج  ٹی وی سکرین پر بار بار دہرائے گا۔ لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ مجمع کافی بڑا ہو گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس سے حاصل کیا ہو گا؟ اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟

لیڈر جو بھی کہتے رہیں اصل فیصلہ عوام کو کرنا ہو گا۔

یہ جلسہ بہت اہم بھی ہو سکتا ہے اور ایک عام سی کارروائی بھی ہو سکتا ہے۔ ایک ناقابل فراموش دن بھی ہو سکتا ہے اور ایک تکان بھرا بے مقصد اور بے سبب دن بھی ہو سکتا ہے۔ تین چیزیں فیصلہ کن ہوں گی۔ مولانا فضل الرحمان کا خطاب، مریم نواز کا استقبال اور عوام کا ردعمل ۔ یہ فیصلہ کریں گی کہ آج کا دن کیسا رہا۔ اس میں جیت کسی اور کی ہوئی یا فتح کا تمغہ عوام کے سینے پر سجا؟

بشکریہ اردو نیوز

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

Slip of Toungue or Slip of mind | لاریب مشتاق

تحریر: لاریب مشتاق ہٹلر کا قول ہے کہ کسی بھی ملک کو شکست دینے کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے